پارلیمنٹ پر لعنت کی رسم

 رائٹر: محبوب اسلم

ترمیم: فہیم احمد خان

 عوام کی منتخب پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنا عمران اور اسکے چپڑاسی کی غیرجمہوری سوچ کا مظہر ہے ، یہی وجہ ہے کہ لاہور کے باشعور عوام نے لعنتی کرداروں کو رد کر دیا ہے اور مال روڈ پر منافقت کا پردہ چاک کر دیا ۔ کٹھ پتلیوں کا تماشہ بری طرح ناکام ہوا جس عمل پر عمران خان پارلیمنٹ پر لعنت بھیج رہے ہیں درحقیقت وہی عمل خود اپنی پارٹی میں جاری رکھے ہوۓ ہیں۔ لہذا لعنت واپس!!!

نواز شریف کی مقبولیت سے خوفزدہ زرداری ، عمران اور قادری کا یہ احتجاج منافقت کی "معراج" کا "کمال" تھا ۔ اس طرح کے بونگے ہتھکنڈوں سے ملک کی خدمت نہیں بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہیں ، جسے محب وطن اور غیور عوام ناکام بنا دیں گے ۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر احتجاج کرنے والے سانحہ 12مئی ،بلدیہ فیکٹری آگ ،سانحہ کارساز , طاہر پلازہ اور لیاقت باغ سانحہ کے مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے کب سڑکوں پر نکلیں گے ۔اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے اس لیے وہ مظلوموں کے خون پر سیاست کررہی ہیں ۔

اس موقع پر قوام سوال کرتی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سڑکوں پر نکالنے والے سانحہ 12 مئی ،سانحہ بلدیہ ،کارساز , سانحہ لیاقت باغ اور  طاہرہ پلازہ کے مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے کب سڑکوں پر آئیں گے؟

زرداری ، عمران , قادری , شیدا اور کمال منافقین کے سردار ہیں یہ سب ملکر ملک کو پتھر کے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں ان کا اولین ایجنڈا "انگلی" کی طاقت اور "بابا رحمتے" کی برکات کے طفیل مسلم لیگ (ن) کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہچانا ہے۔

اہلیان پاکستان میرے مطابق اول تو اس دھرنے کا نہ کوئی سر ہے اور نہ پاؤں ۔ لیکن پھر بھی  لاہور میں مداریوں نے ایک مرتبہ پھر تماشہ لگادیا ہے ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے خون پر سیاست کی جارہی ہے ۔پاکستان عوامی تحریک اور ان کے سیاسی حلیف اگر واقعہ مظلوموں کو انصاف دلانا چاہتے ہیں تو عدالتوں میں جائیں اور اپنا مقدمہ ثابت کریں ۔سڑکوں پر عدالتیں لگانا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے ۔عمران خان اور آصف علی زرداری آج تک ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے گھروں پر تعزیت تک لیے نہیں گئے ۔آج انہیں اچانک ان مظلوموں سے کیوں ہمدردی ہوگئی ہے ؟ کہیں یہ سب بغض نواز شریف میں تو نہیں ہو رہا کیونکہ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے ظلم پر کیس عدالت میں ہے اور باقر نجفی کی رپورٹ باہر آچکی ہے۔عدالتیں مضبوط ہیں اور پہلے ہی ایک منتخب وزیراعظم کو باہر نکال چکی ہیں۔ یوں مہا چور زرداری ، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں تین سو سے زائد افراد کے قاتل کمال ، اور ایک نوٹنکی عالم دین کا یہ دھرنا ذی شعور پاکستانیوں کی ذہانت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

اس دھرنے میں عمران خان اور شیخ رشید نے پارلیمنٹ کا تقدس پامال کرکے آئین پاکستان کا کمبل چرانے کی کوشش کی ہے ۔ پارلیمنٹ کو گالی دینا ریاست کو گالی دینا ہے اور آئین پاکستان کی رو سے جو ریاست کو گالی دیتا ہے وہ غدار ہوتا ہے۔ گزشتہ روز جو کچھ ہوا وہ کسی طور پر بھی ایک باضمیر شخص کو گوارہ نہیں ہے۔

