احتساب ابھی باقی ہے !

گلزار حسین

میرے ملک پاکستان کا شکر گزار ہوں حس نے مجھے بولنا سکھایا, چلنا سکھایا اور لکھنے کےلیے قلم ہاتھ میں تھمایا, میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ ہم آزاد ملک پاکستان میں رہتے ہیں,اور آزاد شہری ہیں ہم میں سے کوئ کسی کا غلام نہیں.

یہاں ایک بات ذہن میں رکھیے گا کہ میں کسی اور کا نہیں پاکستان کا شکریہ ادا کررہا ہوں جس کی وجہ سے آج میں یہ تحریر بلا خوف و خطر لکھ رہا ہوں. آج کل احتساب کیا اور کروایا جا رہا ہے جو کہ پاکستان کےلیے بہت ہی خوشی کی بات ہے. اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ سب احتساب کے کڑے کٹہرے میں کھڑے کیے جارہے ہیں اور احتساب لینے والے بھی سبھی ہیں,  گاموں حمام والا ہو یا اکرم حلوائ ہو , جلندر پیر ہو یا کوئ پیرنی بی بی سب احتساب لینا چاہ رہے ہیں.

میری زندگی میں پچھلے دنوں دو دن بڑے اہم گزرے ہیں اور ان دو دنوں نے مجھے حیرت میں مبتلا رکھا. پہلا دن یہ تھا کہا گیا کہ احتساب ہوگا, بلا خوف و خطر اور بلا امتیاز ہوگا. یہ بات یقین جانیے ایک خواب سی تھی بس حالت ایک سراب سی تھی. میں اس خواب کو دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اب پاکستان کو ہمارے گھر کو لوٹنے کھسوٹنے والوں سے لوٹا ہوا مال واپس لایا جاۓ گا اور پاکستان کی عوام کا پیسہ عوام تک پہنچ جاۓ گا, 

یہ بڑا ہی زبردست اور حسین تھا جس میں بڑے بڑے مگر مچھ احتساب کی گرفت میں آنے والے تھے اور آۓ بھی سہی.کون آۓ اتنا تو آپ بھی جانتے ہوں گے. دوسرا دن وہ تھا جس میں سب جج بن گۓ کوئ بھی مجرم نہ تھا سب احتساب کرنے والے بن گۓ,  یہ دن بھی بڑا عجیب لگا کہ مجرم تو کوئ نہ رہا رشوت دینے والا اور لینے والا , قاتل اور مقتول, ظالم اور مظلوم یعنی مدعی اور ملزم دونوں ایک صف میں کھڑے ہوگۓ اور چیخ چیخ کر کہنے لگے اب احتساب ہوگا اور بلا امتیاز ہوگا.

جو اساتذہ کرام بچوں سے زاتی کام کرواتے تھے وہ بھی اور ان کے شاگرد بھی دونوں کسی اور کا احتساب لینے لگے,  ڈاکٹر اور مریض بھی اسی طرح تھے اور مزے کی بات یہ کہ چور پولیس بھی ایک ہوگۓ.

اچھائ برائ میں مکس ہوتی صاف دکھائ دینے لگی پھر کیا ہوا کہ آہستہ آہستہ اچھائ کو برائ کے پیچھے دکھیلا جانے لگا اور اس کو لفظ مجبوری کا نام دیا جانے لگا کہ مجبوری میں تو سب جائز ہوتا ہے.

ابھی پچھلے دنوں نیو ایجوکیٹرز کی سیلری بنانے کےلیے جب اساتزہ کرام سے فی کس 5 ہزار یا پینتیس سو روپے لیے گۓ تو مجھے اتنی شرم آئ کہ دل کیا آئندہ لکھنا بند لیکن آپ جانتے تو ہیں بندے کو ڈھیٹ بنتے وقت نہیں لگتا سو مجھے بھی نہ لگا اور لکھنے لگا

پاکستان کا شکریہ اس لیے ادا کرتا ہوں کہ جس موضوع پہ بھی لکھوں قلم اسی طرف رخ کرلیتا ہے. جب اساتذہ سے رشوت لی گئ تو اساتزہ کو چاہئیے تھا کہ اس ظلم کے خلاف آواز حق بلند کرتے لیکن افسوس ایسا نہ ہوا بلکہ رشوت دینے میں اہم کردار ادا کیا,  میری تحریر شروع سے آخر تک ایک زنجیر کی طرح تو نہیں مگر زنجیر کی ٹکڑیوں کی طرح ہے آپ ان ٹکڑیوں کو جوڑ کر ایک زنجیر بنادیجے تاکہ اس زنجیر کو احساس کی زنجیر کا نام دیا جا سکے اور یہ زنجیر ایسے ہو کہ ہمارے گروپ والے سب کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہوں اور میں ڈیٹھ انسان بھی آپ کے درمیان جگہ پالوں

اور پھر ہم سب اس زنجیر سے ظلم کو جکڑ لیں اور ظالم کا احتساب کریں,  کاش کہ ہماری آہیں اور سانسوں میں ایک ہی احساس جنم لے لے کہ شکریہ پاکستان,  اور شکریہ ادا کر کے بھی دکھائیں.

پیارے دوستو  ! ! ! !

یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم میں سے چاہے وہ استاد ہے یا ڈاکٹر,  انجینیر یا جج یا وکیل یا فوجی یا پولیس یا سائنسدان یا پھر سیاستدان

جو بھی ہے وہ اپنے اندر سے اپنا احتساب کرے خود کو احتساب کے کٹہرے میں اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑا کرے اور پھر میاں صاحب,  خان صاحب,  مولوی صاحب, استاد صاحب ,ڈاکٹر صاحب کو مقدمہ جیت کر دکھاۓ.

جس وقت تک ہر شخص بجاۓ اس کے کہ دوسروں کو پھنساتا پھرے خود کو مثال کے طور پہ منواۓ اور پھر عوام کے دل جیت کر دکھاۓ.

اور خدا کی قسم احتساب ابھی باقی ہے وہ دن دور نہیں جب یہ وڈیرے, رقبے, فیکٹریاں, محل, گاڑیاں, بنک بیلنس, پھوت پھات کچھ بھی باقی نہ رہے گا تب ہوگا کڑا احتساب.

سوچیے وہ کیسا احتساب ہوگا,  وہ کیسا جج ہوگا وہ کیسی عدالت ہوگی جس میں ہم ایک زنجیر میں جڑے کھڑے ہوں گے اور ظالم ہمارے سامنے مقدمہ ہارے گا اور اسے اسی وقت سزا سنائ جاۓ گی ہمارا مال جو لٹ گیا ہمارے پیارے جو کٹ گۓ وہ ہمارے سامنے ہوں گے وہ جج ہمیں ہمارا مال ہماری عزت واپس لے کر دے گا. مجھے یقین ہے وہ دن دور نہیں جب کھرا احتساب ہوگا اور ہم جیتیں گے

اور جیتے گا سارا پاکستان اور جیتے گا مسلمان.

میں پورے پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے مجھے لکھناسکھایا اور اب برداشت بھی کررہا ہے مجھے.

احتساب ابھی باقی ہے.       


افکار و نظریات: احتساب ابھی باقی ہے