اساتذہ کرام کے نام

تحریر.  گلزار حسین

آج رات پورے نو بجے میرے تین شاگردوں نے مجھے جگایا تو میں چونک گیا کہ یہ کیا ہوگیا ان میں ایک ہاتھ میں ایک ڈبہ مٹھائ, ایک کے ہاتھ میں رزلٹ کارڈز اور تیسرے کے پاس کولڈ ڈرنک تھی

انہوں نے میرے قدموں کو چھوا اور کہا استاد جی ہم پاس ہوگۓ,  ہم نے پوزیشنز لی ہیں,  میں ایک لمحہ تک تو مجسمہ بن گیا پھر ایسے لگا جیسے چودہ طبق روشن ہورہے ہوں,  میں جگہ ڈھونڈ رہا تھا کہ کہیں چھپ جاؤں,  ان بچوں سے نظریں چرانے لگا,  لیکن ایسا نہ ہو پایا

میں نے بھی ہمت کی اور کہا بیٹا میں تو محنتی استاد نہیں ہوں,  میں تو نکما ہوں,  میں نے تو آپ پڑھایا ہی نہیں بس گپ شپ کرکے بلکہ آپ کا وقت ضائع کرتا رہا ہوں,

 ,,,,,,,,,,

انہوں نے کہا

استاد جی آپ نے ہمیں گائیڈ کیا آپ نے ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ بتایا,  آپ نے ہمیں سوچنے کی سمت دی,  آپ نے ہمارے اندر علم کے حصول کی ایسی لگن پیدا کی ایسی آگ لگائ کہ ابھی بھج نہیں رہی,  آپ نے ہمیں Motivate  کیا بس اسی وجہ سے ہمیں تعلیم کے بغیر قرار ہی نہیں.

میں ان کی یہ باتیں سن کر حیران رہ گیا کہ گائیڈ کرنے سے,  صرف رستہ یا سمت بتانے سے,  صرف motivate کرنے سے بھی پوزیشن آ سکتی ہے, 

حالانکہ حالات اتنے خراب ہیں اور پھر بھی علم کی لگن پیدا ہوگئ,  اس سارے معاملے کی مجھے سمجھ نہیں آئ, 

بس آج کے بعد سے میں خود سے تہیہ کررہا ہوں کہ میں ایک اچھا پڑھانے والا بنوں گا,  بچوں کا مستقبل برباد نہیں کروں گا,  بس یہ سارے میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں

میں خوش ہوں کہ میرے بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی,  رب نے مجھے مالا مال کر رکھا ہے یہ تو مجھے آج معلوم ہوا کہ گائیڈ کرنے سے اتنا کچھ ہوجاتا ہے, 

اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں مٹھائ کا حقدار ہوں اور نظریں بھی نہ چراؤں, 

یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ مجھے اچھا استاد سمجھے یا نہ سمجھے,  میرے پاس بحث والے الفاظ نہیں بس یہی کام صبح شام کروں گا

میں اب اس پنیری کی حفاظت کروں گا کیونکہ میں ہوں تمھارا,  تمھاری پوری قوم کا محسن, 

مجھے فخر ہے میں محسن پاکستان ہوں,  میں تمھارا استاد ہوں,  میں اب پاکستان کو روشن پاکستان بناؤں گا,  کیونکہ وقت میرے ہاتھ میں ہے,  میں خود اپنے بچوں کا مستقبل سنواروں گا کیونکہ میں استاد ہوں.

میں اپنی پرانی سستی و کاہلی پہ آپ سے شرمندہ ہوں ہمت کیجے مجھے معاف کیجے کیونکہ میں استاد ہوں.

اب میں اپنا اور اپنی نسل کا مقام حاصل کر کے رہوں گا.

نتائج کے دن لکھی گئ میری تحریر صرف اساتذہ کرام کے لیے.


افکار و نظریات: اساتذہ کرام کے نام