رشاد بخاری

پاکستان میں مذہب ایک ایسا حساس موضوع بن چکا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ڈر لگتا ہے۔ دوسروں کے ایمان کو اپنے بنائے پیمانوں سے ناپنے والے چونکہ دوسروں کی زندگی اور تقدیر کا فیصلہ بھی اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں اس لئے یہ ڈر بے جا نہیں کہ کیا خبر کس بات کا کیا مطلب سمجھا جائے اور بات کہنے والے کو ذہن کے کس اچھے یا برے خانے میں فٹ کر کے اس کے بارے میں حکم جاری کردیا جائے۔

دیکھا جائے تو انسان ہمیشہ سے کائنات اور اس کے مظاہر اور اس کارخانہ صبح شام میں اپنے وجود اور اس کے مقصد کے بارے میں غور کرتا آیا ہے۔ اس طلسم ہوشربا کو سمجھنے میں مذہب ایک اہم تناظر پیش کرتا ہے۔

بھلے وقتوں میں ہمارا خیال یہ تھا کہ مذہب انسان کو انسانیت سکھاتا ہے، اگرچہ اب کچھ لوگ مذہب کو انسانیت سے جدا کر کے دیکھنے لگے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں انسانیت کا ٹھیکہ اب چونکہ لبرلز نے لے لیا ہے اس لئے مذہب کا اس سے سروکار ضروری نہیں۔ اس پر مستزاد یہ تشویش بھی ہے کہ دنیا میں الحاد پھیل رہا ہے اور اس کے پیچھے بھی ہنود و یہود اور مغربی مکاروں کی سازش ہے۔

چونکہ خود فریبی ہماری دلپسند مہارت ہے ،جو صدیوں کی تپیسیا سے پیدا ہوئی ہے اس لئے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہمیں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن کیا یہ درست نہیں کہ مذہب اگر کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کی وجہ غیروں کی سازشوں سے زیادہ خود اہل مذہب کے رویے ہیں۔

حال ہی میں ہونے والے قصور، مردان، چارسدہ ، کراچی اور گذشتہ ہوچکے ان جیسے ہزاروں دیگر اندوہناک واقعات سمیت معاشرے میں وحشت و بربریت کے جو مظاہر ہمارے سامنے آرہے ہیں ،ان میں بدقسمتی سے اکثر یا تو مذہب کی صحیح یا غلط نمائندگی کرنے والے لوگ شامل ہیں یا مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے صحیح یا غلط تصورات اور نعروں سے متاثر ہونے والے لوگ نظر آتے ہیں۔

یقینا جرائم اور بھی لوگ کرتے ہیں اور ان کا کردار بھی قابل مذمت ہے لیکن جب نیکی، للٰہیت، روحانیت اور بندگی کا دعویٰ کرنے والے ان گھناؤنے جرائم میں ملوث پائے جائیں تو ان کے بارے میں نیکی اور پارسائی کا گمان رکھنے والوں کا ایمان ڈگمگا جائے تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔

بچوں سے جنسی زیادتی یا توہین مذہب کے الزامات پر قتل جیسے بڑے واقعات کو ایک طرف رکھتے ہوئے بھی دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے بہت سے ایسے قابل تشویش رویے ہیں جن کے لیے حیلہ یا جواز کہیں نا کہیں مذہبی فکر سے پیدا کیا گیا ہے۔ میں حال ہی میں اپنے علم میں آئی حیلہ اسقاط کے نام سے کچھ علاقوں میں موجود ایک رسم کا ذکر کر کے یہ سوال اٹھاوں گا کہ اگر یہ رویّے غلط ہیں تو ان سے نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے اور اگر درست ہیں تو اس کے نتیجے میں ہونے والے استحصال کو آپ کیا معنی دیں گے؟

