سیاسی جماعتیں ۔۔۔۔۔۔۔گروپ بندی

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

معاشروں کی اکائی خاندان ہوا کرتا ہے اور خاندان پھر بڑھ کر یا پھیل کر قبیلہ بنتا ھے اور جب قبیلہ بڑھ جاتا ھے تو تقسیم در تقسیم ھو کر دیگر قبیلوں کو جنم دیتا ھے تا وقت کے ایک ایسا قبیلہ وجود میں آتا ھے جو بزور طاقت یا باہمی افہام تفہیم سے اور قبیلوں کو ملا کر مملکت کا وجود تخلیق کرتا ھے اور بادشاہت کا جنم لینا ھوتا ھے ،بادشاہ کی طاقت مختلف قبائل پہ منحصر ھوا کرتی ھے ،جو اس کی فوج کو افرادی قوت مہیا کرتی ھے اور بدلے میں ان قبائل کو اقتصادی زرائع مہیا کیے جاتے ہیں لیکن بادشاہ کی فوج میں اس کا اپنا قبیلہ اور اس کے افراد ھمیشہ کلیدی حثیت رکھتے ہیں ۔

اس سارے مندجہ بالا نظام کو یا طرز زندگی کو قبائلی ثقافت کہتے ہیں اور یہ اس ثقافت نے دنیا پہ ھزاروں سالوں سے حکومت کی ھے تا وقت جدید دنیا میں ایسے نظاموں نے جنم لیا جو قبائل نظام حکومت کے ردعمل کے تحت  وجود میں آیا ۔

اس ردعمل کا مطمہ نظر  یہ تھا اور ھے کے معاشروں کا محور طاقت کو نہیں ھونا چایے بلکے انسانی حقوق کو ھونا چائے جبکے قبائلی نظام حکومت یا طرز معاشرت طاقت کے بل بوتے پہ پنپتی ھے ۔

بادشاہ یا سردار جو ایک گُروہ یا بہت سے گروہوں کا نمائندہ ھوتا ھے ،اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پہ حکومت کرتا ھے اور اپنے زاتی ،خاندانی یا قبیلے کے مفادات کو مقدم سمجتھا ھے ،اس نظام حکومت میں ریاست کے تمام ادارے بادشاہ کے ما تحت ھوتے ہیں اور بادشاہ کسی آئین یا منشور کے تابع نہیں ھوتا اور اس کی خواہش یا حکم ھی قانون ھوا کرتا ھے ۔

بادشاہی نظام حکومت میں انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ھوتی اور ریاست چونکے بادشاہ کے تابع ھوتی ھے ،اس لیے ریاستی ادارے بھی بے دست وپا ھوتے ہیں اور کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق کی پاسداری کرنے میں ناکام ھوتے ہیں جن میں سرے فہرست انصاف ھے اور انصاف کیا ھے ،حق دار کو اس کا حق دلوانا ۔

 

بادشاہی یا قبائلی نظام حکومت کے خلاف سب سے پہلے جدید دنیا میں اسلام نے آواز اٹھائی اور ریاست کو ایک دستاویز کے تابع کیا جسے قرآن کہتے ہیں اور حکمرانی کا حق طاقت کی بجائے تقوی کو ٹھرایا ۔

اسلام نے ریاست اور حکمران کے لیے انتہائی اعلی میعار مقرر کیے اور نہ صرف میعار کا تعین کیا بلکے عملی شکل میں کر دکھایا ۔

جوں جوں دنیا وسیع ھوتی گئی توں توں کچھ ایسے زرائع نے بھی جنم لینا شروع کیا ،جس سے اعلا ریاستی  ڈھانچوں اور حکمرانوں کے چناؤ کو ممکن بنایا جا سکے ،ان زرائع میں رائج الوقت زریعہ جمھوریت ھے گویا کے با الفاظ دیگر جمھوریت وہ راستہ ھے جس سے اسلام کے پیش کیے گے فلاحی ریاستی ڈھانچے اور حکمران کے اعلا اخلاقی میعار پہ مبنی کردار کی بنیاد پہ اس کا چناؤ ھو سکے ،چونکے مغرب اسلام کے فلاحی ریاستی ڈھانچے اور با کردار حکمران کے فلسفے سے نا بلد تھا ،اسی لیے انھوں نے جمھوری راستے کو ھی منزل قرار دے دیا ،ھم مسلمانوں کے لیے اسلامی فلاحی ریاست منزل ھے اور اس منزل کا راستہ جمھوریت ھے ،یہ بلکل ایسا ھی ھے کے بہت سے تقوی گذار حکمرانی کے دعوے داروں میں آخر کار حتمی چناؤ ایک بڑے آبادی والے ملک میں ووٹ کے زریعے ھی ممکن ھو گا ۔

سیاسی جماعتوں میں بھی قبائل طرز حاکمیت ھے اور تا حال اسلامی اخلاقیات اور  جمھوری  قدروں سے نہ بلد ھونے کی بنا پہ طاقت کا سر چشمہ گروہ بندی ھے ،جو جس قدر طاقت ور اور بڑے گروہ کا حصہ بنے گا ،اسی قدر اپنے اپ کو محفوظ اور پارٹی سربراہ کے قریب پائے گا ۔

اگر تو سیاسی جماعتوں میں پارٹی سربراہی کا میعار تحصیل سے  لے کر مرکز تک   تقوی کی بنیاد پہ    اور اس کا چناؤ جمھوری عمل کے زریعے کیا جائے تو سیاسی جماعتوں میں گروہ نبندیاں کبھی بھی جنم نہ لینے پایں ۔

گروپ دراصل طاقت ور شخصیت کے گرد تشکیل پاتا ھے اور یہ سرا سر بت پرستی کے زمرے میں آتا ھے ،ایک سچے سیاسی مسلمان ورکر سے روز حشر یہ ضرور پوچھا جاۓ گا کے اس نے انصاف پہ مبنی نظریے کے لیے جدوجہد کی یا اپنے زاتی مفادات کے لیے کسی شخصیت کو طاقت ور بنانے میں کوشش کی اور انصاف کیا ھے ،کے معاشرے کے ھر فرد کو ریاست کے ھر زریعے تک رسائی حاصل ھو ۔

حضرت ابو بکر رض کے مشہور الفاظ ،“وہ جو صرف محمد ص کو مانتے تھے تو جان لیں کے محمد ص نہیں رہے  لیکن وہ جو اللہ اور اس کی کتاب کو بھی مانتے ہیں تو وہ ھمیشہ کے لیے ھے “

نظریے اور شخصیت پرستی کے فرق کو اس سےزیادہ  خوبصورت  عملی الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔


افکار و نظریات: سیاسی گروپ بندیاں