پی ٹی آئی  کی اقتصادی پالیسی

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

ایک عام شہری کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں کونسا ادارہ کیا کہہ رہا ھے ،اعداد و شمار آسمان کی طرف جا رہے ہیں یا زمین بوس ھو رہے ہیں ،اسے اگر مطلب ھے تو اپنے مسائل سے اور وہ اگر کسی جماعت کو ووٹ بھی دیتا ھے تو اپنے مسائل کے حل کے لیے اور اس کے مسلے چھوٹے چھوٹے ھوا کرتے ہیں ،اس کا مسلہ روٹی کپڑا اور مکان ھے ۔

کل شام کلینک پہ پندرہ ھزار کا پیشہ وارانہ ٹیکس کا چالان ملا ،جو کے صوبائی حکومت کی ایکسائز اور ٹیکسیشن وزارت کی جانب سے جاری ھوا تھا ،پانچ سال پہلے یہ ٹیکس ایک ھزار سالانہ تھا جو کے اس سال پندرہ ھزار سالانہ کر دیا گیا ھے ،اور وصولی چالان کے بعد صرف پانچ دن کے اندر جمع بھی کرانے ہیں ،شام جب گھر آمد ھوئی تو ایک اور چالان سامنے پڑا منہ چڑا رہا تھا اور وہ گھر کا ٹیکس ،وہ گھر جو ھم نے اپنے خون پسینے سے بنایا ھے اور اس کا ٹیکس تینتیس ھزار روپے سالانہ تھا ،پچھلے سال یہ ٹیکس بائیس ھزار تھا ،جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے یہ ٹیکس سات ھزار روپے سالانہ تھا ۔

ھم زاتی پیشہ وارانہ کام کرتے ہیں ،اپنے ھاتھ سے محنت مزدوری کرتے ہیں ،بجلی ،کرایہ ،سٹاف کو بھی تنخواہ دیتے ہیں  یعنی کہ دوسروں کو  روزگار بھی مہیا کرتے ہیں ،اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ،اور دلچسپ پہلو یہ ھے کے آج اگر ھم معذور ھو جایں یا موت ا جایے یا ریٹائر ھو جایں جو کے ھماری عمر کا سرکاری اہلکار ھو چکا ھوتا ھے تو حکومت وقت کے پاس ایک بھی ایسی پالیسی نہیں جو ھمارے نان نفقہ کا بندوبست کرے چہ جائے کے  سرکاری اللے تللے ،وزیروں اور انکی وزارتوں کے افسران کی گاڑیوں کے پیٹرول اور ایر کنڈیشنڈ دفاتر کی بجلی اور انکے بنگلوں کے کرائے اور انکے ٹی اے ڈی اے بھرتے پھر یں ،بہ الفاظ دیگر اپنے بچوں کے پیٹ بھی پالیں اور انکے بچوں کا پیٹ بھی بھریں ۔

پاکستان میں عام شہری بے یار و مدد گار ھے ،ریاست چوروں اور اچکوں کے ھاتھوں بے دست و پا ھے ،سیاست صرف اس لیے کی جاتی ھے کے ملک و قوم کو کیسے لوٹا جائے ،افسری کا امتحان یہ دیکھ کر دیا جاتا ھے کے کس محکمے میں کمائی زیادہ ھے ،اِنکم ٹیکس بہتر ھے یا کسٹم ،کنڈے ڈالے جاتے ہیں کے بجلی کیسے چوری کریں ۔امیر ھے یا غریب ،پڑھا لکھا ھے یا ان پڑھ ،ریاست کو نوچ رہا ھے ۔

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے گھروں کے ٹیکس میں پانچ سو فی صد اضافہ کیا ،پیشہ ورانہ ٹیکس میں پندرہ ھزار فی صد اضافہ کیا

۔

یہ بھی صحیح ھے کے عوام ٹیکس نہیں دیں گے تو حکومت ترقیاتی کام کیسے کرے گی تو پھر ایشیائی بینک سے ایک کھرب کا قرضہ ،جو کے سو ارب بنتا ھے یا کروڑوں میں دس ھزار کروڑ بنتے ہیں ،جو کے اس صوبے کے غریب  عوام بمع سود اتاریں گے ۔

نئی بوتل میں پرانی شراب ڈالنے سے شراب نئی نہیں ھو جاتی ۔

عمران  خان صاحب کو نواز شریف نام کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ھے ،اور صوبے میں من مانیاں ھو رہی ہیں ۔

خان صاحب !صوبے میں آ کر بیٹھیں ،اس صوبے سے ھی گزر کر غوریوں ،خلیجوں ،غز نیوں ،مغلوں اور سوریوں نے ھندستان پہ حکومت کی ،کاش اپ اس تاریخی حقیقت کو جان سکتے ۔


افکار و نظریات: پی ٹی آئی کی اقتصادی پالیسی