جب ایک دوست نے اپنے علاقوں میں رائج حیلہ اسقاط کے بارے میں بتایا تو مجھے ایک بار پھر شدت سے احساس ہوا کہ لاعلمی بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص فوت ہو جائے تو تدفین کی دوسری رسموں کے ساتھ بعض علاقوں میں میت کی طرف سے اس کی بخشش کے لیے اور غالباً عذاب قبر سے نجات کے لیے صدقہ کیا جاتا ہے جسے حیلہ اسقاط کہتے ہیں۔ مولوی حضرات اصرار کرتے ہیں کہ یہ صدقہ فوری ادا کیا جائے کیونکہ جب کوئی شخص ڈوب رہا ہو اسے اسی وقت بچانا ضروری ہے، اگر وہ ڈوب گیا تو بچانے کا کیا فائدہ۔

کسی کے وارثوں کے پاس اس کے لیے پیسے نہ ہوں تو اسے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ قرض لے کر یہ ادائیگی کرے۔

عملی صورت جو مجھے معلوم ہوئی، یہ ہے کہ مثال کے طور پر دس ہزار روپے اسقاط کے لیے حاصل کر کے دس لوگ (مولوی صاحب اور یا ان کے طلبا) دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ایک شخص میت کی طرف سے یہ رقم صدقہ کر کے دوسرے کو دیتا ہے، دوسرا یہی رقم پھر صدقہ کر کے تیسرے کو دیتا ہے، تیسرا چوتھے کو اور علی ہذا القیاس دس لوگوں میں یہ رقم صدقہ ہو کر پھر پہلے کے پاس پہنچ جاتی ہے۔

اس طرح دس ہزار روپے کی کل رقم سے ایک لاکھ روپے کا صدقہ ادا کر دیا جاتا ہے اور پھر آخر میں یہ رقم دس کے دس لوگ آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ اس حیلے کے ذریعے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ میت عذاب سے بچ گئی، مرنے والے سے ورثا کی محبت اور تعلق کا اظہار ہو گیا، سماج اور برادری میں اس کی عزت بڑھ گئی اور دین کی خدمت کرنے والوں کے لیے نان نفقے کا بندوبست بھی ہو گیا۔ ساتھ ہی بیٹھے ایک دوسرے دوست نے جس کا تعلق کشمیر کے ایک گاوں سے تھا، بتایا کہ پچھلے دنوں اس کے گاؤٗں میں ایک غریب آدمی فوت ہو گیا۔

اس کی بیوہ سے حیلہ اسقاط کی رسم کا مطالبہ کیا گیا۔ اس نے عذر کیا کہ اس کے پاس جو رقم تھی وہ تجہیز و تکفین میں خرچ ہو چکی ہے۔ مولوی صاحب نے کمال ہمدردی اور مہربانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ یہ کام بہت ضروری ہے اس لیے وہ اپنی طرف سے پیسوں کا بندوبست کرکے یہ رسم ادا کر دیتے ہیں اور حساب کتاب بعد میں دیکھا جائے گا۔ غمزدہ بیوہ تو کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہ تھی، اس نے جو بھی اشارہ کیا اسے رضامندی جان کر یہ رسم پورے اہتمام کے ساتھ ادا کر دی گئی۔

بعد میں مولوی صاحب بیوہ کے پاس تشریف لائے اور رقم واپس نہ ملنے پر اس کے صحن میں بندھی اکلوتی گائے کھول کر لے گئے۔ احتجاج پر فرمایا کہ ہم نے انتہائی ضرورت کے وقت آپ کے ساتھ مہربانی اور احسان کا معاملہ کیا اور یہ گائے تو صرف اس رقم کے بدلے میں ہے جو اس سلسلے میں خرچ کی گئی۔

سوال صرف یہ ہے کہ ذاتی اور تجارتی مقاصد کے لیے مذہب کے استحصالی استعمال کی کتنی متنوع صورتیں ہیں، کیا ان کو محض بدعت اور جہالت قرار دے کر بری الذمہ ہوا جا سکتا ہے؟ مذہب کے سیاسی استعمال کی استحصالی صورتوں کی بات ابھی رہنے دیں۔


افکار و نظریات: مذہب حاضر ہو