شیخ رشید چاہتے ہیں کہ یہاں مارشل لاء لگے اور وہ وزیر بنیں۔ عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم بننے کی لکیر ہی نہیں ہے پھر وہ کیسے وزیراعظم بن سکتا ہے۔عمران خان اور شیخ رشید جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ بقول شاہ محمو قریشی پارلیمنٹ انکی اور تمام اداروں کی ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ اور یہ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی ساتھی کی ماں پر لعنت بھیج رہے ہیں پھر سپریم کورٹ سمیت تمام ادارے اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہیں۔ دنیا میں ریاستوں نے پارلیمانی نظام سے ہی ترقی کی۔ بدقسمتی سے ہمارے کچھ لوگ پارلیمنٹ پر یقین نہیں رکھتے۔

عمران خان' شیخ رشید اور طاہر القادری اقتدار کے رسیا ہیں' چور دروازے سے اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

ایسا شخص جو پارلیمنٹ میں آکر وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور پھر اس ایوان کو گالیاں بھی دیتا ہے میرے مطابق اصل میں یہ لعنت 24 کروڑ عوام کے نمائندوں پر لعنت بھجوائی گئی ہے۔ کیونکہ وہ انکے اقتدار میں رکاوٹ ہیں

ایک بندے کے کردار کے ذریعے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی تربیت کیسے ہوتی ہے  ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا' عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ ہے یاد رکھیں

پارلیمنٹ اور جمہوریت کے خلاف باتیں کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اداروں اور انکے سربراہوں کی تذلیل عمران خان کا وطیرہ رہا ہے اب حال ہی میں سب سے مضحکہ خیز بیان عمران خان کا تھا۔ یہ جب بھی بولے کفن پھاڑ کر ہی بولے۔ اور لگتا ہے کہ شیخ رشید ان پر ڈبل محنت کر رہے ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں شیخ رشید کی ایک پرانی تصویر نظر سے گزری جس میں موصوف نواز شریف کی پپی لے رہے ہیں۔ اور آج یہی شیدا ٹلی ذاتی مفادات کی خاطر اپنے محسن کا ٹیٹوا دبانے کے چکر میں ہے۔ تو ہمارا مشورہ ہے کہ عمران خان ایسے مفاد پرست عناصر سے خبردار رہیں اور یو ٹرن ماسٹر عمران , شیخ رشید کے معاملے پر یوٹرن لینے کے بجائے اپنے پچھلے موقف پر واپس آئیں اور اعلان کریں کہ "اوئے شیدے ٹلی تمھاری اوقات کیا ہے میں تو تمھیں اپنا چپراسی بھی رکھنا پسند نہ کرو"-

لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب بہت دیر ہوگئی ہے اور یوٹرن اور بونگی ماسٹر نے پھر شیدے کے کہنے پر بونگی مار ہی دی۔ پارلیمنٹ جیسے ملکی ادارے پر لعنت بھیجنا نہ صرف بذات خود ایک نازیبا عمل ہے اور اس سے بھی بڑھ کر عمران خان پارلیمنٹ کے جس عمل پر سیخ پا ہو رہے ہیں وہ بین وہی عمل پچھلے کئی سالوں سے اپنی پارٹی میں کمال بے شرمی سے کر رہے ہیں۔

پارٹی کا جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے ڈس کوالیفائی ہونے کے بعد بھی عمران خان کیلئے قابل احترام ہے اور ابھی حال ہی میں آل پارٹی کانفرنس میں پارٹی کی قیادت کرتے رہے۔ تو اب کیا لعنت یہاں بھی برسائی جائے؟؟؟ اس کے علاوہ مورثی سیاست کے خاتمہ کا نعرہ لگانے والے نے علی ترین کو ٹکٹ دیکر کر اپنی تبدیلی کی ہوا خود نکال دی ہے بس یہی وہ حرکتیں ہیں عمران خان کی جو انھیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں!!!

اس سے بھی بڑھکر پارٹی کی ساری ٹاپ لیڈر شپ پر ایک سے بڑھ کر ایک کرپٹ آدمی عمران خان نے خود تعینات کیا ہوا ہے۔ بلوچستان میں بدنام زمانہ قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ یار محمد رند عمران خان نے پارٹی ورکرز کے سر پر لا کر بٹھایا ہوا ہے۔ سنٹرل پنجاب میں علیم خان جیسا قبضہ مافیا پارٹی ورکرز کے سروں پر عمران خان نے ہی بٹھایا ہوا ہے۔ کے پی کے میں پرویز خٹک جیسے گھاٹ گھاٹ کا پانی پینےوالےاور کرپٹ کو عمران خان نے ہی سہارا دیا ہوا ھے۔ سندھ میں وہ ڈاکٹر علوی صدر ہے جو نہ صرف انٹرا پارٹی الیکشن دھاندھلی میں ملوث رہا بلکہ پارٹی فنڈز کی چوری اسی کی ناک کے نیچے ہوتی رہی یہ بھی عمران خان کے مرہون منت ہے۔

سونے پر سہاگہ پھر ان تمام حضرات نے اپنے اپنے گرکے آگے رکھے ہوۓ ہیں۔ یوں پارٹی کی پوری تنظیم ہی چوروں اور لٹیروں پر مشتمل ہے۔ کوئی ایک بھی پارٹی لیڈر پارٹی کے ورکرز کے ووٹ کےمرہون منت نہیں ھے۔ اب بتائیں عمران خان لعنت کہاں کہاں دی جاۓ؟؟؟

دوسری طرف پیشہ ور ورکرز اب اس کرپٹ لیڈر شپ کے جوتے چمکانے کا ہی کام  رہے ہیں اور تبدیلی کی ڈگڈگی پیہم بجائی جا رہی ہے۔۔۔بقول عمران خان لعنت ہے لعنت!!!

سیاسی شعبدہ بازوں کے چور دروازے سے حکومت میں آنے کے خواب خواب ہی رہ جائیں گے ۔ اور پاکستان کے باشعور عوام ان سیاسی بازی گروں کے مکروہ چہروں سے بخوبی واقف ہے ۔2018 کے انتخابات ان شکست خوردہ عناصر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے اور ان کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی ۔کیونکہ دھرنوں کے ذریعے ملکی ترقی میں رکاوٹ بننے والوں کو عوام اب سمجھ چکے ہیں اور بہت جلد ان کا سیاسی دیوالیہ ہونے والا ہے۔

ملک کو ایٹمی قوت بنانے والی جماعت مسلم لیگ(ن) ہی پاکستان کو معاشی ٹائیگر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، مسلم لیگ (ن) ایک نظریے اور عوامی خدمت کا نام ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات کئے ہیں اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرکے ملک کو اندھیروں سے نکالا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ہے ۔سی پیک منصوبے کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنا شروع ہوجائیں گے ۔ملک سے بجلی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔

اسلئے میرے مطابق پاکستان کو بچانے کا آخری حل پارلیمنٹ ہے۔سوچ کر بات کرنی چاہیے،اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو گالیاں دینے والوں کے خلاف آواز اٹھانی جائے۔

2018ء کے عام انتخابات کا بروقت ہونا سب سیاسی پارٹیوں کے مفاد میں ہے اور اس کے بروقت انعقاد کیلئے سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے اور عوام کو موقع دینا چاہی کہ وہ ان انتخابات میں ترقی کی مخالف سیاسی پارٹیوں کو عبرتناک شکست دیں

اسوقت ملک میں معیشت کی بہتری کو تمام بین الاقوامی ادارے تسلیم کر رہے ہیں ایسے میں بروقت انتخاب اور اس کے ذریعے اہل قیادت کا انتخاب ہی ملک کیلئے سود مند اور احسن اقدام ہے-


افکار و نظریات: پارلیمنٹ پر لعنت کی رسم