اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ڈاکٹر مریم چغتائی ہماری توجہ چونکہ تعلیم کی طرف ہے تو ہم چاروں صوبوں میں تعلیم پر کئے گئے کام کو دیکھیں گے کہ کون کون سی حکومت نے تعلیم کے میدان میں کیا کیا کام سرانجام دیا ہے۔ سب سے پہلے خیبر پختونخواہ کی حکومت کی کارکردگی کو زیرِبحث لائیں گے کیونکہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے الیکشن میں اپنی پہلی ترجیحات میں تعلیم کو صفِ اول میں رکھا تھا۔ گئے وعدوں کے مطابق تعلیم کے میدان میں کچھ کرسکے ہیں یا نہیں؟ تعلیم کے لیے کل دس بل صوبائی اسمبلی سے منظور کروائے ہیں اِن بلوں کی تفصیل کچھ یوں ہے: The Khyber Pakhtunkhwa Higher Education Scholarship Endowment Fund Bill, 2014. آزاد نگرانی کے نظام کا آغاز: (Independent Monitering Unit) بائیو میٹرک حاضری کا نظام: (Biometric Attendance System BAS) بائیو میٹرک حاضری کا نظام پورے صوبے کے محکمہ تعلیم کے76 دفاتر میں لگا دیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ پورے صوبے میں 480ہائر سیکنڈری سکولوں میں بھی یہ نظام جاری کر دیا گیا ہے۔ بورڈ آف اِنٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن: (Board of Intermediate & Secondary Education) سکولوں کو سولر پینلز کی فراہمی: (Provision of Solar Panels in Schools)
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
موجودہ حکومت کو کام کرتے ہوئے یہ پانچواں سال اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور 2018ء الیکشن کا سال ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں پورے پاکستان کی ساری حکومتوں کو بھرپور کام کرنے کا موقع ملا۔ ہر جماعت اپنے اپنے منشور کے مطابق کام کرنے میں مکمل آزاد تھی۔
جب خیبر پختونخواہ حکومت کی تعلیم میں اصلاحا ت کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ خیبر پختونخواہ میں تعلیم کے میدان میں کافی کام ہوئے ہیں۔آیئے اِن کاموں پر نظر دوڑاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا خیبر پختونخواہ حکومت اپنے کیے
سب سے پہلے اِس بات کو جاننے کی کوشش کی گئی کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے اپنے پانچ سالوں میں اسمبلی میں کسی بھی قسم کی تعلیم کے لیے کتنے بلز پاس کئے تو 2017ء تک خیبر پختونخواہ حکومت نے کسی بھی قسم کی
The Khyber Pakhtunkhwa Elementary and Secondary Education Foundation (Amendment) Bill,2014
The Khyber Pakhtunkhwa Medical Teaching Institutions Reforms Bill,2015
The Khyber Pakhtunkhwa Universities(Amendment) Bill,2015
The Khyber Pakhtunkhwa Medical Teaching Institutions Reforms(Amendment) Bill,2015
The Khyber Pakhtunkhwa Universities (Amendment) Bill, 2016
The Khyber Pakhtunkhwa Higher Education Academy of Research and Training Bill, 2016
The Khyber Pakhtunkhwa Regularization of Services of Teaching Assistants as Lecturers Bill,2016
The Khyber Pakhtunkhwa Free Compulsory Primary and Secondary Education Bill, 2017
The Khyber Pakhtunkhwa Technical Education and Vocational Training Authority(Amendment) Bill,2017
ٓاِن بلوں کے اثرات اور نتائج تو وقت اور حکومتی کارکردگی پر منحصر ہیں مگر حکومتی دعووں کے مطابق اِن پانچ سالوں میں انہوں نے تعلیم میں جو اہداف حاصل کئے وہ درج ذیل ہیں۔
مفت کتابوں کی فراہمی: (Provision of Free Text Books)
طالبِعلموں کو مفت کتابیں فراہم کرنے کے لیے حکومت نے دو ارب پچاس کروڑروپے سال 2015,2016ء میں خرچ کیے۔اِس رقم سے چار کروڑ پچاس لاکھ کتابیں خرید کر اکتالیس لاکھ طالبِ علموں میں تقسیم کی گئیں۔
لڑکیوں میں تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے وظیفہ کی فراہمی: (Provision of Stipends to Girl Students)
