اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات پاکستان کا ڈی آئی خان تحریر: آئی اے خان قاتل کو سرعام سزائے موت کا سوال اٹھا تو چاروں صوبوں سمیت اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کی مخالفت کی اور وجہ یہ بتائی کہ اس سے معاشرے بالخصوص بچوں پہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرعام سزائے موت سے معاشرے پہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، دل آزاری ہوتی ہے۔ اسی دل آزاری کے پیش نظر سزائے موت کے مجرم کی اس کے گھروالوں سے ملاقات تو کرائی جاتی ہے مگر ان کے سامنے سزا پہ عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ مجرموں، قاتلوں اور ان کے خانوادوں کے احساسات کا خیال رکھنا کوئی بری روش نہیں ہے۔ بری روش تو یہ ہے کہ بے گناہوں، معصوموں کے سرعام قتل عام سے چشم پوشی کرکے یہ تاثر دینا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالانکہ بہت کچھ ہوا ہے۔ بچوں کے سامنے ان کے والدین کو دن دیہاڑے بھرے بازاروں میں قتل کیا گیا۔ بیوی کے سامنے شوہر اور والد ین کو شہید کیا گیا۔ کبھی سر اور سینوں میں گولیاں اتاری گئیں تو کبھی بارود سے درجنوں افراد کو یکمشت ابدی نیند سلا دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ قانون کی تحویل میں موجود جیل میں قید اسیروں کو ذبح کر دیا گیا اور قاتل ہمیشہ ارتکاب ظلم کے بعد کمال اطمینان سے چلتے بنے۔ سرعام ہونے والے اس قتل عام پہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ادارے چشم پوشی کی بری روش پہ کاربند ہیں۔ اہدافی قتل کی ایف آرز والی فائلیں تو برسوں کی گرد تلے دب کر رہ گئیں مگر مقتولین کے خانوادے آج بھی ان سانحات کے اثرات سے باہر نہیں نکل پائے۔ آٹھ، نو سال گزر گئے، بم دھماکوں کے کئی زخمی تاحال بستر علالت پہ ہیں۔ کئی اعضاء بریدہ زخمی ہمیشہ کیلئے معذوری اور اپاہجی کی قابل زحم زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ تاہم ان کی خبر گیری کا وقت نہ ہی سیاسی و مذہبی تنظیموں کے پاس ہے اور نہ ہی ریاست یا اس کے اداروں کے پاس۔ وقت ہو بھی کیسے سکتا ہے، اول الذکر ہسپتال میں فوٹو سیشن عیادت یا نماز جنازہ کی امامت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے تو ریاست امداد کے نام پہ مذاق کو متاثرین پہ احسان گردانتی ہے۔ ایک شہید نوجوان کی ماں چھ سال بعد آج بھی بے خیالی میں بیٹے کیلئے کھانا بناتی ہے اسکی راہ تکتی ہے۔ بیٹے کے خون کی’’قیمت‘‘ تو ریاست پہلے ہی ادا کر چکی، خبر نہیں ماں کے اس انتظار کا بھی کوئی معاوضہ اسے ملتا ہے یا نہیں۔ 2010ء میں پرنسپل اشفاق حسین کو ان کی اہلیہ کے سامنے شہید کیا گیا۔ آٹھ سال گزر جانے اور مسلسل علاج کے باوجود ان کی بیوہ اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائیں، آج بھی روح پہ لگے زخم کے باعث دائمی سر درد کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ مجھے تو اپنے بھتیجے کے وہ آنسو نہیں بھولتے، روالپنڈی سے جب وہ گھر میں آیا تو بلک بلک کر رونے لگا۔ سارے گھروالے پریشان ہوگئے۔ اس نے جب اپنے رونے کی وجہ بتائی تو سارا گھر ہی افسردہ ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ گاڑی میں ایک بزرگ خاتون اکیلی سفر کر رہی تھی، جب گاڑی رکی تو میں نے اس کا بیگ اسے اتار کر دیا۔ اس نے بیگ لیکر پہلے ڈھیر ساری دعائیں دیں، پھر شفقت سے سر پر اس طرح ہاتھ پھیرا جیسے کہ وہ یہ شفقت، یہ دعائیں دینے کیلئے ترس رہی ہو اور پھر رونے لگیں۔ مجھے پہلے تو سمجھ نہیں آئی مگر بعد میں اسی گاڑی کا ایک اور مسافر جو اس خاتون کو جانتا تھا، وہ اسے دلاسے دینے لگا کہ اماں صبر کرو۔ اس طرح مت رویا کرو، تمہارے شہید بیٹے کو تکلیف ہوگی۔ بھتیجا کہتا ہے کہ مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ وہ جوانسال شہید کی والدہ ہیں۔ چند روز قبل ہی ’’ڈیرہ اسماعیل خان کا نوحہ‘‘ تحریر پڑھنے کا موقع ملا۔ اللہ رب العزت اس کے لکھاری کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ میرے نزدیک ڈیرہ کا نوحہ یہ نہیں کہ ٹارگٹ کلرز چپکے سے آتے ہیں اور گھر کے دروازے پہ بے گناہ شہریوں کو قتل کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔ ڈیرہ کا نوحہ تو یہ ہے کہ بھتیجی کے سامنے اس کے چچا کو چار گولیاں ماری جاتی ہیں اور موٹر سائیکل کا ڈرائیور قاتل کو مزید ہدایت دیتا ہے، سر میں مارو، سر میں۔ ڈیرہ کا نوحہ یہ ہے کہ بے نقاب قاتل کہ جن کے چہرے مشخص ہوں، 27 کیمروں میں ان کی تصاویر موجود ہوں اور پھر بھی اداروں کی گرفت سے محفوظ ہوں۔ یکے بعد دیگرے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد پولیس دعویٰ کرے کہ سکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے ہیں اور اگلے ہی دن شاہراوں پہ ٹارگٹ کلرز کے تشہیری پینا فلیکسز لگے ہیں اور پولیس ان بینرز سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار بھی کرے جبکہ خیبر پختونخوا آئی جی پی اسی دن ڈیرہ میں موجود بھی ہوں۔ مقام شکر ہے لگانے والوں نے پینا فلیکسز لگائے، خدانخواستہ تخریبی مواد نصب نہیں کیا، وگرنہ پولیس اس سے بھی لاعلم رہتی۔ تشہیری بینرز حساس ایریاز کے مرکزی مقامات پہ لگائے گئے، جہاں سرکاری سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہیں مگر بینرز لگانے والے ان کیمروں سے محفوظ رہے۔ (حیرت کی بات ہے) دستور دنیا ہے کہ کسی بھی گھر سے جب مقتول کا جنازہ اٹھتا ہے تو خاندان بھر کی خواتین اس مقتول کیلئے گریہ کناں ہوتی ہیں ۔اس موقع پہ وہ اپنے بچوں، بھائیوں، بزرگوں کی فکر چھوڑ دیتی ہیں، مگر عجب ظلم کی یہاں داستان رقم ہوئی ہے کہ سار کچھ ہی دستور دنیا کے برخلاف دیکھائی دیتا ہے۔ شہید مطیع اللہ کا جنازہ جب اٹھا تو کوئی بہن اپنے بھائی کو آنسو ؤں کیساتھ ، کوئی ماں اپنے بیٹے کو دعاؤں کے ساتھ تو کوئی بیٹی اپنے والد کو عجیب سی بیچارگی کیساتھ رخصت کرتی نظرآئیں۔ جنازہ اٹھا تو خواتین اور بچیاں سر پہ قرآن اٹھائے اپنے پیاروں کی خیر کی دعائیں مانگتی رہیں۔ اس کے علاوہ اور وہ کر بھی کیا سکتی تھیں، شہید شیر زمان کا جنازہ بھی اسی امام بارگاہ سے اٹھا تھا۔ جسے خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا اور سو سے زائد افراد اس خودکش دھماکے کا نشانہ بنے تھے۔ ڈیرہ کا نوحہ تو یہ بھی ہے کہ شہید سے زیادہ شہید کے جنازے میں شریک ہونے والوں کی فکر گھر والوں کو لاحق ہو جاتی ہے۔ ڈیر ہ کا نوحہ تو یہ بھی ہے کہ دہشتگردوں نے یہاں تشیع پہ دائرہ حیات تنگ کیا۔ حکومت اور اداروں نے داد رسی نہیں کی۔ مذہبی تنظیموں نے لاپرواہی برتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قتل و غارت سے مجرمانہ چشم پوشی کی۔ غیر ریاستی عناصر نے زندگیا ں چھینی، انتظامیہ نے حقوق بشمول جینے کا حق ضبط کیا۔ بات یہیں تک رکی نہیں بلکہ صوبائی حکومت نے جائے مدفن (کوٹلی امام حسین (ع) تک ضبط کرلی۔ ڈیرہ کا نوحہ تو یہ بھی ہے کہ جو شہید کی نماز جنازہ کی امامت کرتا ہے۔ وہی اپنی ہر عوامی تقریر میں پولیس کے تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ جو صوبائی حکومت وقف کوٹلی امام حسین (ع) کی زمین جبری ضبط کرکے اس پہ پارک بنانے کی منصوبہ بندی کرتی ہے اسی صوبائی حکومت کے ہر میمنے میسرے کے پہلو میں وہی لوگ براجمان ہوتے ہیں، جو تشیع کی نمائندگی کا دم بھرتے ہیں۔ پانچ سالہ ہادی علی کہتا ہے کہ ’’اللہ برباد کرے ظالموکو::: چاچو میرے نانا ابو کو چھ گولیاں ماری ہیں، پانچ سینے میں لگی ہوئی تھی اور ایک سر میں۔ چاچو جب میں نے نانا ابو کو دیکھا تھا تو اس وقت ان کا بہت خون نکل رہا تھا۔ اس کی سات سالہ بہن اپنے والد کو گھر سے باہر نہیں جانے دیتی۔ وہ بچی ہے مگر اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ شہر کی گلیوں میں سفاک قاتل موت کا سامان اٹھائے آزادانہ گھوم رہے ہیں اور جسے چاہے مار دیتے ہیں۔ اسے یہ بھی خبر ہے کہ ہم بہن بھائی ابھی بہت چھوٹے ہیں اور اگر خدانخواستہ ابو کو کچھ ہوگیا تو ۔۔۔۔۔ میرے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سات سالہ بچی جس حقیقت سے آگاہ ہے، ریاستی ادارے اس حقیقت سے لاعلم ہوں۔ یقیناً وہ لاعلم نہیں مگر پھر بھی لاعلم ہیں۔ خبر نہیں ظلم کی یہ سیاہ رات جو اہل ڈیرہ کے تشیع پہ چھائی ہے، یہ کب چھٹے گی۔ چھٹے گی بھی یا نہیں۔؟ غم اس بات کا نہیں کہ ظلم جاری ہے، غم تو اس بات کا ہے کہ کوئی شریک غم بھی نہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: پاکستان کا ڈی آئی خان
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں