موسیقی حلال یا حرام!؟

نجم سبطین حسنی

 سوز خوانی۔۔ نعت و منقبت اور ذکر و فکر کی راہ میں ذاکرانہ کاوشیں کرنے اور سننے والے بسا اوقات اس موضوع پر الجھن کا شکار رھتے ہیں کہ حلال سُر کی حد کیا کیا  ھے ؟ اور غنا کسے کہتے ہیں ۔۔۔ ؟  اس کاوش  میں حلال کیا ھے اور حرام کیا ھے اور کیا سُر لگاتے وقت راگ کو سمجھنا اور جاننا حلال عمل ھے یا فعل حرام ھے ؟ تو اس ضمن میں اپنے خام علم کی رو  کچھ منطقی گفتگو  افادہء احباب کیلئے قلمبند کرنے کی کوشش کر رھا ھوں۔۔

 تاہم تقوی کی راہ میں حرام سے بچنے کیلئے کچھ حصہ حلال کو بھی ترک کر دینا باب مدینتہ الحکمت ع کا  فرمان ھے۔۔اور اپنے عمل کو اپنے مولا و امام ع کے  فرمان سے وابستہ رکھنا ھماری ایمانی و ارتقائی ذمہ داری ھے۔۔۔

چونکہ  اھل بصیرت کا خود کو  تنگ نظری سے بچانا بھی ایک عقلی حجت ھے۔۔ سو یہ مضمون صرف منطقی وضاحت اور غلط فہمیوں کے ازالہ  کی نیت  سے لکھا جا رھا ھے۔۔  ازراہ کرم اسے "دخل در فقاھت " ھر گز قرار نہ دیا جائے ۔۔

 

 سر۔۔لحن اور راگ

ہم جانیں یا نہ جانیں دنیا کا کوئی لحن اپنی کمپوزیشن یعنی ساخت میں راگ سے خالی نہیں ہوتا۔۔ راگ ہی سے لحن کا اور طرز لگانے کا کرشمہ  پیدا ہوتا ہے۔۔ بہت سے لوگ لحن کو جانتے ہیں مگر اسکی اصل یعنی راگ سے واقف نہیں ہوتے۔۔ اسلئے آراء کا اختلاف انہیں  اصل صورتحال کو سمجھنے سے دور رکھتا ھے۔۔۔  راگ کیا ہے اسکی اجمالی معلومات ذیل میں لکھ رہا ھوں:

 

سر اور راگ۔۔۔  لفظ اور حروف تہجی کی مثال

 

جس طرح زبان جاننے اور سیکھنے کیلئے بچے کو پہلے اصوات یعنی Sounds کی پہچان کروائی جاتی ھے اور پھر اسکے بعد حروف اور اسکے بعد الفاظ تک لایا جاتا ھے۔۔۔ بالکل اسی طرح سے سوز و ترنم کی دنیا میں سُر اور راگ کا تعلق پہچانا جا سکتا ھے۔۔۔ الفاظ سیکھنے کیلئے  sounds  کی پہچان  تکلم کی بنیادی ضرورت ہے ۔۔ کیونکہ ھر زبان Language کے  حروف تہجی یعنی Alphabetic Letters انہی مشترکہ آوازوں سے ہی پیدا کئے جاتے ہیں۔۔۔ الف۔۔ با۔۔ تا ۔۔جیم ھوں  یا A..B.. C ھوں یا الفا۔۔بیٹا۔۔ گیما۔۔ڈیلٹا ۔۔ ھوں ان سب کی بنیاد انسانی گلے کی مشترکہ اصوات یعنی ساونڈز  ہی کو بنایا جاتا ھے۔۔ جب یہ سفر حروف تہجی تک پہنچ چکے تو پھر انہی حروف سے لفظ بنا بنا کر بچے کو لفظوں کی پہچان کروائی جاتی ھے۔۔۔ لفظوں کے بعد انکی ادائیگی اور تلفظ کے فرق کا مرحلہ آتا ھے۔۔ تجوید کی تعلیم سے حروف کی انفرادی اصوات کے فرق کو نمایاں کیا جاتا ھے۔۔ تاکہ د اور ض کا فرق۔۔ ق اور ک کا فرق۔۔ ص، س  اور ث کا فرق سمجھانے کی علمی ضرورت پوری ھو سکے۔۔۔

جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پڑھا لکھا انسان تو لکھے اور بولے ھوے ھر لفظ کے باطن تک اترنا اپنی  تعلیم کے سبب جانتا ھے مگر  ایک ان پڑھ شخص بھی زندگی بھر انہی الفاظ سے اپنی ضروریات اور مقاصد بخوبی حاصل کرتا رھتا ھے۔۔۔۔ حالانکہ اسے حروف تہجی۔۔ لفظوں کی ساخت۔۔ بندش اور تجوید وغیرہ کی کوئی لطافت معلوم نہیں ھوتی۔۔  لیکن ھم جانتے ہیں کہ اس باریکی کو صرف علم دوستی کا جذبہ ہی اجاگر کر سکتا ھے کہ پڑھے لکھے ھوے شخص کا لفظ ادا کرنے میں معیارِ ادراک و عمل کیا ھوتا ھے اور اسی لفظ کو ان پڑھ لہجے میں بول دینے کی سطحِ ادراک کتنی ھو سکتی ھے ۔۔۔  صاف ظاھر ہے پڑھا لکھا شخص لفظ کی ظاھری و باطنی تمام تہوں کا عارف ھوتا ہے۔۔ وہ لفظ کو تہجی۔۔صوت۔۔ لغات و فرھنگ۔۔ لہجے۔۔ روزمرہ۔۔محاورے اور دبستان کی سطح تک پہچان کر منتخب کرتا ھے تاکہ لفظ کی تمام معنوی و صوتی کیفیات کا الگ الگ فیض حاصل کر سکے۔۔ جبکہ ان پڑھ اسی لفظ کی سرسری ادائیگی تک محدود رھتا ہے اور وہ اسکی کسی علمی گہرائی اور جہات و لغات تک پہنچنے کا ملکہ نہیں رکھتا۔۔۔

 بالکل اسی مثال کا انطباق  کرتے ھوے ھم عام انداز میں سُر لگانے والے یا سننے  والے  اور راگ کو پہچان کر سریں لگانے یا سننے والے کا فرق سمجھ سکتے ہیں۔۔۔ دونوں کے ادراک اور تاثر میں ایک گہرا فرق ھمیشہ موجود رہ جاتا ھے۔۔۔

 

 انسانی گلے کی ساخت Sound Box

 

انسانی گلا اللہ کی تخلیق ہے ۔۔ اسمیں مجرد  آواز  کو گلے میں موجود  مختلف تاروں  یعنی Vocal Cords کے ذریعہ فطرت نے اتار چڑھاو  کی  تقسیم عطا کی ہے۔۔۔ گلے میں صوتی اخلاط کی یہ تقسیم پہچان کر آواز لگانے کی مشق کی جائے تو اصوات سے لحن پیدا ھوتا ھے۔۔۔

 

سُر کیا ھے

 

