زرا زرا سا مجھے یاد ہے

تحریر: صدف اجمل

 ہاں زرا زرا سا مجھے یاد ہے_ وہ شاید نومبر کی یخ بستہ رات تھی۔ہاں یقینن وہ ایک رات ہی تھی۔ٹھٹھرتی،کپکپاتی،گہرے سرد بادلوں میں گهری رات۔چاروں پہر خاموشی کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ اچانک سے موبائل اسکرین جگمگاتی ہے۔

 جیسے ہی ہزاروں امیدوں میں گھری سادہ لہو سی لڑکی موبائل کو اٹھاتی ہے۔سامنے ہی سفید لباس میں سبز شال اوڑے اپنے دوستوں کے ساتھ سجا دولا اسٹیج پر بیٹھا مسکرا رہا ہوتا ہے،جیسے دنیا کی ساری خوشی آج اسے مل گئی ہو۔

لڑ کی  کپکپاتے ہوے لہجے میں خود سے ہم کلام ہوئی نہیں یہ جھوٹ بھی تو ہوسکتا ہے ہاں ہاں یہ جھوٹ ہے۔ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے نمبر ملایا جو مسلسل ٹوں ٹوں سے اپنے مصروف ہونے کی علامت دے رہا تھا۔ہزیانی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔

 نہیں نہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ اس نے تو مجھ سے ہزاروں وعدے کیے تھے۔ ایک فلم تھی جو آنکھوں کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ میں تمہارے بنا رہ نہیں سکتا میں جلد ہی اپنے ماں باپ کو رشتہ لے کے بھجیوں گا۔میں تمہارے علاو کسی کا نہیں ہو سکتا ۔تمام جملوں کی باز گشت اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔

 سکرین پر مسلسل  نمبر ملاتی ہے  ابھی لگتا ہے نمبر ابھی لگتا ہے نمبر۔پر وہ بیوقوف سی لڑکی اتنا نہ جان سکی کےاب کبھی بھی یہ نمبر نہیں لگے گا۔وہ اپنے ہاتھوں ہی بیوقوف بنی اپنے ہاتھوں ہی اپنا مذاق اڑوایا۔

میرے رب  نے نا محرم سے تعلق کو حرام قرار دیا ہے پھر بھی وہ اپنو ں سے پیار  کے بجائے نا محرم کے پاس بھا گی- جائز رشتوں کے بجائے غیر رشتوں میں سکوں تلاش کرتی رہی ۔یہ بھول گئی کہ اصل سکوں تو جائز رشتوں میں ہے۔ وہ یہ بھول گئی کہ اللہ نے رشتے پہلے سے بنا رکھے ہیں۔

وہ یہ بھول گئی کہ نا محرم کے ساتھ اعتبار کا رشتہ بھی نہیں ہوتا۔ ہاں وہ یہ بھول گی کہ کئی کئی ایک لڑ کیاں نا محرم کے دھوکے میں عزت تک گنوا  بیٹھی ہیں،   ہاں قصور تو اپنا ہے بس زرا زرا سا مجھے یاد ہے۔


افکار و نظریات: زرا زرا سا مجھے یاد ہے