ہماری ذات  اور  اوقات سب مٹی

تحریر: شہک جان رند

یہ بلوچ ، براہوی، سندہی، پٹھان، پنجابی، سرائیکی ہزارہ یہ تیری وه میری یہ اسکی یہ فلاں کی  یہ کاکڑ  وہ راجپوت و ہ رند وہ اچکزئی وه فلاں تو وہ ڈھمکاں۔ کیا یہی ہیں ہم روپ رنگ زات پات نسل سے لوگوں کی پہچان کرنے والے؟ لوگوں کو ان کے کردار  کو ان کی ذات  کے پلڑے میں تولنے والے؟وہ فلاں پنجابی ہے ڈرپوک ہی ہو گا۔ فلاں پٹھاں ہے یہ تو یقینن سود خور ہوں گے وہ بلوچ  نہ بابا نہ یہ تو پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔اچھا اچھا سرائیکی و ہ دودھ بیچنے والے۔

 کیا کبھی یہ تمام الفاظ استعمال کرنے سے پہلے کسی نے تھوڑی سی دیر روک کر ٹھہر  کر سوچا کہ ہم سب پہلے مسلمان ہیں اور مسلمان سے بھی پہلے ہم انسان ہیں۔ لیکن ہم شاید انسان تو ہر گز نہیں ہاں نام کے مسلمان ضرور ہیں۔ ہم وه قوم ہیں جو ماہر ہیں دوسروں پر تنکید میں۔ ہم نے تنکید میں کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا۔وہ پنجابی میں کیوں دوں اپنی بیٹی کا رشتہ بھئی ہم تو پٹھان ہیں۔ نہیں نہیں بیٹا ان سے دوستی نہ کرنا وه ہماری قوم کے نہی ہماری زبان کے نہیں۔ بچہ پیٹ سے باہر بعد میں آتا ہے ہم قوم پر ستی اور ذات پات پہلےاپنی اولاد کو سکھاتے ہیں۔جی جی میں پٹھان ہوں مجھ سا تو کوئی بھی نہیی _میں بلوچ میرا کلچر سب سے اعلی_ میں پنجابی میں تو جی سب سے ودھیا۔

 میں پوچھتا ہوں  پنجابی ، بلوچ ، سندہی پٹھان پیدا ہونا کیا آپ کے بس میں تھا؟کہ آپ کو بلوچ پیدا کیا جائے پنجابی نہی یا سندہی پیدا کیا جائے پر کسی اور زبان سے نہیں؟ نہیں تھا نہ بس میں اور نہ ہے ہم تو ایک سانس تک لینے کے بس میں نہی ایک انگلی کی حرکت تک ہمارے بس میں نہی اور ہم بات کرتے ہیں ذات پات رنگ اور نسل کی۔ ہم بات کرتے ہیں فلاں پڑھا لکھا اور فلاں جاہل ۔ہماری زات ودیا اور دوسرے کی گھٹیا۔

 واہ بھی واہ میں کہتا ہوں ہزاروں ڈگریاں لے کر بھی اگر آپ لوگوں کو ان کی ذات سے رنگ اور نسل سے پہچانتے ہیں تو یقین جانیے آپ سے جاہل بھی بہتر ہے۔ہمارے پیارے نبی نے واضح الفاظ میں آخری خطبح حج میں بیاں فرمایا تھا "کسی عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر کالے کو گورے پر گورے کو کالے پر فوقیت نہیں سوائے متقی کے" ۔ بڑے مسلمان مسلمان بنے پھرتے ہیں خدارا  کچھ  اور نہیں تو اسی خطبے کو یاد رکھ لیں۔خدارا یہ یاد رکھیں ہماری ذات سب مٹی ہماری اوقات سب مٹی۔


افکار و نظریات: ہماری ذات اور اوقات سب مٹی