رواں سال سینٹرل اور ملیر ڈسٹرکٹ جیل میں سرکاری افسر، پولیس انسپکٹر و اہلکار اور متحدہ قومی موومنٹ کے 2 کارکنان سمیت 18 قیدی پراسرار طور پر ہلاک ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 جنوری کو ملیر ڈسٹرکٹ جیل میں پرسرار طور پر قیدی نور بنگالی ہلاک ہوا، 17 جنوری کو سینٹرل جیل میں ایم کیو ایم کا کارکن شیخ امیر عرف میرو پرسرار طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوا۔

 20 جنوری کو ملیر ڈسٹرکٹ جیل کا قیدی یاسر شفیع ہلاک ہوا، 24 جنوری کو سینٹرل جیل میں قید قیدی منظور سول اسپتال میں دوران علاج ہلاک ہوگیا تھا, جبکہ 28 جنوری کو سینٹرل جیل کا قیدی شیر محمد اسپتال میں دم دوران علاج دم توڑ گیا تھا، 19 مارچ کو سینٹرل جیل کا قیدی گلزار سول اسپتال میں دوران علاج ہلاک ہوگیا تھا۔

 پولیس کا کہنا تھا کہ گلزار کو بھی دل کادورہ پڑا تھا، 3 اپریل کو سینٹرل جیل میں کرپشن کے الزام میں قید قیدی کے ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر ریکوری عبدالقوی ہلاک ہوگئے تھے، 4 اپریل کو سینٹرل جیل کا قیدی سعید محمد خان سول اسپتال میں ہلاک ہوا, جبکہ اس ہی روز ملیر ڈسٹرکٹ جیل میں قیدی نعمان ہلاک ہو گیا تھا۔ 23 اپریل کو ملیر ڈسٹرکٹ جیل کا قیدی دل مراد شاہ سول اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا, جبکہ 30 اپریل کو سینٹرل جیل کا قیدی اظہر حسین سول اسپتال میں ہلاک ہوا تھا، 4 مئی کو سینٹرل جیل مین قید ایم کیو ایم کا کارکن حسین گھانچی پراسرار طور ہلاک ہوا تھا۔

16 مئی کو سینٹرل جیل کا قیدی اور لیاری گینگ وار کا کارندہ ایاز بلوچ پراسرار طور پر ہلاک ہوا۔ 17 مئی کو سینٹرل جیل کا قیدی ضمیر بھٹو پراسرار طور ہلاک ہوا تھا، 12 جون کو نارکوٹکس کورٹ میں ملیر ڈسٹرکٹ جیل کا قیدی ساجد حشمت کو دل دورہ پڑا تھا, جس کو امراض قلب اسپتال میں طبی امداد کیلئے لایا گیا, تاہم وہ دوران علاج چل بسا تھا، متوفی قیدی کو ائیرپورٹ سے فروری 2014ء کو منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 6

 اکتوبر کو سینٹرل جیل کا قیدی محمد یاسین اور 8 اکتوبر کو ملیر ڈسٹرکٹ جیل کا قیدی جیل پولیس کا معطل اہلکار نواب سول اسپتال میں دوران علاج ہلاک ہوئے، 8 نومبر کو سینٹرل جیل کا قیدی آزاد خان شاہد دوران علاج سول اسپتال میں ہلاک ہوا تھا، جبکہ 14 نومبر کو سینٹرل جیل میں سزائے موت کا قیدی انسپکٹر ملک ارشاد جیل میں پراسرار طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا تھا، متوفی اینٹی کار لفٹنگ سیل کا سابق ایس ایچ او تھا اور اس پر الزام عائد تھا کہ جعلی مقابلے میں شہری کو قتل کیا۔

 

سندھ میں خواتین اور جووینائل (کم عمر) قیدیوں کی تعداد 400 سے تجاوز

سندھ میں عورتوں اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں میں جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، سال 2017ء کے آخر تک صوبہ میں خواتین اور جووینائل (کم عمر) قیدیوں کی تعداد 400 سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ مختلف تھانوں میں گرفتار اور زیر تفتیش عورتوں اور کم عمر نوجوانوں کی تعداد بھی درجنوں میں بتائی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 دسمبر تک سندھ میں خواتین قیدیوں کی تعداد 222 ہو چکی ہے، جبکہ 4 جووینائل جیلوں میں کم عمر قیدیوں کی تعداد 181 ہوگئی ہے، جیلوں میں قید خواتین میں مائیں بھی شامل ہیں، جن کی وجہ سے 37 معصوم بچے بھی بے گناہ قید کاٹ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر قیدی عورتوں میں سزا یافتہ خواتین کی تعداد 49 ہے، جبکہ کم عمر (جووینائل) قیدیوں میں سزا یافتہ نوجوان لڑکوں کی تعداد 13 ہے۔

مختلف کیسوں میں جیلوں میں قید خواتین اور کم عمر نوجوانوں کی اکثریت کا تعلق کراچی سے ہے، کراچی میں عورتوں کی سینٹرل جیل میں 126 عورتیں قید ہیں، حیدرآباد میں 57، سکھر میں 11 اور لاڑکانہ میں واقع عورتوں کی جیل میں خواتین قیدیوں کی تعداد 28 ہے۔ کراچی میں کم عمر قیدیوں کیلئے قائم جیل میں قیدی لڑکوں کی تعداد 140، حیدرآباد میں 14، لاڑکانہ میں 6 اور سکھر میں 21 ہے۔ خواتین قیدیوں کی اکثریت کا تعلق کراچی سے ہونے کے باعث بے گناہ قید کاٹنے والے ان معصوم بچوں کی بڑی تعداد کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

ماؤں کے ساتھ جیلوں میں قید معصوم بچوں میں 22 بچے کراچی وومین جیل میں ہیں، جبکہ 10 بچے وومین جیل حیدرآباد اور 5 بچے لاڑکانہ کی خواتین جیل میں مقیم ہیں، سکھر میں قید عورتوں میں ایک بھی ایسی ماں نہیں، جس کا کوئی معصوم بچہ ہو۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر سندھ کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 18 ہزار 899 ہے، جن میں 14 ہزار 410 قیدی مختلف کیسوں میں سزا یافتہ ہیں، جبکہ 390 ایسے قیدی ہیں، جنہیں مختلف وجوہ کی بنا پر نظربند کیا گیا ہے، قیدیوں کی مجموعی تعداد میں تقریباً 10 ہزار قیدی کراچی کی دو جیلوں میں قید ہیں۔

 ہمیشہ کی طرح صوبہ سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کا مسئلہ تاحال جیلوں کی انتظامیہ کو درپیش ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق سینٹرل جیل کراچی میں قیدیوں کی گنجائش 2400 ہے، لیکن جیل میں 4 ہزار 954 قیدیوں کو رکھا گیا ہے، اسی طرح کل 1500 قیدیوں کی گنجائش رکھنے والے ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں قیدیوں کی موجودہ تعداد 4 ہزار 785 ہے۔ سینٹرل جیل حیدرآباد میں کل گنجائش 1527 ہے، جبکہ وہاں قیدیوں کی تعداد 2297 ہے۔ نارا جیل میں قیدی رکھنے کی گنجائش 300 ہے جبکہ جیل میں 413 قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ سینٹرل جیل لاڑکانہ میں کل قیدی رکھنے کی گنجائش 650 ہے، جبکہ وہاں قیدیوں کی موجودہ تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

 حیرت انگیز طور پر صوبہ سندھ کی دو سینٹرل جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کافی کم ہے، صوبہ کی دوسری بڑی جیل سینٹرل جیل سکھر میں کل 16 سو 66 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے، جبکہ وہاں قیدیوں کی موجودہ تعداد 13 سو 72 ہے، اسی طرح سینٹرل جیل خیرپور میں کل قیدی رکھنے کی گنجائش 1175 ہے، جبکہ جیل میں اس وقت صرف 844 قیدی ہیں۔

رپورٹ: ایس جعفری


افکار و نظریات: قیدیوں کی پر اسرار ہلاکتیں جاری