عمران خان سے ایک گزارش

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

لودھراں الیکشن نے کئی سوالوں کو لا کھڑا کیا ،سپریم کورٹ کو سیاسی مقدمات میں انا چائیے ،پاکستان تحریک انصاف کی تنقیدی سیاست ٹھیک تھی اور عوام اس کو ھی ووٹ دیں گے ،جو انکے بھوشر کی بات کرے گا اور کارکردگی دکھائے گا اور سب سے اھم سوال ،پی ٹی آئی کو پنجاب میں آنے والے قومی انتخابات میں لڑنے والے سنجیدہ کینڈیڈیڈ ملیں گے ،اور اس سے بھی اھم سوال ،نواز شریف کے اعتماد میں کس قدر اضافہ ھو گا کے نظام عدل کی تحریک شروع ھو سکے گی اور عوام کی طاقت ھی حقیقی قوت ھوا کرتی ھے ۔

آئیے ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں ۔

ہماری  معاشرتی اقدار کو سامنے رکھتے ھوے اقامےُکے جواز کو وزیر اعظم کی برخواستگی کو عوام نے تسلیم نہیں کیا ،بہتر ھوتا کے نیپ کے حتمی فیصلے کے آنے تک برخواستگی کو موخر کیا جاتا اور اس کی بجاے کے ایک شخص کو مورد الزام ٹھرانے کی بجاے سپریم کورٹ کو چائیے تھا کے نیپ بحثیت مجموعی ادارے کو مضبوط کرتی ۔

پاکستان کی عوام اب اپنےنتخب وزیر عظموں کو نہ تو قتل ھوتے دیکھ سکتی ہیں اور نہ ھی برخواست ھوتے ھوے ،اگر شہدا اور سابق صدر کی پیپلز پارٹی ایک آزاد امید وار سے بھی کم ووٹ لیتی ھے تو سپریم کورٹ کو اپنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی بجاے سیاسی رہنماؤں کو عوامی عدالت کے ھی سپرد کرنا چائیے اور اسے اپنے عوام پہ اعتماد کرنا چائیے ،ھماری عوام بخوبی جانتی ھے اور سمجتھی ھے کے کون رہنمائی کے قابل ھے اور کون نہیں ۔

اب وقت آ گیا ھے کے پارلیمان کو اس کا جائز مقام دیا جاۓ اور مھوریت میں پارلیمان ھی مرکز ھے اور دیگر تمام ادارے اس مرکز کے گرد گھومتے ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی قاعد عمران خان کو اپنی تنقیدی سیاست کا از سرے نو جائزہ لینا ھو گا ،تنقید کے دو پہلو ھوا کرتے ہیں ،بلواسطہ اور بلا واسطہ ۔

بلا واسطہ تنقید تو یہ ھے کے مخالیفین کو براہ راست ہد ف کا نشانہ بنایا جاۓ ،جو کے اب تک وہ کرتے آۓ ہیں ،سب سے پہلے انھوں نے ھی سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو شارٹ کٹ عزیز کا نام دیا تھا ۔

 

 

 براہ راست تنقید کا زمانہ گزر گیا ۔بلواسطہ تنقید یہ ھے کے مسلے کا حل بتایں ،کر پٹ کو کرپٹ کہنے کی بجاۓ کر پشن کے خاتمے کے لیے پالیسی بیان کریں ،غربت افلاس اور بیروز گاری کو ختم کرنے کے لیے سسٹم کو تبدیل کرنے کی بات کریں اور وہ نیا سسٹم کیسا ھو گا اس کی تفصیل بیان کریں ،اکیس کروڑ عوام تک تعلیم ،صحت اور رہائش ،سیکورٹی ،امن وسکون کیسے مہیا ھو گا ۔اس کے بارے میں بولیں ،کشمیر کا مسلہ کیسے حل ھو گا ۔بیرونی سرمایہ کاروں کو کیسے راغب کریں گے ،عالم اسلام کا قلعہ کیسے حقیقی قلعہ بنے گا اور امت کیسے زلت اور رسوائی کی گہرائیوں سے نکلے گی ۔

امت کو مسلو کوں سے نکالیں ،فرقہ پرستی کو ختم کریں ،سیاست دان نہ بنیں ،رہنما بنیں ،نواز شریف اور شہباز شریف کو بھول جایں  ،کراچی سے خیبر تک اور مکران سے گلگت  تک قوم کی آواز بنیں ۔

اپُکے  ارد  گرد بونے ہیں ،انھوں نے اپ کو بھی بونا بنا دیا ھے ۔اپ سے کندھا ملا کر تو اپ کے برابر ا جاتے ہیں لیکن اپ کو بھی اپنے برابر کر دیتے ہیں ،سب سے پہلے شییخ سے جان چھڑایںلو دھراں ۔

جہانگیر ترین صاحب کے سیکریٹری جنرل بننے کے بعد پارٹی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی گئی اور شائد اب وقت آ گیا ھے کے اس تبدیل کی گئی پالیسی پہ نظر ثانی کی جاۓ ۔

جہانگیر ترین صاحب کی پالیسی میں دو اھم جز تھے ،عمران خان صاحب اور پی ٹی آئی ووٹر ،تیسرا اھم جز پارٹی تنظیم کو انھوں نے پس پشت ڈالا ،انکے خیال میں جب پی ٹی آئی ووٹر عمران خان صاحب کے لیے ھی ووٹ دیتا ھے تو تنظیم کا کیا کام ،وہ سمجتھے ہیں کے امید وار مضبوط ھو ،پارٹی لیڈر مقبول ھو اور عوام میں پزیرائی ھو تو پارٹی ورکر یا تنظیم ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں ،بادی النظر میں کسی حد تک یہ صحیع بھی ھے کیونکے اگر تو پارٹی ایک ادارہ ھو ،تو کوئی بھی ادارہ بغیر تنظیمی ڈھانچے اور اقتصادی خود انحصاری کے نہیں چل سکتا اور ادارے میں فیصلے باقاعدہ طور پہ اجتمائی سطح پہ  کسی نظم و ضبط اور پالیسی کے تحت کیے جاتے ہیں ،ادارے ایک آئین اور منشور پہ چلتے ہیں لیکن جب نہ ھی اقتصادی خود انحصاری کی بات ھو اور امید واروں نے اپنے خرچے پہ ھی انتخابات میں حصہ لینا ھو تو تنظیمیں کس کام کیں ،الٹا ان تنظیموں سے اخراجات نے ھی بڑھنا ھوتا ھے ۔

 

 

یہاں تک تو سب ٹھیک ھے لیکن مائنس تنظیم کی پالیسی پھر بھی کامیاب نہ ھوئی اور کسی جماعت کی بد ترین شکل اور حالت میں بھی تنظیم ، پارٹی کے لیے اس کی رگوں میں دوڑتے ھوے خون کی طرح ھو تی ھے ۔

جس طرح انسانی بدن کے آخری حصے یعنی انگلیوں تک اگر خون نہ پہنچے تو چاہے دل کتنا بھی توانا ھو ،ایسا جسم جس کی انگلیاں کام نہ کر رہی ھوں ،ایک توانا دل کے ساتھ بھی معذورھی کہلاتا ھے ۔

یو سی کارکن اور اس کی تنظیم پارٹی کے آخری حصوں تک پہنچنے والے خون کی طرح ھے ،جو کھال ،گوشت اور ناخن یا بال جو کے ووٹر ھے ،اس تک پہنچتا ھے اور انتخاب کے دن گھر گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر ،منتیں زاریاں کرتا ھے ،واسطے دیتا ھے اور ووٹر سے قسمیں لیتا ھے ،اس کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرتا ھے اور شائد اس کے زاتی کاموں کے بھی کرنے کے وعدے کرتا ھے کیونکے وہ اسی محلے یا کالونی کا رہنے والا ھوتا ھے ۔

ان یو سی یا تحصیل تنظیموں کو ٹاون اور ڈسٹرکٹ تنظیمیں متحرک رکھتیں ہیں ،جو اپنی صوبائی تنظیموں کے زریعے مرکز سے وابسطہ ھوتی  ہیں  ۔

پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ھے ،جس کا قاعد ھر دم اور ہر لمحے جمھوری اقدار کی بات کرتا ھے اور پارٹی کو ادارہ بنانے پہ توجہ دیتا ھے جبکے اس کے حواری ان مشکلات میں پڑنے کو تیار نہہیں اور اس سے بھی بڑی بات کے جمھوری اقدار کے آنے سے ان حواریوں کا خود  سے جماعت میں رہنا مشکل ھو جاۓ گا ،اب  تو وہ صرف عمران خان کی دلجوئی میں مصروف رہتے ہیں ،جمھوری اقدار کے نتیجے میں انٹرا پارٹی  انتخابی عمل سے گزر کر ھی وہ اھم عہدوں پہ براجمان ھو سکتے ہیں ۔

ایک عام ورکر اب اس مخمصے کا شکار ھے کے قائد تو جمھوری اقدار کی بات کرتا ھے اور حواری غیر جمھوری پالیسیوں پہ گامزن ہیں ۔

عمران خان صاحب کی خدمت میں مود بانہ گزارش ھے کے معاملات کو اپنے ھاتھوں میں لیں ،پارٹی کے لیے جو خواب رکھتے ہیں ،اسےپورا  کریں ،پا رٹی جب سچ اور حق کی بنیاد  پہ ھو گی تو اقتدار اپ کے قدموں تلے ھو گا ،پاکستان کا مستقبل ایک مستحکم ادا راہ جاتی پارٹی میں ھے ۔


افکار و نظریات: عمران خان سے ایک گزارش