آئندہ نسلوں کا تحفظ

شہک جان رند

انساں کو اللہ پاک نے ایک بے حد خو بصورت مخلوق پیدا کیا ہے۔ لیکن اس کےباوجود انسان  چاہے و ہ مرد  ہو یا عورت اپنی خوبصورتی کو نکھارنے کے لیے  دن رات کوشاں رہتا ہے بیوٹی سیلون  کا رخ کرتا ہے اور طرح طرح کی بیوٹی کریمز لگا  کر اپنی  خوبصورتی  کو  چار چاند لگانے کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔

جیسے انسان اپنی خوبصورتی پر توجہ دیتا ہے ویسے ہی اگر ماحول اور اپنے اطراف پر بھی دے تو انسانی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن افسوس صد افسوس یہاں بنا بنایا تو ہر کوئی کھانے کو تیار ہے  پر محنت کی زحمت کوئی نہی  کرتا۔

کوئٹہ جو ۱۹۳۵ سےپہلےایک نہایت ہی خوبصورت اور حسین وجمیل شہر تھا اس وادی کوئٹہ کو لیٹل پیرس کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔اس کی خوبصورتی کا اندازہ آج بھی اس کی تصاویر کے زریعے لگایا جاسکتا ہے۔اس کی عمارات   ، ان پر  ہوئے نقش ونگار ، یہاں کا سر سبز وشاداب ماحول  منہ بولتا ثبوت تھا۔ لوگ دور دور سے یہاں کے خوبصورت مناظر کو دیکھنے کے لیے اتے تھے۔ پر ایک زلزلہ کیا آ گیا ہم اسی ایک زلزلہ کو پکڑ کر ہی بیٹھ گئے کہ کوئٹہ زلزلہ سےپہلےایسا تھا تو ویسا تھا ۔ وہ تو ایک قدرتی آفت تھی جس میں کسی انساں کا عمل دخل نہی تھا پر اب کب تک ہم اسی ایک بات کو پکڑے  بیٹھے رہیں گے؟

آخر کب تک؟ ایک آفت تھی آکر چلی گی اور ہم نے اپنا بہت کچھ کھو بھی دیا اپنے عزیزوں کو ، اپنے شہر سے جڑے نام لیٹل پیرس کو۔ پر اب جو ہو نا تھا ہو گیا اب تو اگے بڑھو ۔ ہم نے اپنے ہاتھوں بھی اپنے شہر کو خوب لوٹا ہے  ۔اس کی خوبصورتی کو اپنے ہاتھوں بھی جی بھر کر تباہ کیا میں ایک سوال پوچھنا چاہوں گا سب سے کہ اگر ایک بار اپ کے کھر کی ترتیب خراب ہو جائے تو آپ دوبارہ اسے درست نہی کریں گے ؟یا ہاتھ  پر ہاتھ دهرے اسی بے ترتیبی  کو روتے رہیں گے۔؟

  آپ یقینن اسے درست کریں گے۔ تو اپنے شہر کو کیوں نہی؟ یہ بھی  تو گھر ہے میرا آپ کا ہم سب کا ہم اس کی خوبصورتی کو بہت سے ذریعوں سے اجاگر کر سکتے ہیں جن میں سے ایک شجرکاری ہے یہاں پھول پودے اور درخت نا ہونے کی وجہ سے بے حد بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دن بدن ٹریفک کی وجه  سے پیدا هو نے والا دھواں یہاں  سبزہ نہ ہونے کی  وجہ سے  مختلف بیماریوں کا باعث بن رہا ہے جس میں سانس کی تکلیف تو بہت عام ہے۔

 درخت نہ ہونے کی وجہ سے آپ سڑکوں کو بے رونق پائیں گے۔  یہاں پکنک پوائنٹ بھی ایک عاد سے زیادہ نہیں اور جو ہیں بھی ان میں بھی درخت اور سبزہ نہ ہونے کے باعث لوگ لطف اندوز  نہیں  ہو پاتے۔نوا کلی  سے  جانے والی اوڑک کو سڑک پکنک  کے لے بلکل  درختوں سے خالی ہے  آپ کو  یہاں شہر میں یکا دکا ہی درخت ملیں گے۔ انساں کی ادھی بیماری ہی اپنے اطراف کےسرسبز ماحول کو دیکھ کر ہی دور ہو جاتی ہے۔ پر یہاں نہ تو ایسا ماحول ہےاور نہ ہی لوگ ہم بس ابھی تک ۱۹۳۵ سے پہلے کے کوئٹہ کو پکڑے بیٹھے ہیں کے اب بھی کوئی اے گا تھالی سجا کر بنا  بنایا صاف اور سرسبز  کوئٹہ کو  پیش  کر دے گا مانا کہ اس میں  ہمارے حکمرانوں  کا بھی قصور ہے پر ہم عوام بھی کسی سے کم نہیں_

 میرے ایک بہت ہی قریبی دوست ایک واقع سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جس علاقے میں وہ رہتے ہیں وہاں کے کونسلر نے پورے علاقے میں درخت لگانے کے مهم شروع کی پر چند ہی روز بعد ایک بھی درخت محلے میں دیکھائی نہیں دیا یہ ہے ہماری عوام کا حال۔ خدارا کچھ تو اپنے اور اپنے بچوں کے اور دوسروں کے آنے والے کل پر رحم کھاو یہ ہی درخت پودے ہمیں کئی ایک بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔

میری گزارش ہے گونر بلوچستان سے، چیف منسٹر بلوچستاں سے،کور کمانڈر بلوچستان، انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان، سیکٹر کمانڈر ایف سی  بلوچستان،انسپکٹر جنرل پولیس،ڈی ای جی کوئٹہ پولیس، چیف سیکٹری بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکٹری بلوچستاں، چیف ایگزیکٹو افیسر کینٹونمنٹ بورڈ، میئر کوئٹہ، ڈی سی کوئٹہ، اے سی کوئٹہ، ڈی سی فوریسٹ کوئٹہ، چیف انجینیر ایم سی کیو، اور سیکٹری فوریسٹ سے کے صوبے بھر میں شجرکاری کی مہم شروع کی جائے۔ اور عام عوام سے بھی کے اپنے ارگرد کو بہتر بنائیں  پودے اگائیں اور اپنے  اردگرد کی حفاظت کریں۔


افکار و نظریات: آئندہ نسلوں کا تحفظ