ہمارے رول ماڈل اور ہیرو

سیاستدان اور علما و دانشور حضرات کسی بھی قوم کے رول ماڈل اور ہیرو ہوتے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ختمِ نبوّت جیسے مقدس عنوان کے تحت لوگوں کو جمع کر کے سٹیج سے ماں بہن کی گالیاں دی جاتی ہیں، امیر شریعت اور پیر طریقت  کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتے ہیں، شیخ رشید تو سیاست کے شیخ ہیں وہ بلاول کو کس نام سے یاد کرتے ہیں یہ بھی ایک المیہ ہے ، اسی طرح عمران خان نے جس طرح آزاد کشمیر کے صدر کو گالیاں دیں اور پاکستان کی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی یہ سب  بطورِ قوم ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے نئی نسل کو وراثت میں کیا دے رہے ہیں اورآج تک  کیسے  لوگوں کو اپنا رول ماڈل اور ہیرو بنا کرپیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔

بات کسی پارٹی یا شخصیت کی نہیں بلکہ ہم سب کے اجتماعی  اور سیاسی اخلاق کی ہے۔ کیابحیثیت مسلمان ہم خلق عظیم کے مصداق نبیؐ کے امتی کہلانے کے حقدار ہیں!؟

 


افکار و نظریات: ہمارے رول ماڈل اور ہیرو