پولیس چار سو  بیس

تحریر: صدف اجمل

میرا آج کا موضوع میرے پیارے اور بہت ہی سیدھے سادھے(جو مجھے خود بھی کہتے شرم آ رہی ہے) پولیس افسران بھائی صاحبان ہیں۔کہنے کو تو پولیس کا کام عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کی  حفاظت  کر نا ہے چاہے وہ کسی بھی ملک کی ہو۔لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں مدد دینا ہے۔ کہیں پر بھی ہوتے ہوئے نا جائز ظلم کی روک تھام کرنا ہے۔ مجرموں  کو سزا دلوانے میں عوام کا بھرپور تعاون کرنا ہے اور ان کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا ہے تا کہ وہ آئندہ  کچھ ایسا غلط نا کر سکیں۔

پر نہایت ہی افسوس کے ساتھ ہماری پولیس کیا کسی کا ضمیر جگائے گی انکا تو اپنا ہی ضمیر مر چکا ہے یا شاید یہ وردی پہنے سے پہلے ہی کہیں دفنا دیتے ہیں۔ نہایت ہی معذرت کے ساتھ پر زرا ٹھہریے معذرت کن سے !؟

ہمارے ان پولیس بھائیوں سے جنہوں نے لوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے_ ہمارے پیارے ٹریفک پولیس اہلکار جو سڑکوں پر سفر کرتے آتے جاتے کسی کو بھی نہیں چھوڑتے_چاہے آپ گاڑی پر سوار ہیں موٹر سائیکل پر یا ہو سکتا ہے آپ کبھی سائیکل پر بھی ہوں یےآپ کو ہر گز نہ بخشیں گے۔

بیچارے موٹر سائیکل سوار  تو اس دن کو پچھتاتے ہیں کہ کون سا وہ دن تھا جب انہوں نے یہ سواری لی۔ آپ کے پاس موٹر سائیکل کے کاغذات ہیں لائسنس ہے پر تب بھی اگر پولیس کا دل آپ پر آ گیا تو بنا سو دو سو ادا کیے وه آپ کو روڈ کراس کرنے نہیں دے گی اور کرنے بھی کیوں دے جو رقم آپ نے ادا کی  وہ تو انکا چائے پانی ہے_

 یہ تو بات  ہوئی ہمارے ٹریفک پولیس  اہلکاروں کی۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ہمارے ان پولیس افسران پر جو عہدے کے نشے میں چور  بڑے ٹھاٹ سے پولیس اسٹیشنز میں براجماں ہیں۔ اللہ ان کے پلے غلطی سے کسی کو ڈال نہ دے_وہ بیچارے حضرات جن کی گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں چوری ہو جاتی ہیں وہ غریب ایک تو پہلے ہی اپنی سواری کے جانے پر ادموھے ہوتے ہیں باقی آدھی موت پولیس اسٹیشن کے چکر لگا لگا کرہو جاتی ہے_ پر ریزلٹ بے سود_ نہ بائیک ملتی ہے نہ گاڑی الٹا انہیں اپنی جیب سے ان پولیس افسران کو ڈیوٹی کے نام پر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

کہیں چھاپہ مارنے یہ جائیں الٹا بے قصور کو پکڑ لاتے ہیں۔ ہمارے کوئٹہ شہر میں پچھلے دنوں ہونے والے واقع میں ہماری نالائق پولیس نے کلی اسمائیل میں چرس فروشی کے پیش نظر چھاپا مارا اور بڑے ہی دھڑلے سے وہاں پر موجود بیچا رے دکان  سے دودھ خریدتے لڑکوں کو بھی گرفتار کر لیا۔ وہ تو بیچارے وہاں اپنے گھر کا سودا لینے آئے تھے۔

ہمیشہ غریب عوام ہی پستی ہے کبھی انہوں نے روڈ پر جاتے ہوئےکسی سیاہ شیشوں والی بڑے آدمی کی گاڑی کو نہیں روکا ان کو تو یہ خود ون وے سے بھی جانے دیتے ہیں۔ ان کے پیٹوں کی گہرائی اتنی بڑھ چکی ہےکہ سرکار کی دی ہوئی تنخواہ سے نہیں بھرتی ۔

میں یہاں اس بات سے اتفاق کروں گی کے تمام افیسرزیا پورا پولیس کا محکمہ ایک جیسا نہیں پر ایک مچھلی پورلے تالاب کو گندا کرتی ہے اور نام سب کا آتا ہے_ کہنے کو تو بہت کچھ ہے پر شاید  میرے پاس الفاظ ختم ہو جائیں پر ان کے کارناموں کی داستان نہیں ۔

بس اتنا کہوں گی ہم کو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم  تھا۔۔۔۔


افکار و نظریات: پولیس چار سو بیس