اُف کرنا ممنوع !

ہم اُف نہیں کر سکتے ! اُف کریں تو یہ خدا کی مرضی کے خلاف ہے!ہم ہائے تک نہیں کر سکتے ، ہائے کریں تو یہ جمہوریت کے خلاف ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے کتنے ہی سالوں سےیمن میں سعودی جہاز ننھے بچوں پر بارود چھڑک رہے ہیں لیکن ہم آنسو نہیں بہا سکتے چونکہ یہ صبر کے خلاف ہے ، ہمارے سامنے غیر ملکی غنڈے اسی فی صد عراق چھین لیں آپ واویلا نہیں کر سکتے چونکہ یہ خلافت اسلامیہ بننے جا رہی ہے۔

لاکھوں لوگوں کے بچوں کو دہشت گردی کی ٹریننگ دے کر اُنہیں موت کی وادی میں دھکیلنے والے مولانا صاحب خود برقعہ اوڑھ کر اپنی جان بچائیں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے چونکہ اس سے علمائے کرام کی توہین ہو تی ہے، ہم راجہ بازارا راولپنڈی میں خود اپنے ہی مدرسے کو آگ لگانے والوں اور اپنے ہی فرقے کے لوگوں کو قتل کرنے والوں کے خلاف زبان نہیں کھول سکتے چونکہ اس سے جہاد پر حرف آتا ہے ، ہمارے سامنے ترکی شام کی سرحد میں داخل ہو کر کردوں کے خلاف کارروائی کرے تو ہم چیخ نہیں سکتے چونکہ اس سے عالم اسلام کے اتحا د کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔۔۔

یہ روز روز کا دین اور آئین کے ساتھ مذاق، کبھی مولوی برقعے سے برآمد ہوتا ہے، کبھی اپنے ہی فرقے کے مدرسے کو آگ لگائی جاتی ہے، کبھی زندہ لوگوں کو کفن میں لپیٹ کر تصویریں بنائی جاتی ہیں، کبھی خلافت قائم کرنے کے لئے آرمی پبلک سکول کے بچوں کو شہید کیا جاتا ہے ، کبھی کسی مدرسے کی بچیوں کو ڈنڈے پکڑوا کر سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جاو اور اسلام نافذ کرو۔۔۔

آخر ہمیں کب عقل آئے گی اور ہم ان منافق لوگوں کو کب پہچانیں گے!