ہر بار قصور مرد کا  نہیں ہوتا

تحریر: صدف اجمل

 آج شاید جس موضوع پر میں بات کرنے جا رہی ہوں بہت سوں کی تنقید کا نشانہ بھی بنوں گی کہ خاتوں ہو کر عورتوں کے مخالف بات کر رہی ہے پر یہاں بات مرد اور عورت کی نہیں بات حق کی ہے اور حق کی بات کرتے وقت آپ یہ نہ سوچیں کے آپ کس جنس سے تعلق رکھتے  ہیں  بلکہ آپ یہ بات  مدنظر رکھیں کے آپ جو بول رہیں ہیں وه حق ہے یا نہیں۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے یکے بعد دیگر ایسے واقعات ہوے جو دل دہلا دینے واے تھے جس میں سرے فہرست قصور کی ننھی پری زینب کا واقع تھا جسے بہت بے دردی سے دریندہ صفت مرد نے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا بعد از زیادتی بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور اس طرح بہت سی بچیاں ایسے درندوں کی حوس کا نشانہ بنی جو شاید ماں باپ گھر والے بدنامی کے ڈر سے دوسروں کو بتاتے بھی ڈرتے ہیں۔

 زینب کا تو صرف ایک واقعہ تھا جسے سوشل میڈیا نے بھرپور ہائی لائیٹ کیا سینکڑوں کئی تعداد میں واقعات بھرے پڑے ہیں جں کو کسی نہ کسی وجہ سے دبا دیا جاتا ہے میرے خیال میں ایسے افراد کو مرد کہنا بھی مردوں کی توہیں ہو گی_یہ تو وہ واقعات ہیں جہاں مردوں کو الزام دیا جاتا ہے اور یہ حق بجانب بھی ہے پر ہر بار اور ہر جگہ مرد ہی الزام کا حق دار نہیں ہوتا بہت سی جگہوں پر خواتیں پورا پورا کردار ادا کرتی ہیں معاشرے کو تباہ و برباو کرنے میں۔

ہم بہت آسانی سے کہ تو دیتے ہیں فلاں مرد نے فلاں عورت کو ہراساں کیا عزت پر حملہ کیا عزت لوٹ لی اور اس طرح کی کئی ایک باتیں کی جاتی ہیں پر کیا کبھی کسی نے ان وجوہات پر غور کرنے کی کوشش کی جس وجہ سےایک راہ چلتی عورت کو مرد غلط نگاہ سے دیکھتا ہے؟

سرے راہ گزرتے ہوے طعنے کسے جاتے ہیں تصاویر کا غلط استعمال کیا جاتا ہے یا ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر موجود مختلف گروپ میں شییر کی جاتی ہیں۔ ایک مثال تو ہم سب نے بہت سنی ہے کہ مکھی ہمیشہ کھلی چیز پر ہی بیٹھتی ہے۔بلکل ایسی ہی مثال ان تمام خواتیں کی ہےجو ہمیشہ مردوں کو غلط کہتی دیکھائی دیتی ہیں ،ہم کو فلاں مرد نے بازار میں جاتے ہوے چھیڑا- فلاں نے  گندی نگاہ سے دیکھا_ پر کیا کبھی ہم خواتیں نے اپنے لباس پر غور کیا ھےچست قمیض اور ٹخنوں سے اوپر چڑ ھا پجامہ پہن کر ہم مردوں  سے نگاہیں نیچی کرنے کا کہتے ہیں ایسی خواتیں تو مردوں کو خود  دعوت دیتی ہیں اور خود ہی گلہ بھی کرتی ہیں۔

 ہم اپنی  تصاویر کے غلط استعمال پر روتی ڈھنڈورا کرتی نظر آتی ہیں ویڈیوز کے وائرل ہونے پر کئی ایک لڑ کیاں خودکشی کر لیتی ہیں پر مردوں کو کوسنے سے پہلے ایک بار ہم خود اپنے آپ کو کیوں نہ کوسیں کہ جب ہم نے خود ہی اپنے ہاتھوں اپنی تصاویر فیس بک اور دوسرے سوشل میڈ یا  پر وائرل کی اورجب ان کا غلط استعمال سامنے آیا تو ہم خود کو کوسنے کے بجائے مرودں کوں کوسنے بیٹھ گئیں۔

 لڑکوں سے اکیلے ملتے وقت جب آپ کی ویڈیوز بنا لی گی تب بھی مردوں کو ہی کوسا گیا بجائے یہ احساس کرنے کے آپ نے اپنے گھر والوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی کبھی ہم نے باہر نکلتے وقت اپنے لباس پر غور نہیں کیا الٹا اگر غلطی سے ماں باپ نے لباس پر تنکید کی تو انہیں یہ کہ کر چپ کر وا دیا گیا کہ فیشں ہے سب ہی تو کرتے ہیں حیا تو آنکھوں میں ہونی چاہیے اگر یہ سب فیشن ہی ہے اور حیا صرف آنکھوں میں ہونی چاہیے تو ہم کیوں ائے روز عزتیں  لٹ جانے کی دوہائی دیتے ہیں ہم کیوں صرف مردوں کو ہی قصور وار ٹھراتے ہیں کبھی غور کریں اپنی بہنوں بیٹیوں اور ماوں کے لباس پر۔

کھلے شہد پر تو چیونٹیاں اور طرح طرح کے کیٹرے مکوڑے کھانے کو لپکتے ہی ہیں میں صرف ایک سوال  ایسے تمام لوگوں سے پوچھنا چاہوں گی کہ اگر آپ کسی دوکاندار کے پاس کوئی چیز خریدنےجائیں اور وہ اپ کو بنا ریپر کے چیز خریدنے کا کہیں تو کیا آپ خریدیں گے؟ نہیں نہ۔ اللہ پاک نے ہر چیز کو خول میں پیدا کیا ہے بنا خول کے ہر چیز اپنی اہمت اور قدر  کھو بیٹھتی ہے۔ ذرا سوچیے گا ضرور ہر بار قصور مرد کا نہیں ہوتا۔

 


افکار و نظریات: ہر بار قصور مرد کا نہیں ہوتا