بہت پیارے لوگ

تحریر: صدف اجمل

 آج بہت دل چاہا کے میں اپنے ان بہن بھایئوں کے بارے میں لکھوں جو ہمارے معاشرے کا بہتریں حصہ ہیں اور بہت منفرد اور خوبصورت جذبات اور صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ہر طرف ہر جاه  لفظ معذوری دل کھول کر ان خوبصورت لو گو ں کے لے استعمال کیا جاتا ہے۔ وه دیکھو وه معذور چلا آ رہا ہے۔ او ہو بیچارا دیکھو تو سہی بہت افسوس ہوا دیکھ کر۔ معذور ہو تو گھر میں بٹھاو اسے اماں۔آپ ہمارے ہاں کام کرو گے؟

 پر آپ کی یہ ویل چیئر؟ نہیں نہیں ایسی معذور لڑکی سے شادی تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ وه کیسے  تمہیں سنبھالے گی؟ دنیا والے کیا کہیں گے؟ آپ نے کیسے ایک معذور بیچے کو ہمارے بچوں کے ساتھ ایڈ میشن دیا؟  ہمارے بچوں پر غلط اثر پڑے گا؟ کیا معذوروں کے لے سکول ختم ہو چکے ہیں؟ اور اس طرح کی کئی ایک باتیں سننی پڑ تی ہیں۔

 پہلے تو میں یہ بات واضح کرتی چلوں کہ یہ لوگ معذور نہیں ہیں نہ ہی ان کے لئے لفظ معذوری استعمال کیا جائے،یہ لوگ ان مخصوص  صلا حیتوں کے  حامل افراد ہیں جو یقین جانئے ہم جیسے خود کو دوسروں  سے بہتر  مانے جانے  والے افراد میں بھی نہیں۔ کچھ وقت قبل ہما رے ایک جرنلسٹ بھائی نے  بہت ہی آسانی سے ویل چیئر پر موجود خاتون کے لے لفظ معذوری استعمال کیا باوجود اس بات کے کہ ان کے  لے معذوری کا لفظ استعمال کرنا  قانوناً جرئم ہے۔ اور باوجود آواز بلند کر نے   کے اخبار کی انتظامیه کی جانب سے  اس بات کی تر دید نہیں  کی گئی،   ہم اس بے حس معاشرے کا حصه  ہیں جہاں پر ایسے افراد کو دیکھ کر افسوس کا اظہار تو کیا جاتا ہے پر ان کا ہاتھ تھامنے کو کوئی آگے نہیں قدم اٹھاتا۔

 معذرت کے ساتھ بلکل قدم بڑھاے جاتے ہیں تھرڈ دسمبر کو دکھاوے کے لیے طرح طرح کی این جی اوز اور ہمارے بہت ہی محترم منسٹر حضرات  اکٹھے ہوتے ہیں، وعدے کئے جاتے ہیں ،ویل چیئر  کو  بخوبی یہ حضرات  اپنی صلاحیتوں  کو بروئے کار لاتے ہوے کیش کرتے ہیں۔ اور پھر دوبا رہ  سے اگلے دسمبر کو ملا جاتا ہے۔

 ہم مثالیں تو بہت بڑی بڑی دیتے ہیں بہت بڑی بڑی تقرریں بھی کی جاتی ہیں پر جب عمل ہی نہ ہو تو ان کا کیا حاصل۔  ہمارے یہ منفرد صلا حیتوں کے حا مل افراد ایسی جگہیں جہاں ریمپز ہوں تک رسائی رکھتے ہیں۔

ہم تو اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ یہ تعداد میں کتنے ہیں ،مردم شماری  کہ جس سے کسی بھی معاشرے کی آبادی کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اس میں ان کو کاونٹ ہی نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہم بات کرتے ہیں ان کے حقوق کی۔

 خدارا ان پر ترس نہ کھائیں بلکہ انہیں ان کا حق دیا جائے،یہ ہم سے کسی صورت کم نہیں۔ ان پر افسوس کرنے کے لئے آگے نہ بڑ ھیں بلکہ ان کا ہا تھ تھا منے کے لے آگے بڑ ھیں۔

ان کو روز گار کے بہتر مواقع فراہم کریں۔ ان کے لے ہر بلڈنگ میں ریمپ بنوائی جائے۔ خدارا خدارا  ان کے لے لفظ معذور نہ استعمال کریں۔ انہیں اپنے جیسا سمجھیں یہ ہم جیسے ہی ہیں  اور ہم   میں سے  ہی ہیں۔


افکار و نظریات: بہت پیارے لوگ