ادارتی نوٹ:۔

فتویٰ یا چور مچائے شور

پیغام پاکستان کے بعد افغانستان میں بھی علمائے کرام نے دہشت گردوں کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کیا ہے۔میڈیا کے مطابق گزشتہ روز افغانستان بھر سے آئے 100 جید علماء کی کونسل کا کابل میں اجلاس ہوا ۔ اس  اجلاس میں موجود  تمام علمائے کرام نے دہشت گردوں کو درندے اور بھیڑیے کہا اور کہا کہ  عسکریت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کااسلام سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے  دہشت گردوں کی مذمت کی اورکہاکہ دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔

لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گردوں کی تربیت ، ٹریننگ اور سرپرستی کرنے میں بھی یہی علمائے کرام  ہی پیش پیش رہے ہیں۔ اس وقت افغانستان و پاکستان سے علما کا دہشت گردوں کے خلاف بیانیہ جاری کرنا در اصل کسی نئے بین الاقوامی ایجنڈے کی ہی کڑی ہے۔

اگر علمائے کرام دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں کے سربراہوں ، سہولتکاروں اور دہشت گردوں کے استادوں کے خلاف فتوی دے کر انہیں اپنی صفوں سے باہر نکالنا چاہیےاسی طرح انہیں چاہیے کہ دہشت گردی کی ٹریننگ دینے والے مدارس کی بھی نشاندہی کر کے انہیں سیل کروائیں۔بصورت دیگر یہ فتویٰ بازی در اصل چورمچائے شور والا  سلسلہ ہی ہے۔


افکار و نظریات: فتویٰ یا چور مچائے شور