بس ایک ہونے کی دیر ہے

تحریر:صدف اجمل

ہم سب ایک ایسےمعاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہم کئ ایک مسائل سالوں اور کچھ تو صدیوں سے فیس کرتے آ رہے ہیں دن بدن سوشل ایشوز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کچھ مسا ئل تو صدیوں سے جوں کے توں ایسے ہی ہیں کچھ مسائل میں بہتری ائی ہے اور مزید بہتری آنا باقی ہے۔

 ضرورت اس باتکو چھیڑنے  کی نہیں کہ یہ مسائل کیا ہیں چونکہ  میں اور آپ تقریبا ہم سب ان مسائل سے واقف ہیں۔ بجلی کا مسئلہ،گیس کا مسئلہ، پانی کا مسئلہ ، روزگار کا مسئلہ ، تعلیم کا مسئلہ، صحت کا مسئلہ، شادیوں کے مسائل، گھریلوں مسائل، حکومتی مسائل الغرض اس طرح کے لا تعداد مسائل سے ہم وا قف ہیں۔بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان مسائل پر کس حد تک بات کرتے ہیں؟ ان کو حل کرنے کی کتنی کوشش کرتے ہیں؟ کس حد تک ہم متحد ہیں؟ ہم کتنی آواز بلند کرتے ہیں؟

 اگر ہم اس آس میں ہیں کہ کوئی الہ دیں کا چراغ یا  جادویی چھڑی ہمیں ملے گی جس سے ہمارے بیٹھے بیٹھائے تمام مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ہمیں خود ہی اپنا چراغ آپ بننا ہوگا ہمیں اپنی آواز کو اپنی جادوئی چھڑی بنانا ہو گا۔ پر ہم تو وہ قوم ہیں جو ایک فارمولے پر قائم ہے کہ نہ جییں گے نہ ہی جینے دیں گے نہ آواز بلند کریں گے نہ ہی کرنے دیں گے۔

 اگر کوئی اپنی آواز بلند کرتا بھی ہے تو ہم اس کو بار بار تنقید کا نشانہ بناتے ہیں باربار کہتے ہیں یار تمہیں یہ لکھ کر بول کر آواز بلند کر کے کیا ملے گا تم فضول کام کر رہے ہو چھوڑو یار تمہارے بولنے سے کیا کچھ بدل جائے گا؟

میں ایسے تمام لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ تنکا تنکا کر کے ہی دریا بنتا ہے۔ہمارا دین بھی کہتا ہے ظلم کے خلاف اٹھو لڑو آواز بلند کرو ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو، زبان سے نہیں تو دل میں برا جانو پر ظلم کو ظلم جانو_

ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہی ایک دوسرے پر بے جا تنقید،ہمارا یک جان نہ ہونا اور پلیٹ میں سجا سجایا کھانا ملنے کی امید ہے۔ہم سب کسی ایک مسلئے پر بھی یک جان نہیں دوسرے الفاظ میں یوں کہنا بلکل مناسب ہوگا کے ہمیں لگا کر کھانے کی عادت نہیں جس کی وجہ سے دوسرے ممالک ہم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

 آئیں سب مل کر آواز بلند کریں بلا امتیاز و تفریق کے یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں ایک اکیلا اور دو گیارہ کے برابر ہوتے ہیں۔ آئیں متحد ہو کر اپنی آواز بلند کریں تمام  مسائل کے لے کوشاں ہو جائیں بس صرف ایک ہونے کی دیر ہے اب۔۔۔


افکار و نظریات: بس ایک ہونے کی دیر ہے