آسمان سے گرا۔۔۔

محبوب اسلم

شریف خاندان کی کرپشن تو پہلے ھی عیاں تھی بھلا ھو پاناما پیپرز کا کہ جس نے اپوزیشن میں بیٹھے ھوۓ عمران خان کو ایک تگڑا موقع فراھم کر دیا اور اپنے چوروں کی برات لیکر یہ دلہا میاں احتساب احتساب کھیلنے لگ گئے۔ ھم عوام بھی یہ رنگ بازی دیکھ رھے ھیں لیکن مطمئین ھیں کہ چلو کسی بہانے یہ شریف چور تو گرے۔

لیکن اب پچھلے کچھ دنوں سے سپریم کورٹ کے بابے رحمتے نے کپتان کو انگلی دکھانے کے بجاۓ پورا ھاتھ دکھانےکی ٹھانی ھے تو ھمارا ماتھا ٹھنکا کہ یہ احتساب لینے کے بجاۓ دینا ھی نہ پڑ جاۓ۔

پہلی بات تو یہ کہ جس عمران خان کو پورا ھاتھ دکھایا جا رھا ھے اسکا ٹریک ریکارڈ اپنی پارٹی میں چوروں اور کرپٹوں کے حوالے سے کوئی زیادہ قابل تعریف نہیں ھے۔ بلکہ اگر یہ کہا جاۓ کہ پی ٹی آئی اب ایک روایتی کرپٹ سیاستدانوں کی پارٹی بن چکی ھے تو کوئی بےجا نہ ھوگا۔ یوں عوام یہ بات اچھی طرح جانتی ھے کہ بابا رحمتے ھمیں آسمان سے گرا کر کجھور میں ھی اٹکا رھے ھیں۔

دوسری طرف بابا رحمتے کو ملک میں کوئی دوسرا کرپٹ نظر ھی نہیں آتا۔ مثال کے طور پر زرداری کو چھوٹ دینا۔ مشرف سے صرفِ نظر کرنا۔ نا اھل جہانگیر ترین کی پارٹی کی جنرل سیکٹری شپ پر آنکھیں بند کر لینا۔ یہ وہ عوامل ھیں جو بابے رحمتے کو کانا بنا دیتے ھیں اور شریف چور کو خواہ مخواہ ھمدری حاصل ھو جاتی ھے۔ سامنے کی بات ھے کہ قانون سب کیلئے یکساں ھونا چاھئیے۔

 چلیں آپ نے نواز شریف کو کرپشن کے واضح ثبوت ھونے کے باوجود اس کو صرف بیٹے سے نا وصول شدہ تنخواہ ظاھر نہ کرنے پر نکال دیا۔۔۔ھم عوام نے سر کجھایا لیکن قبول کر لیا کہ چلیں کوئی ھوگی قانونی پیچیدگی۔ لیکن شریف چور کو آپ نے ایک جواز ضرور دے دیا کہ وہ پکارتا پھرتا ھے کہ مجھے اس تنخواہ پر کیوں نکالاجو میں نے لی ھی نہیں۔ نکالنا تھا تو پارک لین کے اپارٹمنٹز پر اور منی لانڈرنگ پر نکالتے۔ یوں یہ شریف چور آپکی قانونی پچ پر اب دندناتا پھرتا ھے۔

پھر بابا رحمتے نے نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کیلۓ بھی نااھل ٹھہرایا۔ بہت اچھا کیا۔۔۔لیکن یہی فارمولا کرپٹ جہانگیر ترین پر بھی عائدھوتا تو پی ٹی آئی کے ورکرز کو بھی سکھ کا سانس ملتا اور یہ شریف چور اب یہ نہ کہتا پھرتا ھے کہ بابا رحمتے اور فوج ملکر میرے مینڈیٹ کو چھین رھی ھے کیونکہ کسی دوسرے سیاستدان کو اسی طرح کے جرائم کی سزا نہیں مل رھی صرف مجھےھی تاک تاک کر نشانہ بنایا جارھا ھے۔ اور اب یہ بات عوام کے ذھن میں راسخ ھوتی جا رھی ھے۔

 

اور اب تو بکری کی گردن مٹکے میں پھنس جانے پربکری کی گردن ھی کاٹنے کا حکم صادر فرما دیا ہے۔ یہ بابارحمتے اب نون لیگ پارٹی کے اندرونی معاملات کو بھی چلا رھے ھیں۔ نواز شریف نے جن پارٹی ممبران کو سینٹ کے ٹکٹ دیئے وہ نواز شریف کے پارٹی صدر کی نااھلی پر زائل قررارپاۓ۔ اگر معاملہ یہاں تک رھتا تو ٹھیک تھا۔ لیکن جب نون لیگ کے سئنیر اور قائم مقام صدر راجہ ظفرالحق نے ان ممبران کو دوبارہ ٹکٹ ایشو کیے تو الیکشن کمیشن نے بابا رحمتے کی نصیحت پر عمل پیرا ھوتے ھوۓ انھیں صرف آزاد امیداور کے طور پر کھڑا ھونے کی اجازت عطا فرمائی۔ یہ سراسر زیادتی ھے اور صاف ظاھر ھے کہ مٹکے کو بچانے کیلئے بکری کی پھنسی ھوئی گردن کاٹی جا رھی ھے۔

یہ زیادتی اس شریف چور کو عوام کی نظر میں مظلوم بنا رھی ھے اور ایک بار پھر یہ چور عوام پر مسلط ھو جائیگا۔ تو جناب بابا رحمتے سے گذارش ھے کہ احتساب سب کا کریں اور ڈانگ سب کی منجھی تلے پھیریں۔ اور یوں بکری کی گردن نہ کاٹیں بلکہ مٹکا ھی توڑیں جو سیدھاطریقہ ھے!!!

 


افکار و نظریات: آسمان سے گرا۔۔۔