لحن انسانی کی اکائی  سُر کہلاتی ھے جو کہ حروف تہجی کی مثال رکھتی ھے۔۔ گلے میں ساخت اور نوعیت کے اعتبار سے سُر کے سات درجے ہیں۔۔ جو لوگ گلے کے ان سات سُروں کو پہچانتے ہیں انہوں نے اپنی اپنی زبان میں انکے نام رکھے ہوے ہیں۔۔ مثلاََ ھندی میں انکے علامتی نام  "سا رے گا ما پا دھا نی "  ہیں۔۔۔۔ فارس۔۔عرب۔۔ یوروپ و مغرب  ھر جگہ کے ماھرین موسیقی نے انہی بنیادی ساونڈز کے  نام اپنے اپنے لسانی پس منظر کے مطابق رکھے ھوے ہیں اور سریں لگانے کا انداز بھی  انکے اپنے اپنے تہذیبی ورثے اور مزاجوں کی نشاندہی کرتا ھے۔۔۔  ھر سر زمین کے ماھرینِ صوت و آھنگ گلے کے اس ترنم اور سوز کو  سات درجات یا سات ہی بنیادی حروف تہجی میں تقسیم کرتے ہیں لھذا یہی  سات درجے موسیقی کے سات  سُر  یا Notes  کہلاتے ہیں۔۔ ۔۔ کرشمہء تخلیق یہ ھے کہ ان  سات سروں کے  ھر درجہ میں  ثانوی سطح پر  پھر باریک باریک سی ُسُرتیاں موجود  ہوتی ہیں جنکی  صلاحیتیں مشق و ریاضت سے اجاگر کرنی پڑتی ہیں۔۔۔ اس فنی محنت کو ریاض کہتے ہیں۔۔۔ ماھرین نے ھر سُر کو تیکھے اور نرم اندازِ ادائیگی کے سبب مزید دو دو ذیلی سُروں میں تقسیم کر کے تیور اور کومل کی اصطلاح بھی دی ھے۔۔۔

 7 سُروں کے تیور اور کومل اکٹھے کئے جائیں تو مجموعاََ 12 سُر بن جاتے ہیں کیونکہ دو سُر  یعنی سا اور پا ایسے محکم سُر ہیں جن   کو قائم سُر کہا جاتا ھے اور یہ تیور یا کومل میں تقسیم نہیں ھو سکتے۔ اس طرح  جب یہ سُر حروف اور الفاظ  کی طرح باھم ملاپ کرتے ہیں تو کم سے کم  پانچ ، پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات  سُروں کی  مختلف بنیادی بندشوں کے سبب مختلف صوتی و نفسیاتی اثرات رکھنے والے  راگ جنم لیتے ہیں۔۔ آگے چل کر انہی  راگوں سے طرح طرح کی طرزیں پیدا ھونے لگتی ہیں۔۔۔ علم موسیقی میں راگوں  کو انکے باھمی تاثرات کی ماھرانہ شناخت کے لئے  انکی فیملی یعنی انکے ٹھاٹھ سے پہچانا جاتا ھے۔۔۔۔۔  مثلا کلیان ٹھاٹھ۔۔  بھیروں ٹھاٹھ ۔۔ کھماج ٹھاٹھ ۔۔کافی ٹھاٹھ ۔۔اساوری ٹھاٹھ۔۔  وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

 

ساز و آلات کیسے بنے 

 

 ماھرین نے گلے کے فطری سروں کو دیکھ دیکھ کر خارج میں انہی کی  نقل کیلئے  بنائے گئے آلات  کے اندر بھی تاروں اور پردوں کی تقسیم کے ذریعہ موسیقی  کے آلات بھی اسی نظام پر ہی ایجاد کئیے۔۔ وائلن اور گٹار مغرب کے ماھرین نے بنائے جبکہ کہا جاتا ھے کہ سرمنڈل۔۔ ستار اور تان بُورا جیسے Cords والے آلات ھندوستان میں  امیر خسرو نے ایجاد کئے تھے۔۔

 

حلال اور حرام سُر کا جھگڑا

 

