سینٹ کے بِکتے ٹکٹ

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

سننے میں آتا ھے کے سینٹ کے ٹکٹ بکتے ہیں ،لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں بکتے ہیں ،چیف جسٹس صاحب 3 فروری کے اپنے خطاب میں فرماتے   ہیں کے عدالت عالیہ جمھوریت کی محافظ ھے لیکن آئین سب سے مقدم دستاویز ھے اور چونکے آئین کی تخلیق پارلیمان کرتی ھے ،اس حوالے سے پارلیمان سب سے مقدم ادارہ ھے اور پھر انہوں نے فرمایا بلکے سوال کیا کے کیا پارلیمان نے آج کے حالات کے مطابق آئین کو جدید بنانے کی کوشش کی ھے ۔

جب سینٹ کے ٹکٹ بکتے ھوں اور انھیں خریدنے والے اسمگلر ،رشوت خور اور ماجھے ساجھے ھوں جو آئین تو کیا اس کی الف ب پہ بھی نہ سمجھتے ھوں اور سیاسی جماعتوں کے قاعدین کی آنکھوں پہ جب حرام خوری کی پٹی چڑھی ھو تو قوم نے بھکاری نہیں بننا تو کیا بنے گی اور اس کے بیٹے دو وقت کی روٹی کے لیے سمندروں کی لہروں کی نظر  نہیں ھونگے تو کیا ھونگے اور غیر اقوام کے باتھ روموں کی صفائی نہیں کریں گے تو کیا کریں گے ۔

پاکستان کی سینٹ کو ایوان بالا کا درجہ حآصل ھے  ،پارلیمانی جمھوریت میں جمھوری نظام ،ایوان زرین اور ایوان بالا پہ مشتمل ھوتا ھے اور یہ دونوں ایوان مل کر پارلیمان کہلاتے ہیں اور پارلیمان کا کام ایک ایسی دستاویز بنانی ھو تی ھے یا کچھ ایسے اصول طہ کرنے ھو تے ہیں جس کے تحت ریاست اور حکومت اپنے نظام کو چلاتے ہیں ،ایسے قوانین بناتے ہیں جس کے تحت معا شرے اپنی زندگی گزارتے ہیں ۔

لیکن جب ان ایوانوں میں قوموں کے سوداگر اور تاجر بیٹھے ھوں اور جن کا کام ھی یہ ھو کے حرام کے پیسوں سے ان ایوانوں میں داخل ھو جایں اور پھر ایک کے دس بنایں تو ایسی قوم ایک تو کیا دس دس ایٹم بموں کی مالک ھو وہ بھکاری ھی رہتی ھے اور اس کے بیٹے اپنی جانئیں کتنی بھی مرتبہ قربان کر دیں پھر بھی کشمیر کو آزاد نہیںُ کر پاتے کیونکے چوروں ڈاکوں اور حرام خوروں کے ایوانوں میں ھوتے ھوئے یہ ممکن نہیں ۔

سینٹ کے ٹکٹ بکتے ہیں ،ھم اسے کیونکر ثابت کر سکتے ہیں ،اس کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ،اس سینٹ میں پچاسی فی صد اراکین کی تعلیم صرف یہ ھے لے وہ دولت مند ہیں اور باقی کے جو پندرہ فی صد ہیں وہ اپنی علمی استعداد اور قابلیت پہ آئے ہیں لیکن وہ دوسروں سے بھی بڑھ کر چور اور اچکے  ہیں کیونکے وہ اپنی اپنی جماعتوں کے آقاؤں کو بچانے میں لگے رہتے ہیں اور انکے آقا قوم کو لوٹنے رہتے  ہیں ۔

یہی وجہ ھے کہ جب بوٹوں والے انکی قوم فروشی کی داستانیں سنتے ہیں تو مجبور ھو جاتے ہیں کے انہیں راتوں کو  نیند سے اٹھا کر جیل کی راہ دکھائیں ،سب سے خوبصورت لطیفہ یہ ھے کے عوام کو مغربی جمھوریت کی مثالیں دیتے ہیں ،کوئی انھیں بتلائے کہ ھم بتلائیں کہ مغرب میں سینٹ کے ٹکٹ بکتے نہیں ۔

 


افکار و نظریات: سینٹ کے بِکتے ٹکٹ