قوم یا طوائف

فرحان منہاج

طوائف کے پاس شاہانہ گھر ہوتا ہے.  باہر بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی ہوتیں ہیں دستر خواں پر طرح طرح کے لوازمات بھی ہوتے ہیں .

اور یہ سب اس طوائف کو عزت شرم اور حیا کا سودا.کرنے کے بعد ملتا ہے.

دین و دنیا برباد کر کے طوائف چند آسائشیں خریدتی ہے. 

جبکہ اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے کہ

ایک گاہک پیسے دیکر یا کہہ لیں چند آسائشیں دیکر اسکی عزت و حیاء کا مالک بن جاتا ہے ـ اور وہ اسکو رسوا کرنے کا پورا حق رکھتا ہے اسکے جسم سے کھیلنا اسکی عزت کا تماشہ بنانا وہ اپنا حق سمجھتا ہے.

اس پورے کھیل کا اہم پہلو کہ طوائف اپنے گاہگ کا خود انتخاب کرتی ہے.

اوپر والی بات کو بخوبی پڑھیں اور درج ذیل بات کو بھی پڑھیں اور پھر دونوں باتوں کو ایک ساتھ پڑھیے گا.

ہم اپنے حکمران اپنے ووٹ سے ہی منتخب کرتے ہیں.  پھر وہ حاکم جس کا ہم انتخاب کرتے ہیں وہ پھر وہ اپنا حق سمجھتا ہے کہ ہمارے رستے بند کرے ہمیں ذلیل اور رسوا کرے وہ من مرضی کرے قومی خزانے کو برباد کرے اور ہم ان سے پوچھنے والے بھی نہ ہو وہ ہماری قومی غیرت کا جیسے چاہے سودا کرلے ـ وہ جب چاہے جیسے چاہے ہم سے کھیلیں ہماری غیرت کا جنازہ نکالے ہماری عزتوں کا تماشہ بنائے ہم ان سے پوچھ نہیں سکتے . وہ ہمارے انتخاب پر ہمیں ایک سڑک دے کر ہم پر احسان جتلائے  اور اس آسائش کے جواب میں وہ ہماری مظلومیت اور حقوق سے کھیلے اور ایسا کرنا وہ اپنا حق سمجھے یہ  بلکل ویسے ہی ہے جیسے طوائف کو ایک آسائش دیکر اسکا گاہگ اسکی معصومیت سے کھیلتا ہے.

#ضرب_تحریر.


افکار و نظریات: قوم یا طوائف