اِس پروگرام کو ( Girls Stipend Programme) کا نام دیا گیا ہے۔اِس پروگرام کے تحت چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک کی چار لاکھ تینتالیس ہزار دو سو چار طالبِ علم بچیوں کو وظیفہ دیا گیا۔ یہ وظیفہ دینے کا مقصد معاشی طور پر کمزور بچیوں کو تعلیم کی فراہمی جاری رکھنا ہے۔
کمیونٹی بیسڈ لڑکیوں کے سکول: (Community Based Girls School)
کمیونٹی بیسڈ سکولوں کی تعداد سن2013ء میں 13651لڑکیوں کے لیے 196سکول تھی۔ سن 2016ء تک اِن سکولوں کی تعداد 196 سے بڑھ کر 1251تک پہنچ چکی ہے اور پڑھنے والی لڑکیوں کی تعداد 43220 تک پہنچ چکی ہے۔اِتنی تعداد میں لڑکیوں کے سکولوں میں داخلے ایک کامیابی سے کم نہیں۔ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (EEF) خیبر پختونخواہ کے مطابق اِس وقت کمیونٹی بیسڈ سکولوں میں ایک ارب چالیس کروڑ کی گرانٹ سے 68000طا لبِ علم زیرِ تعلیم ہیں اور اِن کو پڑھانے کے لیے اُن ہی کی کمیونٹی سے 1644خواتین اساتذہ خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔
ستوری دا پختونخواہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام: (Stoori Da Pakhtunkhwa Talent Hunt Programme)
اِس پروگرام کے تحت پورے صوبے میں سے باصلاحیت نوجوانوں کو وظائف دیے جاتے ہیں۔ پچھلے تین سال کے دوران 585 طلبہ کو چھبیس کروڑ روپے سالانہ وظائف کی مد میں ادا کیے گئے ہیں۔
آئی ٹی لیب: (IT Laboratories)
سن 2013ء تک پورے خیبر پختونخواہ میں آئی ٹی لیب کی تعداد 170 تھی۔ 2013 ء سے لیکر آج تک اب کل تعداد 670 تک پہنچ چکی ہے۔اِس کے علاوہ پورے خیبر پختونخواہ کے 14 اضلاع میں ایک سو اِنٹیر ایکٹیو وائٹ بورڈز (Interactive white boards) لگائے گئے ہیں اور اِن کو چلانے کے لیے سولر پینل سے بجلی فراہم کی گئی ہے۔
اساتذہ ترغیبی پروگرام۔ (Teachers Incentive Programme)
خیبر پختونخواہ کے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے اِس پروگرام کا آغاز تاریخ میں پہلی دفعہ 2014 میں کیا گیا۔ 2014-15ء میں 840 اچھی کارکردگی دیکھانے والے اساتذہ ، ہیڈماسٹرزاور پرنسپلز کوساڑھے پانچ کروڑ روپے کے انعامات سے نوازا گیاہے۔اِس سال سن 2015-16ء کے لیے یہ رقم بڑھا کر گیارہ کروڑ کر دی گئی ہے۔اِن اقدامات کے نتیجے میں طالبِ علموں کے امتحانی نتائج میں بہتری،داخلوں میں اضافہ،اساتذہ اور ٹیچر کی حاضری میں بہتری جیسے نتائج دیکھنے میں آئے ہیں۔
اساتذہ کی تربیت کا اقدام: (Teachers Training Initiative)
2013ء سے چھیاسٹھ ہزار نو سو پانچ اساتذہ کو تربیت کے مراحل مکمل کروائے گئے ہیں۔اساتذہ کو تربیت کے لیے آٹھ کروڑ کے فنڈز مہیا کئے گئے۔اِن اساتذہ کو تربیت کے لیے مختلف اداروں سے معاونت حاصل کی گئی۔ اِن اداروں میں Socio Engneering، Afaq Education،
Beacon House School system، Portal Education جیسے ادار ے شا مل ہیں جن سے تربیت حاصل کی گئی۔
ٓاساتذہ کی شفاف بھرتی کا نظام: (Approval for merit based Teacher Recruitment Policy)
تاریخ میں پہلی دفعہ این ٹی ایس (NTS) کے ذریعے 25000اساتذہ کی بھرتی کی گئی ہے۔اور اِس بات کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے کہ چالیس بچوں کے لیے ایک استاد کے تناسب کا خیال رکھا جائے۔ اِس تمام عمل میں انسانی مداخلت کے عمل کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
آزاد نگرانی کے نظام کا آغاز 2013ء میں پہلی دفعہ خیبر پختونخواہ میں کیا گیا۔اُس وقت سے آج تک 441غیر فعال سکولوں کو فعال بنایا گیا ہے۔اِس عمل سے 8000 اساتذہ پر تادیبی کاروائیاں عمل میں لائی گئیں ہیں۔ 300اساتذہ کو اُن کی ملازمت سے برخواست کر دیا گیا۔اور تقریباً انیس کروڑ روپے جرمانے کی مد میں وصول کیے گئے اِن جرمانوں میں سے تقریباً پندرہ کروڑ اُن اساتذہ میں تقسیم کر دیئے گئے جنہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔اِس سارے عمل سے غیر حاضری میں 8%سے 10%تک قابو پالیا گیا ہے۔
