جدید جنگی سوچ

ڈاکٹر ندیم عباس

پہلے جنگیں صرف بادشاہوں کی انا کی تسکین کے لئے لڑی جاتی تھیں اور لڑنے والے پیشہ ور سپاہی ہوتے تھے، جو مال و دولت کی چمک پر بہادری کے جوہر دکھاتے تھے۔ بعض جنگیں مذہب اور قوم کے نام پر لڑی جاتی تھیں تو اس میں یقیناً مذہب اور قوم کا مفاد بہترین نعرے کا کام کرتے تھے اور لوگ اسی کے لئے لڑتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے یہ تبدیلی آئی کہ میڈیا کا بے تحاشہ استعمال ہونے لگا، جس سے لوگ اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ اسی دور میں مشہور جملہ کہا گیا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ اسی کو سچ سمجھنے لگیں۔ اب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے، اب جس گروہ نے جنگ میں شریک ہونا ہے، اس کا مضبوط پروپیگنڈا یونٹ ہونا چاہیے، جو ہر وقت لوگوں کے ذہنوں کو اس جنگ کے لئے تیار کرے اور دشمن کے ہر عمل کو اس انداز میں پیش کرے کہ اسے دنیا بھر میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ یہی پروپیگنڈہ تھا، جس سے متاثر ہو کر امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک سے نوجوان اور حیران کن طور پر نوجوان خواتین کی بڑی تعداد داعش جیسی انسان دشمن تنظیم میں شامل ہونے کے لئے عراق اور شام پہنچی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب یمن کے مظلوم عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے صنعا کا کنٹرول سنبھال لیا تو بی بی سی کی خبر کا عنوان یہ تھا: "شیعہ حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا۔" اب ظاہراً یہ بات غلط نہیں ہے کہ حوثی زیدی شیعہ ہیں، مگر بی بی سی کبھی بھی یہ خبر نہیں لگائے کہ افغانستان پر مسیحی امریکیوں یا نہتے فلسطینیوں پر یہودی اسرائیلیوں نے حملہ کیا۔ آپ اس خبر کے نتائج دیکھ لیں، اس کے بعد مسلم ممالک کے میڈیا پر جتنی خبریں چلیں یا دانشوروں نے جتنے کالم لکھے، سب نے شیعہ حوثی کی اصطلاح کو ہی استعمال کیا اور اس کے ایجاد کرنے والے جو مقاصد اس سے حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ کامیاب ہوئے۔ یمن کی خالص عوامی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو فرقہ وارانہ حکومت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر دیا اور پھر جو ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔

جب سے شام میں شامی افواج نے دمشق کے نزدیک ایک انتہائی اہم علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کی کارروائی شروع کی ہے، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کا طوفان آیا ہوا ہے۔ حکومت نے عوام کو نکلنے کے لئے مناسب وقت دیا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں، اب بھی ہر روز چار گھنٹے تک کی جنگ بندی کی جاتی ہے کہ سول شہری علاقے سے نکل جائیں۔ دہشتگردوں کے خاندان اور کچھ یرغمال لوگ وہاں موجود ہیں۔ یہ دہشنگرد کچھ معصوم لوگون کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ داعش نے موصل میں ایسا ہی کیا تھا، جو جنگ عراقی فوج اور رضاکار فورس ایک دو ہفتوں میں جیت سکتی تھی، اسے کئی ماہ لگ گئے تھے۔ شام جنگ کی ایک ویڈیو بہت مشہور ہوئی تھی، جس میں ایک تین سال کا زخمی بچہ ہسپتال لایا جاتا ہے اور اسے کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ یہ بچہ اپنے ہاتھ سے آنکھیں صاف کرتا ہے، اس سے یہ بتایا جاتا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں اس کا گھر تباہ ہوگیا ہے اور اسے امدادی کارکن بچا کر لائے ہیں۔ بچے کی معصومیت اور بمباری سے متاثر دکھائی دیتا اس کا حلیہ سخت دل سے سخت دل انسان کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ شامی افواج پر صلواتیں بھیجے۔ حیران کن طور پر یہ ویڈیو اتنی پاپولر ہوئی کہ دنیا کے تمام میڈیا ہاوسز پر چلائی گئی، سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں نے دیکھی اور دوسرے دن چار سو اخبارات میں فرنٹ پیج پر اس بچے کی تصویر کو شائع کیا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ایک تصویر نے بین الاقومی رائے عامہ کو کس طرح شامی افواج کے خلاف کر دیا ہوگا؟ لیکن حقیقت کیا تھی؟ فیک نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو جعلی تھی، کیونکہ جو بچہ بمباری سے نکلا ہو، وہ اس قدر سکون سے نہیں بیٹھ سکتا بلکہ جس قدر اسے زخمی دکھایا گیا ہے، وہ بیٹھ ہی نہیں سکتا اور بچے کا چہرہ نارمل نظر آ رہا ہے، جو ایسی صورتحال میں نہ ممکن ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک تصویر بہت وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک چار پانچ سال کی بچی دو قبروں کے درمیان سوئی ہوئی ہے۔ عنوان لگایا گیا تھا کہ بچی کے ماں باپ دونوں کو اسد کی فوج نے مار دیا ہے، اب بچی جو ماں باپ کے ساتھ سوتی تھی، اسے نیند نہیں آرہی تھی، اس لئے ان کی قبروں کے درمیان آگئی ہے۔ ایک جذباتی ماحول میں جب جنگ جاری ہے، اس طرح کی جذباتی تصاویر اور تحریریں جہاں مخالف کو بدنام کرتی ہیں، وہیں اپنے لئے حمایتی بھی پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بچی کی تصاویر کو بے تحاشہ استعمال کیا گیا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر بہت سے شارٹ ویڈیوز بنائی گئیں، جس میں شامی عوام کی حمایت کے نام پر شامی دہشگردوں کی حمایت کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ آپ ان گروہوں کے پروپیگنڈہ پیجز کو وزٹ کریں، وہاں حکومت کے حمایتی عام لوگوں کے قتل عام بڑے فخر سے پیش کیا گیا ہوگا بلکہ آپ کو سر قلم کرتے ہوئے ویڈیوز بھی مل جائیں گے، جس میں ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی لگائی جائیں گی۔ اس بچی کی پہلے ایک تصویر وائر ہوئی تھی، بعد میں اس کی چند تصاویر منظر عام پر آئیں، جن میں وہ ان مٹی کی دو ڈھیریوں کے درمیان سے مسکراتی ہوئی اٹھ رہی ہے، بھاگ رہی ہے، یعنی یہ سب ڈرامہ تھا، اس بچی کا فوٹو سیشن کیا گیا تھا۔

حلب کی جنگ کے دوران پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا کہ حلب میں عوام کا قتل عام ہو رہا ہے اور جیسے ہی اسد کی فوج داخل ہوگی جانے کیا قیامت آجائے گی؟ پورا بین الاقوامی میڈیا اس کارروائی کو جنگی جرائم سے بھی بڑی کوئی چیز بتا رہا تھا۔ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر حلب کے عنوان سے بڑی بڑی کمپینز چلائی گئیں۔ یہ اتنی کامیاب رہیں کہ اس کے بعد مذہبی جماعتوں نے مظاہرے کئے اور ٹی وی چینلز نے اس پر پروگرام کئے۔ اسی دوران ایک پاکستانی صحافی حلب چلے گئے اور انہوں نے وہاں کے حالات کی درست نشاندہی کر دی، ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ جب وہ پاکستان واپس آئے تو ان کو کراچی میں کچھ لوگوں نے باقاعدہ گھونسوں لاتوں سے مارا کہ تم نے درست صورتحال کیوں دکھائی؟ پھر دنیا نے دیکھا کہ حلب آزاد ہوا۔ جن لوگوں نے حلب جل رہا ہے، کے عنوان سے کالم لکھے یا سوشل میڈیا کمپین چلائی، انہوں نے درست کیا تھا، کیونکہ حلب تو جل رہا تھا دہشتگردوں کے ہاتھوں، داعشیوں کے ہاتھوں اور اسی طرح کے دیگر انسانیت دشمنوں کے ہاتھوں۔ پھر شامی فوج نے بڑی قربانیوں کے بعد اس شہر کو مکمل آزاد کرا لیا۔ آج حلب امن کا شہر ہے، وہاں کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ اب وہاں فٹ بال میچ ہوتے ہیں، زندگی کا سفر دوبارہ سے شروع کیا جا رہا ہے۔ دہشتگردوں کو دمشق کے مضافات سے نکالنا ضروری ہے، تاکہ دارالحکومت دہشتگردوں سے پاک ہو جائے اور اس کے ساتھ حلب کو جانے والی شاہراہ بھی ان کی زد سے محفوظ ہو جائے۔


افکار و نظریات: جدید جنگی سوچ