کیا معذوری  کوئی جرم ہے!

تحریر صدف اجمل

ہمارا معاشرہ جہاں کے ہم باسی ہیں معذوری   کے لیئے کئی ایک سماج دشمن الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے لنگڑا ،لولا, آپاہج محتاج ،اندھا بہرا اور اس طرح کے بہت سے الفاظ جنکو سن کر نہ تو ہمارا کلیجہ پھٹتا ہے اور نہ ہی دل خون کے آنسو روتا ہے۔

 کیا معذوری  کوئی جرم ہے کہ یہاں کے بچے اور بچیاں اپنی جسمانی معذوری  کی وجہ سے معاشرے کا ناکارہ حصہ قرار  دیئے جاتے ہیں، انہیں یا تو گھروں میں جانوروں کی طرح  بند کمروں تک محدود کر دیا جاتا ہے ، یا پھر یہ سڑکوں پر لوگوں کے طعنے سہتے رہتے ہیں، ہسپتالوں کی چار دیواری تک ان کی کوئی ذاتی زندگی  نہیں ہوتی ۔

معذوری  کو ہمارے معاشرے نے جسمانی حد تک محدود کر رکھا ہے جبکہ ذہنی معذوری  سب سے بھیانک  معذوری  ہے جسکی ذد میں ہمارا سارا معاشرہ ہے، ہم کیا کہیں گے اس شخص کی ذہنی معذوری  کے بارے میں جس نے ضلع قصور کی ننھی پری زینب کو موت کے گھاٹ اتار دیا، کیا کہیں گے ہم اس شخص کی معذوری  کے بارے میں جس نے نقیب ﷲ محسود جیسے جوان کو موت کی سولی پر چڑھانے میں سیکنڈ کی دیر نہ کی ،کیا کہیں گے اس شخص کی ذہنی معذوری  کے بارے میں جو کسی نہ کسی طرح ملک پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں دن رات مگن ہے۔

 خدارا یہ پیارے لوگ جو کسی بھی جسمانی معذوری  میں مبتلا ہیں ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں انہیں دل سے قبول کیا جائے ان کی کمزوری خدا کی قدرت کی عطا کردہ ہے ان کو بھی جینے کا، کام کرنے کا بہتر سماجی اور معاشرتی زندگی گزارنے کا پورا پوراحق ہے ۔آئیں ہم مل کر ان کے حقوق کے لیے کوشاں ہو جائیں، اس سے پہلے کہ آپ اور مجھے میں سے کوئی اسی اسٹیج پر گرا پڑا ہو اور ہماری طرف ہاتھ بڑھانے والا کوئی نہ ہو۔


افکار و نظریات: کیا معذوری کوئی جرم ہے