سعودی عرب اوردبئی کی جنگ

تحریر : مزمل حسین

یمن سے موصول ہونے والی بعض تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جنوبی یمن کی علیحدگی پسند یمنی اتحاد انتقالی کونسل نے جنوبی یمن کے شہرعدن اور اس کے گرد و نواح کے علاقہ کو یمن کے مفرور اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ سابق صدر عبدالربہ منصور ہادی کے حامی فوجیوں سے آزاد کراتے ہوئے مکمل کنٹرول حاصل کرلیاہے۔قبل ازیں جنوبی یمن نامی اتحاد کونسل نے عدن کے 90 فیصد علاقہ کو یمن کے فراری اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر منصور ہادی کے حامی فوجیوں سے آزاد کرانے کا اعلان کیا تھا۔ جنوبی یمن نامی اتحاد کونسل نے منصور ہادی کے فوجیوں کے آخری مورچوں کو بھی محاصرے میں لے رکھا تھا اور ان پر گولہ باری کا سلسلہ جاری تھا ۔

قبل ازیں جنوبی یمن کی علیحدگی پسند یمنی اتحادنے مفرورصدر منصور ہادی کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا۔ جنوبی یمن میں علیحدگی پسند انتقالی کونسل کا کہنا ہے کہ خود ساختہ صدر منصور ہادی کی حکومت کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہونے کے علاوہ عدن میں عوامی مسائل کے حل میں بھی مکمل ناکام رہی ہے لہذا اس حکومت کے قائم رہنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا ۔

جنوبی یمن پر سعودی جنگی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہونے والی اس کشمکش کے پیچھے موجود عوامل کا جائزہ لینے کے لئے چند اہم نکات کی طرف توجہ ضروری ہے ۔ یمن پر تین سال پہلے سعودی عرب کی قیادت میںبارہ ممالک نے اس وقت جارحیت کا آغاز کیا تھا کہ جب مفرور صدرمنصور ہادی کی حکومت کو کرپشن اور ناکامی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سابق یمنی صدر اقتدار چھوڑ کر دارلحکومت صنعا سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے ۔

سعودی عرب نے استعفیٰ کو ایک زبردستی کا استعفیٰ قرار دیتے ہوئے امریکہ کی تائید سے علاقے میں اس کے اتحادی بارہ ممالک کے ساتھ یمن پر چڑھائی کردی جو ہنوز جاری ہے ۔ اس جارحیت کا مقصد یمنی معزول صدر منصورہادی کی حکومت کو دوبارہ بحال کرنا ہے ۔

اس مقصد کے لئے پرائیویٹ لشکر تشکیل دے کر انہیں جنوبی بندرگاہ عدن میں داخل کردیا گیا اور اسے عبوری دارالحکومت قراردے دیا گیا ۔ گزشتہ تین سالوں سے یمنی سرزمین پر مسلسل بمباری کے نتیجہ میں تباہی کے باوجود سعودی اتحاد یمنی دارالحکومت صنعا کے قریب تک بھی نہ پہنچ پایا۔

اس عرصہ میں منصور ہادی سعودی عرب میں ہی مقیم رہا ہے اور عدن میں اپنی کابینہ تشکیل دیکر حکومت وزیراعظم خالد بحاح کے حوالے کردی کہ جسے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل تھی ۔ اس طرح درحقیقت دو اہم ممالک نے اپنا ایک ایک نمائندہ عبوری حکومت کے اہم عہدوں پر فائز کردیا۔ایک مختصر عرصہ کے بعد ہی متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ وزیراعظم خالد بحاح کی چھٹی کرادی گئی اور اس کی جگہ عبید بن دعر نے لے لی ۔ جس کے بعد خالد بحا ح نے ابوظبی کو اپنا اگلا ٹھکانہ بنالیا ۔

اب ہم ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یمن میں سعودی اماراتی اختلافات کے اسباب اور مفادات کے اس ٹکراوکی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں جس نے ان دو اہم ترین حلیفوں کے درمیان نوبت جنگی جھڑپوں اور اپنے حمایتیوں کے زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کے لئے کھلم کھلا پشت پناہی پر مجبور کردیا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوںیمن میں زیادہ سے زیادہ علاقہ پرکنٹرول اور اپنے لئے مفادات کا حصول چاہتے ہیں لیکن اس کے باوجود چند نکات ایسے ہیں کہ جو مفادات کے ٹکڑاو میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔

سعودی عرب میں بیٹھا مفرور صدرمنصورہادی متحدہ عرب امارات کو ایک آنکھ نہیں بہاتا اور امارات نے اپنی ناپسندیدیدگی کا اظہار متعدد مرتبہ کر چکا ہے۔ مثلا منصور کے دورہ متحدہ عرب امارات کے وقت ائر پورٹ پرنہ صرف کسی قسم کا کوئی سرکاری پروٹوکول دیکھنے کو ملا بلکہ سفارتی اور مہمان نوازی کے آداب تک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف ایک سیکوریٹی آفیسر نے اس کا استقبال کیا ۔

