پی ٹی آئی  اور ازدواجی رشتے

 ڈاکٹر حفیظ ارحمان

ثقافتی معروضات بھی معاشرتی ترقی میں ممکنہ حد تک رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں ،ھمارا رہن سہن اور زندگی کے حوالے سے طرز فکر و سوچ ھمارے قومی ارتقا میں ایک اھم کردار ادا کرتی ھے ۔

شادی بیاہ انسانی زندگی کا ایک انتہائی اھم پہلو ھے اور یہ بلکل ویسے ھی جیسے سانس لینا یا روٹی کھانا ۔

ھمیں یہ سوچنا ھو گا کے ایک فرد کی زندگی میں اس اھم پہلو کے حوالے سے ریاست کیا کردار ادا کر سکتی اور کیونکر کرے ۔

“ریاست ھو تو ماں کے جیسی “اعتزاز احسن صاحب کی نظم کے اس مصرعے نے ریاست کے کردار کو بخوبی بیان کیا ھے ۔

اگر ریاست ماں کے جیسی ھو تو وہ اپنے بچوں کے ھر مسلے کو حل کرنا اپنا فرض سمجھتی ھے ۔ھماری معاشرتی اقدار میں شادی ایک انتہائی گھمبیر مسلہ ھے ،انسانوں سے زیادہ پیشوں کے بل بوتے پہ رشتے قائم کیے جاتے ہیں بلکے انسان کی پہچھان ھی پیشے بن گئے ہیں جو کے انسانی اقدار کی توہین کے برابر ہیں ۔

سالہا سال تک نوجوان لڑ کے اور لڑکیاں بہتر رشتے کی راہ تکتے ہیں اور اپنی جسمانی ،زہنی اُزیت کا شکار رہتے ہیں ،ایک طرف تو معاشرہ ثقافتی اور مزہبی پابندیوں کے تحت انھیں اس قدر پابندیوں اور قیود و ضوابط میں مقید کر دیتا ھے کے انکا اپسمیں میں ملنا جلنا جوئے شیر لانے کے برابر کر دیتا ھے اور دوسری جانب جب وہ مذہبن اور معاشرتی اصولوں کے تحت رشتہ ازدواج میں منسلک ھونا چاہتے ہیں تو رسوم رواج کی وہ ناروا بندیشیں عائد کی جاتی ہیں کے نہ جی پاتے ہیں اور نہ ھی مرنے دیا جاتا ھے ۔

اس سے بھی بڑا اور نار وا ظلم یہ کیا جاتا ھے کے دو اجنبیوں کو بزور ایک چھت کے تلے تمام زندگی اکھٹے گزارنے کا کہا جاتا ھے ۔آج کے اس سائنسی دور میں ھم لڑکے اور لڑکیوں کے کھلے عام میل جول کی وکالت ھر گز نہیں کر رہے بلکے اس میل جول کو ریاستی نظم و ضبط کے تحت لانے کی تجویز پیش کر رہے ہیں اور ریاست کو شادی بیاہ کے معاملات میں معاشرتی منفی رسمو رواج کے سامنے بند باندھنے کا کہہ رہے ہیں ۔

اس مو ضوع پہ پہلے بھی جہیز کی نسبت سے قوانین بنائے گئے اور ون ڈِش کا اہتمام کیا گیا لیکنُ ھم تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے مود بانہ اور دست بستہ گزارش کریں گے   کے آنے والے انتخاب میں یوتھ کے اس انتہائی اھم معاشرتی اور نفسیاتی مسلے کو مخاطب ھوتے ھوئے ایک ایسے ادارے کے قیام کا اعلان کرے کے جہاں پہ باقاعدہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنا بایو ڈیٹا جمع کرایں اور اپنی خواہشات کے مطابق اپنے لیے جیون ساتھی کا انتخاب کر سکیں ۔یہ ادارہ انکی کامیاب شادی کا ضامن بنے اور انکی زندگی کے سب سے اھم سفر  کا آغاز اسلامی روایات کے مطابق انتہائی سادگی سے انجام دینے میں انکا ساتھ دے ۔

ریاست کا یہ فرض ھے کے وہ معاشرے سے  بہراہ روی کو ختم کرنے میں پیش پیش ھو اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ھے کے معاشرے میں پنپنے والے دولت کے بل بوتے پہ ناسور کا قلع قمع کرے ۔


افکار و نظریات: پی ٹی آئی اور ازدواجی رشتے