ناکام کپتان اور کامیاب سپاہی!!!

محبوب اسلم

اگرچہ عمران خان بحیثیت کپتان  ایک ناکام کپتان ہیں لیکن بحیثیت سپاہی وہ  کامیاب  سپاہی ہیں ،انہوں نے تبدیلی کیلئے تن من دھن سب کچھ قربان کر ڈالا۔ یہ وہ حقیقت ہے  جس کا اظہار اگر آج بہی کھلے بندوں نہ کیا گیا تو پھر یہ ملک وقوم سے دہوکہ ہوگا۔

 ‎اللہ ھارون رشید جیسے بزرگ کالم نگاروں کو سلامت رکہے  جنہوں نے کپتان کپتان کا وہ راگ الاپا کہ کچھ عرصہ تک تو کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تہی۔ لیکن دکھ ہوتا ہے  جب ان جیسے بزرگوار آج بہی عمران خان کی تبدیلی کا یہ ڈھکوسلہ جاری رکہے  ہوۓ نظر آتےہیں۔

اس وقت موصوف مکمل طور پر بے نقاب ہو  چکے ہیں۔میرے مطابق  عمران خان پارٹی فنڈز کے چوروں اور پارٹی انتخابات میں دھاندلی کرنے والے مجرمان کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ روایتی کرپٹ سیاستدانوں کو پارٹی میں اعلی اختیار دینے کے مجرم بہی ہیں۔ یوں زرداری اور نواز شریف کیطرح آج عمران خان بہی ایک روایتی مافیا چیف کا روپ دھار چکے ہیں وقت آگیا ہے  کہ عمران خان کے اصل روپ کو اجاگر کیا جاۓ تاکہ اس قوم کو درپیش  الیکشن میں پھر کوئی ھارون رشید کپتان کپتان کے چکر میں بیوقوف نہ بنا جاۓ۔

ایک بڑا ظلم یہ ہے  کہ میڈیا میں عمران خان کے کچھ حلیفی اینکر صاحبان مسلسل یہ راگ الاپتے پاۓ جاتے ہیں کہ عمران خود کرپٹ نہیں ہے ۔ اگلے دن ایسے ہی ایک صاحب کو میں نے اصل مافیا چیف کی تعریف بتائی کہ جس طرح  نواز شریف کیطرح اسحاق ڈار جیسے گرگوں کو آگے رکھ کر ایک کامیاب مافیا چیف واردات کرتا ہے ۔ بالکل اسی طرح عمران خان  نے بھی ہمیشہ کرپٹ لوگوں مثلا  جہانگیر ترین، علیم خان، یارمحمد رند ،عون چوھدری، نعیم الحق اور شاہ فرمان جیسوں کی سرپرستی کی ہے ۔ یوں یہ کہنا سراسر زیادتی ہے  کہ عمران خان خود کرپٹ نہیں ہے ۔۔۔ان گرکوں کی سر پرستی ہی اصل مافیا چیف کی پہچان ہے ۔ میرے نزدیک  اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں کیا زرداری، کیا الطاف حسین، کیا نواز شریف اور کیا عمران خان؟؟؟

دوسری طرف اس ناکام کپتان کے کچھ سپاہی وہ ہیں جنہوں نے اپنی انتھک کاوشوں سے اسے اس قابل کیا کہ یہ سیاسی طور پر کسی گنتی میں آسکے۔ لیکن اس کپتان نے اپنا قد کاٹھ بڑھانے کے بعد اپنے ہی  سپاہیوں پر گولیاں چلوا دیں۔ مثلاً کون نہیں جانتا کہ کوئٹہ میں عظیم کاکڑ وہ دلیر سپاہی تھا جس نے کوئٹہ جیسی حساس اور مشکل جگہ پر پی ٹی آئی کو منظم کیا۔ لیکن پھر عمران خان نے اس دلیر سپاہی پر یار محمد رند کو لا بٹھایا۔۔۔پھر یار محمد رند کے ٹولے  نے عظیم کاکڑ جیسے نظریاتی ورکر کو زدوکوب کیا۔ اس سارے قصے میں سب سے شرمناک پہلو یہ تھا کہ عمران خان نے عظیم کاکڑ سے صاف صاف کہہ دیا کہ عظیم کاکڑ کو یار محمد رند کو بلوچستان میں پارٹی کا صدر تسلیم کرنا پڑیگا بصورت دیگر عظیم کاکڑ پارٹی چہوڑ سکتا ہے ۔ میری نگاہوں سے دیکھئے تو یہ ہے  عمران خان کا وہ بھیانک چہرہ جو تبدیلی کے نام پر سرا سر دہوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں۔ 

اسی طرح بھاولپور ضلع میں حاصل پور کے علاقے میں خان خدا یار چنڑ نے عمران خان کے تبدیلی کے نعرے پر صدق دل سے بھروسہ کرتے ہوۓ 1998 سے اپنا تن من دھن پی ٹی آئی کیلئے وقف کر دیا اور پارٹی کو اپنے علاقے میں مستحکم کیا۔۔۔

عمران خان کو اسوقت لیڈر مانا جب علاقے میں عمران خان کیلئے چار لوگ اور ایک کتا گلی میں جمع ہوتا تھا۔ خان خدا یار چنڑ وہ سپاہی ہے  جس نے اس ناکام کپتان کو کپتانی کے قابل بنایا۔ لیکن جب 2011 میں ان سب سپاہیوں کے کندھے  پر پیر رکھ کر عمران خان اپنا سیاسی قد بڑھانے کے قابل ہوا تو یہ عمران خان ہی تھا  کہ جس نے جنوبی پنجاب میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین جیسوں کو پارٹی کے خان خدا یار محمد چنڑ جیسے دلیر سپاہیوں کے سروں پر مسلط کر دیا۔ یوں تبدیلی کے اس نظریے کی بنیادوں کو ہی کھوکھلا کر دیا جو ملک میں جوان قیادت کو گراس روٹ لیول سے اوپر اٹھانے پر مبنی تھیں۔ یوں تبدیلی کے نام پر جوان قیادت کا خوب استحصال کیا گیا اور یہ سب عمران خان کے ہاتھوں ہوا۔

بالکل یہی عمل ملک فرحان بھٹہ کیساتھ تونسہ شریف کے علاقے میں دھرایا گیا۔ یہ وہ ملک فرحان بھٹہ ہے  جو ایک نوجوان ایڈوکیٹ اور ایم بی اے کی ماسٹر ڈگری کا حامل لیڈر ہے ۔ ملک فرحان بھٹہ نےاپنے علاقے میں دوسری جماعتوں کیساتھ دشمنی مول لیکر پی ٹی آئی کا پرچم بلند کیا۔

 لیکن پارٹی میں پہلے انٹرا پارٹی الیکشن میں دھاندلی کا شکار ہوا اور پھر جنرل الیکشن  میں پارٹی کے پارلیمنٹیرین بورڈ میں ہونے والی ٹکٹوں کی خریدوفروخت کا چشم دید گواہ ہے ۔ پارٹی کے اندر عمران خان کی لابی سے الجھتے الجھتے ملک فرحان بھٹہ نے ہمت نہ ہاری اور یہاں تک کہ پہلے اسلام آباد دھرنے میں جب گنتی کے چند لوگ آنسو گیس شلنگ کے وقت عمران خان کیساتھ چٹان کیطرح کھڑے ہوۓ تھے  ان میں ایک ملک فرحان بھٹہ بھی تھا۔ لیکن اسی دھرنے میں ملک فرحان بھٹہ نے اپنی آنکھوں سے پارٹی کے لیڈروں کے وہ اخلاق باختہ مناظر اور کرپشن دیکھی کہ اس پر تبدیلی کے نام پر اس دھوکہ دہی کی قلعی کھل گئی۔ یوں ملک فرحان بھٹہ جیسا دلیر اور نوجوان سپاہی بھی عمران خان کی کپتانی کی بھینٹ چڑھ گیا۔

 

پھر میری اپنی کہانی اس بات کی گواہ ہے  کہ پارٹی فنڈز کے چوروں کو عمران خان کی کھلی سر پرستی حاصل رہی سو میرے اعتراض پر عمران خان کا ہاتھ اسوقت میرے گریبان پر پڑا جب انہوں نے مجھے خود اپنے گھر مدعو کیا ہوا تھا۔ اس افسوسناک واقعے سے  عمران خان جیسے لیڈروں کے اخلاق کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کم وبیش ہر علاقے میں اس طرح کے بیشمار دلدوز واقعات موجود ہیں۔ یوں یہ ناکام کپتان اپنے پیچھے  دلیر سپاہیوں کی لاشیں چھوڑتا، ہر قدم پر نئے موقع پرستوں کو ساتھ ملاتا ،اقتدار کی کرسی کی خاطر اخلاقی حدود روندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے ۔ لیکن یہ ایک ناکام کپتان ہے  اور وہ اسلیئے کہ جس تبدیلی کے نام پر عوام نے اسکا ساتھ دیا تھا وہ تبدیلی تو یہ بہت پہلے کہیں دور دفنا چکا ہے ۔ اب یہ فقط پاور کے حصول میں سرکردہ ایک روایتی سیاستدان ہے  آج اس میں اور دوسروں میں کوئی خاص فرق باقی  نہیں ہے ۔

آج وہ دلیر سپاہی کامیاب ہیں جو اس ملک خداداد میں حقیقی تبدیلی کیلئے سرگرداں ہیں اور نئی راہیں بنا رہے  ہیں۔ سلام ہے  تبدیلی کے ان سپاہیوں پر کہ ملک کو آپ جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے  اور ان شا اللہ ہم سب مل کر اس دھرتی کو ایک نئی  روشن صبح دیکر رہینگے۔ وہ وقت قریب ہے  جب روایتی سیاستدان  اس قوم کو مزید بیوقوف نہیں بنا سکیں گے۔

 


افکار و نظریات: ناکام کپتان اور کامیاب سپاہی