یمن میں متحدہ عرب امارات کے مستقل ایجنڈوں اور جنگ میں مسلسل ناکامی کے سبب سعودی عرب مجبور ہوا کہ اخوان المسلمون کی ہم فکر یمنی جماعت اصلاح پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرلے جو یقینا متحدہ عرب امارات کے لئے ناقابل قبول چیز ہے ۔سعودی حمایت یافتہ مفرور صدر منصور ہادی کی جانب سے جنرل علی الاحمر کو نائب صدر اور بچی کچی فوج کا سربراہ معین کرنا جو اخوانی سوچ رکھتا ہے متحدہ عرب امارات کو ایک آنکھ نہیں بہایا ۔

متحدہ عرب امارات کی ترجیحات جنوبی یمن کی علحیدگی اور یمن میں ایک سیکولر حکومت تشکیل دینا ہے جبکہ سعودی عرب یمن کے زیادہ تر شمالی حصے میں موجود انصار اللہ کے خاتمے کی کو پہلی ترجیح قرار دیتا ہے ۔متحدہ عرب امارات کی کوشش تھی کہ شمالی یمن کے دو بڑے اتحادیوں انصار اللہ اور سابق صدر علی صالح کی پارٹی میں پھوٹ ڈال کر علی صالح کو اپنے ساتھ ملائے اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوچکا تھا کہ علی عبداللہ صالح کی ٹارگٹ کلنگ کردی گئی۔

 

اگرچہ اس کا الزام اس کی حلیف جماعت انصار اللہ پرلگایا گیاتھا لیکن حالات بتارہے ہیں کہ اس کی ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے کچھ اور ہاتھ ملوث تھے ۔ یمنی موجودہ صورتحال میں شمالی یمن میں جہاں پر یمنی جماعتوں جیسے انصار اللہ کا کنٹرول ہے باوجود مسلسل وحشیانہ بمباری کے ایک قسم کا انسجام اور وحدت کا حامل دیکھائی دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس یمن کا جنوبی حصہ بشمول عدن کے جہاں سعودی عرب اور امارات کا اثر ورسوخ ہے وہاں مسلسل اندرونی خلفشار اورباہمی قتل و غارت میں دیکھائی دیتا ہے ۔

سعودی جنگی اتحاد کی یمن پر جارحیت کے بیان شدہ اہداف میں سے معزول صدرمنصور ہادی کی حکومت بحالی اور یمن کی وحدت اور سالمیت کی حفاظت تھے لیکن اب تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان اہداف کے حصول میں انہیں مکمل ناکامی کا سامنا ہے۔ بلکہ الٹا اب تو دیکھائی دے رہا ہے کہ چڑھائی کرنے والے ممالک یمن پر زیادہ سے زیادہ قبضے اور اثر ورسوخ کو لیکر آپس میں ہی قتل عام کررہے ہیں ۔

معروف نوبل انعام یافتہ یمنی خاتون توکل کرمان کا صحیح کہنا ہے کہ یمن کے بارے میں سعودی اتحادی ممالک کا رویہ سامراجی طرز کا ہے ۔موجودہ صورتحال اس بات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ تمام تر بحران کی اصل جڑ یہ ہے کہ ہمسائیہ ممالک یمن کو للچائی نظروں سے دیکھتے آئے وہ خواہش رکھتے ہیں کہ یمن ان کی کالونی بن کر رہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اس وقت تو یمن حملہ آوروں کے لئے ایک دلدل ثابت ہوتا جارہا ہے کہ جہاں ان کی مثال نہ پائے رفتن اور نہ جائے ماندن جیسی ہوتی جارہی ہے ۔

سعودی امور کے بارے میں اہم انکشافات کرنے والی شخصیت مجتہد کا کہنا ہے کہ جس قانونی حکومت کی بحالی کے نام پر یمن پر جارحیت کی گئی تھی اب وہ خود اسی حکومت پر چڑھ دوڑ رہے ہیں ،مجتہدکے بقول شہزادہ سلمان نے جب یمن پر چڑھائی شروع کی تھی تو اس کا خیال تھا کہ وہ چند ہفتوں میں اسے نمٹا لیںگے لیکن اب تین سال بعد اسے منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور یمن کی شمالی و جنوبی تقسیم کی اماراتی پیش کش کو ماننا پڑ رہا ہے ۔

ان کے خیال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں پایا جاتا متحدہ عرب امارات چاہتا ہے کہ جنوبی یمن کو الگ کیا جائے اور اس سلسلے میں اس نے مکمل تیاری کی ہوئی ہے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یمن بحران کے حل کے لئے کی جانے والی اب تک کی کوششیں بھی مکمل ناکام دیکھائی دیتی کہ اور اب اقوام متحدہ کا خصوصی مندوب ابراہیم ولد شیخ کا بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے موجودہ مشن کوجاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتااوران کی مدت فروری میں ختم ہونے جارہی ہے ۔

 

اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یمن بحران کے بارے میں علاقائی اور بین الاقوامی عدم دلچسپی ہی اصل وجہ ہے کہ ابراہیم ولد شیخ مزید کوشش کو بے فائدہ سمجھتا ہے ۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی چار قراردادوں کے باوجود ابراہیم اس بحران کے کسی سیاسی حل کے اپنے مشن میں بری طرح ناکام رہا ۔

یمن کے ایک معروف تجزیہ کار یاسین تمیمی کا خیال ہے کہ سعودی اتحادی فوج کی مداخلت کا مقصد ختم ہوچکا ہے اور یمن کی جنگ اب ایک پراکسی وار میں بدل کر رہ گئی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیںکہ اس بحران کے لئے اقوام متحدہ کی جانب سے ابراہیم کی جگہ ایک برطانوی مندوب مارٹن گیفتھ کا تعین اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اس بحران میں برطانیہ کا کردار پہلے سے زیادہ دیکھائی دے گا ۔

یاسین تمیمی سمجھتا ہے کہ اقوام متحدہ کا نیا مندوب عالمی برادری کو یمن کے انسانی بحران کی جانب زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کرے گا کہ جو یقینایمن پر حملہ آور ممالک کے لئے ایک ناپسندیدہ بات ہوگی۔ ممکن ہے اس سے یمن میں سعودی اتحاد مخالف قوتوں کو ایک حدتک سکون کا سانس لینے کا موقع ملے ۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یمنی بحران کے لئے اب تک اقوام متحدہ کی جانب سے متعین دو مندوبوں کی کوششیں ایک ایسے حل کی تلاش میں رہی ہیں کہ جس میں یمن پر حملہ آور ممالک کے مفادات کو کوئی زک نہیں پہنچے ۔

اب جیسے جیسے نہتے یمنی شہریوں پر سعودی بمباری بڑھتی جا رہی ہے اس تازہ ترین صورتحال میں صنعا میں قائم یمنی حکومت کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی آتی جا رہی ہے اور وہ اب جارح کو آگے بڑھ کر جواب دینے کی پالیسی پر کارفرما نظر آرہے ہیں۔ سعودی طیاروں کی یمن پر بمباری کے جواب میں اب یمن کے اندر تیار کئے گئے میزائیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اندر اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے ان ممالک کے حکمرانوں اور عوام کے اندر ایک کوخوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے ۔ آج منگل کو بھی یمنی نقلابی فورسز کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ انہوں نے برکان ایچ ٹو نامی ایک میزائل سے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد ائرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے ۔

قبل ازیں بھی یمنی فورسز کی جانب سے سعودی بمباری کے جواب میں الخالد ائرپورٹ کو اور سعودی محل کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا ۔اگرچہ سعودی حکام نے یمنی جوابی وار پر اپنی خفت کو کم کرنے کے لئے اسے پٹریاٹ میزائیلوں کے ذریعے تباہ کرنے کا دعوی ٰ کیا تھا تاہم عالمی زرائع ابلاغ کے مطابق میزائل نے ائرپورٹ کے لاونج ایریا کو نشانہ بنایا تھا ۔

 

دوسری جانب عرب زرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کل انتیس جنوری کو جدہ میں سنائی دینے والے زوردار دھماکوں کی آوازیں کے بارے میں متضاد خبریں موصول ہورہی ہیں بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جدہ میں شاہی محل کو کسی طیارے نے نشانہ بنایا ہے عینی شاہدین کے مطابق دھماکے اس قدر طاقتور تھے کہ لگ رہا تھا کہ زلزلہ آیا ہے ۔دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دھماکہ بجلی کے پلانٹ میں ہوا تھا ۔ادھر سعودی سرکاری سطح پر اس قسم کے کسی دھماکے کی شدت سے نفی کی گئی ہے ۔

اس ساری صورت حال کے پیش نظر مبصرین یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ یمن پر سعودی جنگی اتحاد کی مسلط کردہ جنگ مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے، انصاراللہ اور اس کے اتحادیوں کو ختم کرنے کی تمام تر کوششیں کھوہ کھاتے میں جا چکی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس جنگ کے اتحادی باہم دست گریبان ہو چکے ہیں۔ جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ میں فتح اب سعودی جنگی اتحاد سے نہ صرف کوسوں دور جا چکی ہے بلکہ ناممکن ہو چکی ہے۔


افکار و نظریات: سعودی عرب اوردبئی کی جنگ