جو لوگ  سُروں کی اس ساخت اور انکی بندشی  تقسیم کو شناخت کر کے انکے مکمل صوتی ادراک کیساتھ  اپنی  آواز لگاتے ہیں  وہ اسے کسی نہ کسی راگ کے نام  سے منسوب کرتے ہیں۔۔ جبکہ جو لوگ سُروں کو علم موسیقی کی رو سے  نہیں پہچانتے اور گلے کے فطری ترنم کو خام کاوشوں کیساتھ ہی  اجاگر رکھنے کی حس رکھتے ہیں  وہ اسے راگ داری سے آزاد کام سمجھنے لگتے ہے۔۔ جبکہ فرق صرف علمی پس منظر کو جاننے اور نہ جاننے کا ھے۔۔  یعنی۔۔۔۔ فعل  ایک ہی ھے۔۔ راگ کو نہ جاننے والا بھی نفسیاتی طور پر  سُر سے ویسا ہی  کام لے رھا ھوتا ھے جیسا کہ مذکورہ بالا مثال میں  ایک ان پڑھ شخص لفظوں کی ادائیگی سے انکی لغات کو سمجھے بغیر ان سے  اپنی ضرورت کا کام لے لیتا ھے ۔۔  یعنی وہ لفظ کی ساخت اور لغت  کا علم تو نہیں رکھتا مگر اس لفظ کو بول کر  اپنا  کام ضرور  نکال سکتا  ھے۔  اسی طرح راگ نہ جاننے والے سوز خوان کو بھی یہ راز  معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی بھی آواز سُروں کے  کسی نہ کسی  راگ سے باطنی مراسمت کے بغیر سریلے پن میں ڈھل ہی نہیں سکتی۔۔۔ سو صرف اسکی اصلیت کو  نہ جاننا  بسا اوقات اسکے اور عامتہ الناس کے اندر یہ وھم اور خیال قائم کر دیتا ہے کہ فلاں نغمہ یا سوز تو راگ سے آزاد ہے اور فلاں کسی راگ سے منسلک ہے۔۔

 

 جبکہ  یہ کتنے بڑے بُعد اور عدم تدبر کا مظاھرہ ھو گا کہ قواعد کو جانے بغیر سوز اور سر لگا لیا جائے تو اسے حلال کہا جائے اور اگر اسکی علمی کلاسیفکیشن (راگ)  معلوم ھو جائے تو وہی حلال ایک دم حرام کہلانے لگے ۔۔

 

سُر کا اصل حرام و حلال کیا ھے

 

جاننا چاھئے کہ فقہ اسلامی کے اندر حرام صرف غنا کو کہا گیا ھے نا کہ مکمل موسیقی کو ۔۔۔ یعنی حلال و حرام ان سُروں کے تصرف کے انداز اور مقصدی زاویہ سے پیدا ہوتے ہیں نا کہ صرف آواز لگانے سے۔۔

 

اس موڑ پر جو کویی یہ کہے کہ اسے اچھے اور فحش  کے فرق کا پتہ نہیں ہے وہ  کسی غار میں رھنے والا تو ہو سکتا ہے معاشرے کا فعال فرد نہیں۔۔ ا یہ دعوی محض ریا کاری  بن  جاتا ہے کہ اگر یہ باور کیا جائے کہ اسکے  کانوں سے کوئی فحش صدا متعارف ہی نہیں ہے۔۔  تقوی در اصل یہ ہے کہ  بری چیز کو صرف استماع listening میں نہ لایا جائے ورنہ سماعت یعنی Hearing تو نہ چاھتے ہوے بھی اپنے زمانے کی ھر اچھی بری اصوات سے دوچار ہوتی  رہ جاتی ہے۔۔  انما الاعمال  بالنّیات

 

کیا گلے میں آواز کی مُرکیاں لگانا غنا ھے؟

 

