اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات تبدیلی کی الف ب!؟ نذر حافی تاجربہت اداس تھا، طوطا بھی پریشان ہوگیا، اس نے پنجرے میں اپنے پر پھڑ پھڑائے، پنجرے کی سلاخوں کو چونچ سے ٹھوکریں ماریں، لیکن تاجر اس کی طرف دیکھے بغیر باہر نکل گیا۔ ننھا طوطا یہ سمجھ گیا کہ اس کا مالک اس سے آنکھیں چرارہا ہے، شام کو تاجر گھر لوٹا تو پھر وہی منظر تھا، تاجر کی ا داسی اور طوطے کی پھڑ پھڑاہٹ۔ بالآخر طوطے نے مالک سے اداسی کی وجہ پوچھی، مالک نے گھبراتے ہوئے طوطے کی طرف دیکھا، ماتھے سے پسینہ صاف کیا، اور لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے کہا کہ میاں مٹھو! تمہارے لئے بہت بری خبر ہے میرے پاس۔ طوطے نے کہا وہ تو میں جان ہی چکا ہوں ، کئی دنوں سے آپ کے بدلے ہوئے تیور دیکھ رہا ہوں، اب بتا بھی دیجئے! تاجر نے کانپتے ہوئے بدن اور لرزتی ہوئی زبان سے جواب دیا کہ تمہارے نقشے کے مطابق جب میں فلاں باغ میں پہنچا تو وہاں تو عجب منظر تھا، ہرطرف چہک مہک تھی، سبزہ ہی سبزہ اور سبزے میں رنگ برنگے طوطے، میں نے اُن طوطوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اے فطرت کی رنگینیوں اور کائنات کے حُسن سے لطف اندوز ہونے والے آزاد پرندو تمہارے لئے فلاں علاقے کے فلاں تاجر کے پنجرے میں قید ایک طوطے نے سلام بھیجا ہے۔۔۔ یہ سُن کر پنجرے میں قید طوطے نے ٹھنڈی آہ لی اور مالک سے پوچھا پھر کیا ہوا!؟ مالک نے اپنے آنسو خشک کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنتے ہی سارے طوطے درختوں سے نیچے گر گئے اور ہرا بھرا باغ سنسان ہوگیا۔یہ سننا تھا کہ پرندے میں قید طوطے نے غم سے چیخیں ماریں اور پنجرے کی سلاخوں سے سر پٹخ کر وہیں مر گیا۔ تاجر کے غم اور دکھ میں مزید اضافہ ہوگیا، اس نے طوطے کو پنجرے سے نکالا اور دور پھینک دیا ، طوطے نے فوراً اڑان بھری اور درخت پر جاکر بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو کہنے لگا آزادی مبارک۔ اس حکایت سے ان گنت نتائج لئے جاتے ہیں، ان نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ کسی کو جب قیدی اور غلامی سے نجات چاہیے ہوتو اس کے سامنے ایک رول ماڈل اور نمونہ عمل موجود ہونا چاہیے جس کے عمل کے مطابق عمل کر کے غلامی سے آزادی حاصل کی جائے۔ پنجرے میں قید طوطے کے لئے باغ کے آزاد طوطوں نے ایک عملی پیغام بھیجا تھا جس پر عمل کر کے اس نے بھی آزادی حاصل کی۔ آج ہمارا ملک ، ہماری قوم ، اقتصادی، ثقافتی،سائنسی،تعلیمی اور سیاسی غلامی میں گرفتار ہے، کیا ان طرح طرح کی غلامیوں سے ہمارے یہ سیاستدان ، ہمیں نجات دلائیں گے! کیا ہمارے یہ سیاستدان ہمارے لئے رول ماڈل اور نمونہ عمل ہیں اور اِن کے نقشِ قدم پر چل کر ہم کوئی مثبت تبدیلی حاصل کریں گے!؟ کیا آنے والے انتخابات میں یہ فرسودہ پارٹیاں، یہ روایتی نعرے اور یہ غرب زدہ لیڈر ہمارے ملک میں تبدیلی لائیں گے!؟ اتنی لاشیں اٹھانے اور اتنی غربت و فقر کاٹنے کے باوجودکیا ہم نے ابھی تک دینِ اسلام کی طرف لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا!؟ دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق پیغمبرِ اسلام ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں اور پیغمبرِ اسلام کے اسوہ حسنہ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو آزادی و خودمختاری کے ساتھ جینا ،دنیا کے ہرانسان کا بنیادی اور فطری حق ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ تبدیلی کہتے کسے ہیں؟ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کلین شیو کی جگہ داڑھی والا اقتدار میں آجائے، پینٹ شرٹ کی جگہ شلوار قمیض والا اسمبلی میں پہنچ جائے،انگلش کی جگہ اردو بولنے والا الیکشن میں جیت جائے، سرخ رنگ کے پرچموں کی جگہ سبز رنگ والے پرچم چھا جائیں تو یہ سب ہماری سادگی اور کم فکری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تبدیلی کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں، یہ سب کچھ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ ایک کمرے میں کبھی سرخ رنگ کریں، کبھی سفید کریں، کبھی سیاہ کریں اور کبھی نیلا کریں لیکن اس سے کمرہ کشادہ ، کھلا اور آپ کی ضرورت کے مطابق وسیع نہیں ہو جائے گا۔ کمرے کے رنگ بدلنے سے کمرے کی گولائی، چوڑائی اور لمبائی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔آج ہماری سیاسی پارٹیاں حقیقی معنوں میں دیانت، شرافت، صداقت اور عدالت کھو چکی ہیں، ہر طرف لوگوں کے جذبات سے کھیلنے،بے اصولی اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کا چلن ہے۔ ایک طرف جماعتوں کے سربراہ مشال خان کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف جماعتوں کے سرکردہ لوگ اور کارکنان قاتلوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں، ایک طرف تعلیمی اداروں میں اسلامی کلچر کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور دوسری طرف نعرے لگانے والوں کے ہاسٹلوں کے کمروں سے دہشت گرد برآمد ہوتے ہیں، ایک طرف تبدیلی اور غیر موروثی سیاست کی باتیں کی جاتی ہیں تو دوسری طرف ایک دوسرے کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی جاتی ہے ۔ بحیثیتِ قوم یہ لوگ ہمارے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں۔ اگر ہم اس ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہمیں بلاتفریق تعصب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اسلامی تعلیمات میں تبدیلی کے تین بنیادی عناصر ہیں: ۱۔ تمام بیت المال، زمینی، معدنی اور آبی ذخائر کو اللہ کی امانت سمجھا جائے ۲۔ تمام انسانوں کو بلا تفریق اللہ کے بندے اور غلام سمجھا جائے ۳۔ تمام ادیان و مسالک کو دینِ اسلام کے مطابق ہر طرح کی دینی و مذہبی آزادی دی جائے اور کسی کی دل آزاری نہ کی جائے جب ہمارا سیاسی و مذہبی طبقہ تمام بیت المال اور زمینی ذخائر کو اللہ کی امانت سمجھے گا تو پھر امریکہ کے مفاد کے لئے بیت المال سے پیسہ دے کر لوگوں کے بچوں کو دہشت گردی کی ٹریننگ نہیں دے گا۔ جب معدنی اور آبی زخائر کو اللہ کی ملکیت سمجھا جائے گا تو کسی صوبے کا حق نہیں مارا جائے گا، جب تمام انسانوں کو بلا تفریق اللہ کے بندے اور غلام سمجھا جائے گا تو پھر موروثی سیاست کا تصور ہی ختم ہوجائے گا اور کوئی وڈیرہ ، کوئی بدمعاش اور کوئی لٹیرا لوگوں پر زبردستی حکومت نہیں کر سکے گا ، اسی طرح جب تمام ادیان و مسالک کو دینِ اسلام کے مطابق آزادی دی جائے گی تو کوئی مذہبی پنڈت کسی کی تکفیر نہیں کرے گا اور کوئی کسی کی عبادت گاہ کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا۔ آج ہمارے ہاں بنیادی مسائل ہی یہ تین ہیں، بیت المال اور زمینی ذخائر کو اللہ کی امانت سمجھنے کے بجائے ہمارے سیاستدان امریکہ اور یورپ کی امانت سمجھتے ہیں، اور ان قومی وسائل اور ذخائر سے اسلام کے دشمنوں کی خدمت کرتے ہیں جیسا کہ ٹرمپ نے صرف سعودی عرب کے ایک دورے میں اربوں کے تحائف حاصل کئے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کا بندہ سمجھنے کے بجائے اپنے اپنے خاندان ، شخصیات، پارٹیوں اور تنظیموں کا بندہ، غلام اور نوکر سمجھا جاتا ہے اور مختلف قسم کے پروپیگنڈوں کے ذریعے لوگوں کو باقاعدہ ذہنی غلام بنایا جاتا ہے۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تمام ادیان و مسالک کو دینِ اسلام کے مطابق آزادی دینے کے بجائے اپنے فرقے یا پارٹی کو مسلط کرنے کے لئے ساری حدود پھلانگ دی جاتی ہیں ۔ جیساکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سانحہ راولپنڈی میں ایک فرقے کے لیڈروں نے ایک دوسرے فرقے کو دبانے کے لئے خود اپنے مدرسے کو آگ لگا دی اور اپنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب اس طرح کے مذہبی اور سیاسی لیڈر ہم پر حاکم ہیں تو اس وقت اس قوم کے سمجھدار اور باشعور لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو بیدار اور خبردار کریں۔ جوخوددوسروں کولوٹ کر کھاتے ہیں، جن کی زبان پر گالیاں ہیں ، جن کے دامن پتھروں سے بھرے ہوئے ہیں، جن کے دماغوں میں سازشیں اور فتنے ہیں،جن کی سوچوں میں تعصب ہے، جو فرقے اور صوبے کے نام پر بھائی کو بھائی سے لڑوا کر اور ایک دوسرے کو گالیاں دے کر نیز عوامی جذبات کو بھڑکا کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ، اُن سے کسی تبدیلی کی امید رکھنا حماقت ہے۔ ہمیں ابھی سے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ا ٓنے والے انتخابات میں یہ فرسودہ پارٹیاں، یہ روایتی نعرے اور یہ غرب زدہ سیاسی و مذہبی لیڈر ہمارے ملک میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے، ہم سب کو ان سب کا متبادل سوچنا ہوگا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں