وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے نام

 

تحریر: شہک جان رند

 

تعلیم جو کہ بنیادی حق ہے ہر انسان کا۔اس حق کو حاصل کر نے کے لے انسان بہت محنت کرتا ہے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور تا حیات یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جس طرح سال کے چار موسم ہوتے ہیں میری رائے  میں تعلیمی ادارو ں کے بھی مختلف موسم ہوتے ہیں کبھی گرمی تو کبھی سردی کبھی بہار تو کبھی خزاں۔

 تعلیم کے حصول کےلے طلباء سر توڑ محنت کرتے ہیں ،کچھ لوگ تو بچپن سے ہی اپنے تعلیمی کیر ئیر کے حوالے سے خواب سجائے بیٹھے ہوتے ہیں  کہ میں بڑا ہو کر یہ بنوں گا یا  وہ بنوں گی ، ان خوابوں میں سے ایک خواب ڈاکٹر بنے کا بھی ہوتا ہے، کچھ  ماں باپ کو تو اس حد تک شوق ہوتا ہےکے بچہ ابھی دنیا میں آتا بھی نہیں تب سے خواب بننے لگتے ہیں اور بچوں کے ذہنوں میں بھی  یہ بات پختہ کرتے جاتے ہیں کہ  بڑے ہو کر آپ ڈاکٹر ہی بنو گئے، ہر طرف مشہور کر دیتے ہیں کہ  میرا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر بنے گی،  بچے بھی ماں باپ کی خواہش کے ساتھ ساتھ اپنی خواہش بنا بیٹھتے ہیں لیکن ہمارے ہاں سیٹیں پہلے سے ہی بِک چکی ہوتی ہیں، جی ہاں حیران مت ہوں  یہاں تو ایمان بھی بکتے ہیں ، پھر یہ تو سیٹیں ہیں، ذرا سوچئیے اُن  بچوں سے اور  پو چھیے ان کے ماں باپ سے جو دن رات محنت مزدوری کت کے اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

  میرے اور آپ کے لے تو صرف ایک سیٹ ہے پر جو دن رات کی محنت کرتے ہیں انکا کیا ہوگا وہ جو ابھی ایف ایس سی پاس بھی نہیں کرتے ساتھ ہی ایکیڈمیوں میں داخلے لے لیتے ہیں کے ان کی اچھی تیاری ہو گی ہزاروں روپے کی فیسیں ادا کرتے ہیں کبھی سوچا ہے کہ ماں باپ کہاں سے و ہ فیسیں  لاتے ہوں  گے  دن رات کی جی توڑ محنت کے بعد بھی آپ سیٹ لینے میں ناکام رہتے ہیں تو  بھلا کیوں ناکام رہتے ہیں!

 آپ کی محنت میں کہیں کمی نہیں رہی، کمی تو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے تعلیمی اداروں کے سربراہان کے ضمیروں  میں ہے جو غریب طلباء کی  محنت کو اپنا حق سمجھ کر ہضم کر جاتے ہیں، نقل اور سفارش کی بنیاودں پر سییٹیں فروخت کی جاتی ہیں۔نکل اور سفارش نے ہماری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیاہے۔

اس کا ثبوت ہمارے ہاں ہونے والا موجودہ  بی ایم سی کا ٹیسٹ تھا۔  کہنے کو تو وہ  ایچ ایس سی کی طرف سے لیا گیا تھا پر بھر پور نقل کو فروغ دیتے ہوئے جس کا ثبوت با قائدہ طورر پر تصاویر اور وڈیو کے ذریعے بھی دکھایا گیا اور بعد میں احتجاج  کرنے والے طلباء کو گرفتار بھی کر لیا گیا اور ہم روتے ہیں میرٹ کو کہاں کا میرٹ ؟

یہ ہے ہماری انتظامیہ اور یہ ہے ہماری حکومت !

یہاں اس بات کا رونا رویا  جاتا ہے کہ تعلیم ہر ایک پر فرض ہے ایسے فرض ہے؟ پہلے اپنے فرائض کو تو یاد  رکھیے  ۔ہم انصاف کا رونا کس کے پاس روئیں یہاں سنتا تو شاید ہر کوئی ہے پر عمل کچھ بھی نہیں ہوتا  اور ہو بھی کیوں ؟کسی کا کیا جاتا ہے گیا تو صرف اسکا جس کے سجائے ہوے خواب ٹوٹ گئے۔ آخر میں ،میں اتنا ہی کہوں  گا  کہ میرے دیس کے بچوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔


افکار و نظریات: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے نام