نہیں ھر گز نہیں۔۔ یہ  فنی مشکل پسندی صرف سمعی باریکی اور صوتی حسن  و کمالات پیش کرنے  کا ایک رخ  فراھم کرتی ھے ۔ مُرکی یا سُروں کی تان جیسے محاسن  گلے کے سُروں کو باریک اتار چڑھاو دینے یا  آواز کو سانس کی گردش کیساتھ گھمانے سے پیدا ھوتے ھیں۔۔۔ اب اس میں کیا حرام ھے۔۔ ؟ اسے حرام سمجھ لینے کا  تصور صرف اس میدان سے عدم واقفیت کی بنا پر پھیلایا گیا ھے۔۔۔۔ ھاں اگر یہ مُرکیاں۔۔ تانیں  اور پلٹے سُروں کو  محض انکے صوتی کمالات  کی پیشکش  سے  ھٹا کر رقص و سرود کی تال اور عریانیت و شہوت کی گردش کو مدد  فراھم  کیلئے  پیش کئے جا رہے ھوں تو اس صورت میں واقعی لے کاری کے  یہ عمومی عناصر بھی غنا میں ہی شمار ھونے لگیں گے اور فعل حرام کہلائیں گے ۔۔ ۔۔ صرف محاسنِ صوت کی سطح پر  اگر آپ اھل عرب سے اذان و تلاوت بھی سنیں تو بھی وہ مرکیوں اور گمک کے مشکل مقامات سے خالی نہیں ھوتے۔۔۔ اچھے قاریان اس طرح کی باریکی اور مرکی سے تلاوت میں کثرت کیساتھ سوز اور تاثیر پیدا کرتے ہیں۔۔ لھذا اگر وہی سوز کی صنف انسانی کلام کی ادائیگی میں آ جائے تو اس صنف سے نا واقف افراد اپنی سادگی کے سبب یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مُرکیوں سے اور آواز میں نکھار پیدا کرنے سے غنا پیدا ھو جاتا ھے۔۔۔ اھل نظر کو بے مقصد خدشات سے ھٹ کر  یہ غلط فہمی دور کرنے کی اشد ضرورت ھے ۔۔کیونکہ انسانی افعال کی ھر کیفیت انما الاعمال بالنیات کے ترازو پر تولی جاتی ھے۔۔ نیت اور کیفیت طے کرتی ھے کہ موسیقی حلال رخ پر جا رہی ھے یا حرام جغرافئے میں داخل ھو چکی ھے۔۔۔

 

غِناء کیا ھے

 

آیت اللہ سید دستغیب شیرازی قدس سرہ  نے اس موضوع پر  گناھان کبیرہ نامی اپنی معروف کتاب میں بڑی جامع تصریح بیان فرما دی ھے۔۔  اور غناء کی یہی بنیادی شناخت  دیگر کتبِ احادیث سے بھی ماخوذ ھے:

 

"ھر وہ آواز اور گانا جو اپنے سننے والے میں اپنے مخصوص صوتی آھنگ کے باعث حیوانیت اور شہوانی خیالات کی تحریک پیدا کر دے اُسے غناء کہا جاتا ھے ۔۔"  یعنی کوئی موسیقی ایسی ھو کہ وہ جذباتی طور پر سننے والے کو بد مستی کے ساتھ  زنا کے قریب لے جائے تو وہ موسیقی غنا کے دائرے میں داخل ھو جائیگی۔۔۔

 

عھد قدیم میں بھی اور اب بھی جہاں جہاں  موسیقی کو شباب و شراب اور نا محرموں کے رقص و سرود کی محفلوں کیساتھ لازم و ملزوم رکھا جاتا ھے وہاں وہاں لفظ غناء کا اطلاق ھو جاتا ھے۔۔ کیونکہ وہاں پر  موسیقی سے پیدا ھونے والا نفسیاتی تموّج  سامع کو ان گنت دوسرے کبیرہ گناھوں کے ارتکاب تک پہنچا دیتا ھے ، اسلئے ایسی موسیقی حرام ھے اور فقہ کی اصطلاح میں غنا کہلاتی ہے۔۔۔ 

 

جبکہ دوسری طرف ایسی موسیقی جو نفس کو  تموّج ِشہوانی کے طوفان  سے نکال کر اسے فکری سکون۔۔ ٹھہراو اور سوز و گداز کی کیفیات سے وابستہ کر رہی ھو  اسے کسی بھی منطق سے حرام نہیں کہا جا سکتا۔۔

 

 

نتیجہ

 عقلِ سلیم ، فراخدلی اور علمی تجربات سے غور کیا جائے تو جس طرح ھر  کھیل جُوّا نہیں ھے۔۔ ھر فائدہ سُود نہیں ھے۔۔ ھر گوشت حرام نہیں ھے اور ھر مشروب شراب یا خمر نہیں ھے بالکل اسی طرح سے ھر موسیقی اور ھر موسیقیت حرام نہیں ھے۔۔۔ بلکہ کئی ایک کیفیات میں ردِّحرام کا سبب بنتی ھے۔۔۔!!

 


افکار و نظریات: موسیقی حلال یا حرام