چھ کمروں کے پرائمری سکول کا قیام: (Establishment of 6-Room Primary Schools)
نئی پالیسی کے تحت چھ کمروں کے پرائمری سکولوں کا آغاز کیا گیا ہے۔اِس ضمن میں 360سکول زیرِ تعمیر ہیں۔اِن سکولوں کے بننے سے دو لاکھ بچے زیورِ تعلیم سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔
سکولوں میں فرنیچر: (Furniture In Schools)
2013ء کے بعد سے اب تک سکولوں میں فرنیچر کی مد میں اڑھائی ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ اڑھائی ارب روپے پورے صوبے کے پانچ ہزار سے زیادہ سکولوں میں لگائے گئے ہیں جن سے چارلاکھ تیس ہزار بچوں کو ٹاٹ کی بجائے کرسیاں مہیا کر دی گئی ہیں۔
پرائمری سکولوں میں کھیل کے میدان: (Play Areas In Primary Schools)
2013ء سے پہلے دس سال تک کسی بھی سکول میں ایک بھی کھیل کا میدان نہیں بنایا گیا۔ 2013ء سے لیکر آج تک 2583سکولوں میں بچوں کے کھیلنے کے میدان بنا دیئے گئے ہیں۔اور اِن کے معیار کو اتنا اچھا رکھا گیا ہے کہ کسی پرائیویٹ سکول کا گمان ہوتا ہے۔ نہ صرف پرائمری سکولوں میں کھیلوں کے میدان بنائے گئے ہیں بلکہ 141 ہائر سیکنڈری سکولوں میں بھی پانچ کروڑ تریسٹھ لاکھ آٹھ ہزار کی رقم سے کھیلوں کے میدان بنائے گئے ہیں۔
قدرتی آفات سے متاثرہ سکولوں کی بحالی: (Disaster Affected School)
2005ء کے تباہ کن زلزلے میں760 سکول متاثر ہوئے تھے اِن سکولوں کی بحالی کے لیے آٹھ ارب روپے مختص کئے گئے اور اب یہ سکول بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔
سپورٹس کے سامان کی فراہمی: (Promotion of Sports Facilities)
خیبر پختونخواہ میں پہلی دفعہ پانچ ہزار سکولوں میں پانچ کروڑ کی لاگت سے کھیلوں کا سامان مہیا کیا گیا ہے اِس طرح بچوں میں سکول کی سطح پر کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے گا۔
اقراء فروغِ تعلیم سکیم: (Iqra Farogh-e-Taleem Vouchers Scheme (IFTVS)
اِس سکیم کے تحت بچوں کو واؤچر دیئے گئے ہیں تاکہ بچے اپنے قریبی پرایؤیٹ اداروں میں داخلہ لے سکیں۔اِس سکیم کے تحت تین کروڑ چھتیس لاکھ کی رقم سے 13858طالبِ علموں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ سکیم ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن(EEF) اور پرائیویٹ سکولوں کے اشتراق سے بنائی گئی ہے۔
سکول مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم: (School Management Information System SMIS)
سکولوں کی حالت اور ضروریات کو جاننے کے لیے سکول مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔اِس پر پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے لاگت آئی ہے اور اِس کا نفاذ پورے خیبر پختونخواہ کے سکولوں میں کیا جائے گا۔
۔ طلبہ اور سکولوں کے لیے آن لائین (Online) اندراج کا آغاز
۔ امتحانات میں اساتذہ کی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے زریعے تعیناتی
۔ امتحانی مراکز کی مرکزی نگرانی کے تحت نگرانی
۔ ففتھ گریڈ کے تحت ایسسمنٹ (5th Grade Assessments) جو کہ یکساں تعلیم کی طرف پہلا قدم ہے۔
۔ MCQsکی ایسسمنٹOMRشیٹ کے زریعے(جس سے غلط مارکنگ کا خدشہ دور ہوجاتا ہے)
2013ء سے پہلے صرف 215 سکولوں میں سولر پینل کی سہولت موجود تھی۔ 2013ء سے آج تک یہ تعداد بڑھ کر 5566ہو گئی ہے اور تقریباً ایک کروڑ بچے اِس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
یہ وہ بنیادی معلومات ہیں جو ہمیں محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ سے ملی ہیں۔ اِس کے علاوہ اور بھی اقدامات ہیں جن کا احاطہ اگلے آرٹیکل میں کیا جائے گا۔ اگر ہم غیر جانبدار ہو کر سوچیں تو صرف چار سال کے عرصہ میں تعلیم کے میدان میں اتنے زیادہ اقدامات کسی معرکہ سے کم نہیں ۔ اِسی طرح کے تعلیم میں ہنگامی اقدامات کی پورے ملک میں ضرورت ہے۔
افکار و نظریات: خیبر پختونخواہ میں تعلیمی اصلاحات
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں