اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ڈاکٹر محمّد علی نقوی شہید —— کچھ یادیں کچھ باتیں تحریر: پروفیسر سید امتیاز رضوی ہر انسان کی جدوجہد کو اس کےظاہری عمل اور اس عمل کے پیچھے پنہاں فکر کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی کی شہادت کے تئیس سال بعد پاکستان کے دینی حلقوں میں یہ بات مسلمہ ہو چکی ہے کہ شہید کا عمل صائب اور ان کی فکر درست تھی- اگرچہ یہ بات ان کی حیات میں اس حد تک ثابت نہ تھی- متعدد علماء اور دیگر رہنماء جو ایک زمانے میں ان کے عمل کوتعجب کی نگاہ سےدیکھتے تھے اور ان کی فکر کے لحاظ سے تردد کے شکار رہتے تھے لیکن آج وہ بھی شہید کے گُن گا رہے ہیں۔ گویا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سچے اور مخلص انسانوں کو اپنی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے جان گنوانا پڑتی ہے- شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے عمل کی پاکیزگی اور ان کی فکر کی سچائی نہ صرف ان کی اپنی شخصیت میں تبدیلی لائی بلکہ ہزاروں لاکھوں دوسرے انسانوں میں تبدیلی کا مؤجب بھی بنی ہے۔ بیرون ملک کے ایک اہم مذہبی رہنما نے ایک مرتبہ ایک پرائیوٹ محفل میں یہ کہا کہ میں پاکستان میں جس بھی دینی جوان سے ملا ہوں وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ڈاکٹر محمد علی شہید سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر شہید کی زندگی کا اہم ترین اور نمایاں پہلو اُن کا ہمیشہ متحرک رہنا ہے۔ وہ نامساعد حالات میں بھی ہمیشہ متحرک رہتے بلکہ ایسے حالات ہی کو عمل کا بہترین وقت سمجھتے تھے۔ ان کی فکر یہ تھی کہ ہمیں اپنے آپ پر نامساعد حالات کا بوجھ ڈالنا چاہیے تاکہ ہم اپنے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکیں اور اپنے سینوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے کھول سکیں۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جب بھی ایسے نا مساعدحالات ہوں تو ہمیں اپنی ہر چیز قربان کر دینی چاہیے کیونکہ اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو ہم دوسروں کے حملوں کی موجوں اور ان کی تحریکی کاوشوں کے فکری بھنور میں پھنس کر انہی کی بعض حرکات کی نقالی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر محمد علی شہید کی فکر کے مطابق اگر ہم اپنے گردوپیش میں رونما ہونے والے واقعات سے بے اعتناء رہیں اور اپنے ارد گرد ہونے والی تبدیلیوں سے بے خبر ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی ذات، تشخص اور حقیقت سے متصادم کسی بھی واقعے اور چیز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اسی لئے حق و صداقت کے مدعی کو اپنے تشخص کی بقا کے لیے اپنی تمام ترخواہشات، رجحانات،قلب و وجدان اور حرکات و اعمال کے ذریعے جدوجہد کرنی چاہئیے۔بلاشبہ وه جانتے تھے کہ یہ جدوجہد پہلے بازو و دل سے ہو گی اور پھر وجود اور سر کا تقاضا کرے گی۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے آج اپنے دلوں اور سروں کو قربان نہ کیا تو دوسرے لوگ بڑی ڈھٹائی سے ایسی جگہ اور وقت میں ہم سے ان کا مطالبہ کریں گے جب ہم اختیار سمیت اپنا سب کچھ کھو چکے ہوں گے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی عمل و فکر کا ایک خاصہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی ضروریات کو جہان کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق ڈھال لیا تھا مثلاً دنیا میں عدل و انصاف کے قیام کو جہاں وہ دنیا کے لئے ضروری سمجھتے تھے وہاں اسے اپنی ذات کی بھی ایک ضرورت سمجھتے تھے۔ اجتماعی جدوجہد کرنے والوں میں یہ خاصیت کم و بیش ہی دیکھنے میں آئی ہے اسی وجہ سے ان کی جدوجہد میں وہ لگن اور قربانی کا جذبہ نظر نہیں آتا جو ڈاکٹر صاحب کی ذات میں قابلِ مشاہدہ تھا۔ ڈاکٹر شہید کی اپنی کوئی مخصوص دنیا نہ تھی بلکہ انہوں نے اپنے وجود کو اجتماع سے مربوط کر لیا تھا۔فکری طور پر وہ اپنے اس تعلقات کی نوعیت کو سمجھتے تھے اور اس میں بالکل واضح تھے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں قبل از وقت اپنی وصیت لکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اگرچہ شہید ڈاکٹر کا عمل کے میدان میں بہت متحرک ہونا اور تحریر و تقریر کے ذریعے ان کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر مواد منتقل نہ ہونا ہمارے لئے ایک بہت بڑی محرومی کا باعث ہے تاہم ڈاکٹر صاحب فکری لحاظ سے ایک مضبوط اور پختہ انسان تھے اور غوروفکر کے عمل کو ہمیشہ جاری رکھتے تھے۔ راقم سمیت جن لوگوں کا ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہا ہے وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے ہر عمل کے پیچھے ایک گہری سوچ ہوتی تھی جو ایک فکری عمل کے نتیجے میں وجود میں آتی تھی۔ یہ بات ڈاکٹر شہید کی جدوجہد سے متاثر نوجوانوں کو پلے باندھ لینا چاہئیے کہ ڈاکٹر صاحب کا ہر عمل گہری فکری عمل کا نتیجہ ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے تحریری و تقریری طور پر زیادہ مواد نقل نہ ہونا اس وجہ سے تھا کہ انہیں اردو زبان پر عبور نہ تھا۔ ان کی بنیادی تعلیم جنوبی افریقہ کی تھی لہذا انہیں اردو زبان پر دسترس حاصل نہ تھی۔ ڈاکٹر شہید فکر میں تقلید کے قائل نہ تھے بلکہ اپنے ذہن سے سوچتے تھے اور مسائل و خیالات کے تجزیہ تحلیل میں کمال کی مہارت رکھتے تھے۔ شہید ڈاکٹر کو کبھی بھی جذبات کی رو میں بہتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، ہر عمل کو منطق و عقل کی بنیاد پر انجام دیتے تھے۔ جذباتی لوگوں کی قدر ضرور کرتے تھے اور ان کی حسن نیت کو سمجھتے بھی تھے لیکن انہیں سمجھاتے اور ان کے احساسات کو توازن پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ ڈاکٹر شہید جیسی انسانی روح کا ارتقاء تعامل فکر کے ذریعے اور اس کی روشنی میں ہوتا ہے۔ایسے انسان اپنی ذات میں اور اپنے نفس کے باطن میں گہرائی سے مسلسل غوروفکر کرتے رہتے ہیں اور نفس کی کمزوری اور جذباتیت کی وجہ سے جو اوہام پیدا ہوتے ہیں ان سے چھٹکارا پانے کے لیے تنگ نظری کے خول کو توڑ دیتے ہیں،جس کے نتیجے میں ان کی ان حقائق کے ساتھ ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے، جن میں کوئی کجی یاگمراہی پیدا نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر شہید کی شخصیت کوئی ایسی شخصیت نہ تھی جو صرف کام برائے کام کرنا چاہتی ہو بلکہ وہ کائنات کی روحانی تعبیر کے قائل تھے، معاشرے کے اپنے تشخص کو کھو دینے کا درد محسوس کرتے تھے، عالمی سطح پر شیطنت کے کھیل کے مقابلے کے لئے کمر بستہ تھےاور اس کے مقابل رحمانی قوتوں کے ظہور کو ضروری سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو اس وسیع کائناتی جدوجہد کا حصہ سمجھتے تھے۔ ایک عالم و روحانی کے گھر میں متولد ہونے اور قرآن و حدیث کے سائے میں پرورش پانے نے خود ڈاکٹر شہید کی اس فکری پاکیزگی کو جلا بخش دی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ہماری عملی و فکری زندگی اور اس کی جدوجہد ہماری روحانی زندگی کے لئے ہے،جو ہماری دینی فکر کا جزولاینفک ہے۔ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ جس طرح ظاہری عبادت اور ذکرو تسبیح کے ذریعے قلب و روح کی روحانی زندگی میں رفعت پیدا ہوتی ہے،اسی طرح اجتماع میں رہنا اور اس کی اصلاح و فلاح کے لئے محنت و جدوجہد کرنے کا تعلق بھی روحانی زندگی سے ہے۔ خلاصہ یہ کہ ڈاکٹر شہید کی زندگی ایک حقیقی مؤمن کی زندگی تھی جس کا ہر کام عبادت،ہر فکر مراقبہ،ہر کلام مناجات ، ہر عمل معرفت کی رزمگاہ،کائنات کا ہر مشاہدہ چھان پھٹک اور نگاہِ شوق اور اپنے دوستوں اور ہم نشینوں کے ساتھ رحمت وشفقت پر مبنی تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ آج کے رہنما اور تمام اہم جماعتیں اپنے آپ کو ڈاکٹر شہید کے نقش قدم پر چلنے والے اور پاکستان میں ان کے قائم کردہ اصول عمل کے وارث قرار دیتے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ حسبِ منشا عوامی محبت اور تقدس حاصل نہیں کر پائے اور گروہ در گروہ میں تقسیم ہو کر مثبت کردار ادا نہیں کر پا رہےاور بعض اہلِ نظر کے مطابق انہوں نے راہِ راست سے بھٹک کر منفی پہلوؤں کو اختیار کر لیا ہے۔ ایسے موقع پر جب ہم شہید کی تئیسویں برسی منا رہے ہیں ہمارے راہنماؤں اور ملی تنظیموں کو اپنے اندر اس حقیقی عمل و فکر کے فقدان کا سبب تلاش کرنا چاہیے جس کے ڈاکٹر شہید امین تھے ۔ یہ جاننا چاہئیے کہ حقیقی ایمان اور کردار کے خلوص کی وہ جھلک جو ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا خاصہ تھی اور جو کیسی بھی صورتحال ہو ان کی ذات اور ان کے اجتماعی کاموں میں نمایاں تھی اب کہاں ہے یا اس کا رنگ پھیکا کیوں پڑ گیا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

افکار و نظریات: ڈاکٹر محمّد علی نقوی شہید
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں