اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مقدس وردی اور غیر مقدس لوگ تعصب کسی بھی طرح کا ہو، انسان کی تنگ نظری اور کم عقلی پر دلالت کرتا ہے۔ جس طرح مذہبی، لسانی اور علاقائی تعصب مذموم ہے ، اسی طرح فوجی اور سول کا تعصب بھی قبیح ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو غلط اور صحیح کو نہیں دیکھتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ فوج کی وردی پہن کر جو کچھ کیا جائے اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ حقیقت یہ ے کہ فوج کی وردی کا تقدس اور وردی پہننے والے کی ذات دو الگ چیزیں ہیں۔ جو آدمی فوج کی مقدس وردی پہن کر اس کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے تو بلاشبہ وہ ہماری ملت کا ہیرو ہے لیکن اگر کوئی فوج کی مقدس وردی پہن کر اس وردی کے تقدس کو پامال کرتا ہے تو ہمیں اس غلط شخص کو غلط کہنا چاہیے تاکہ لوگوں کو سمجھ آئے کہ مقدس وردی کے اندر ایک غیر مقدس شخص چھپا ہوا ہے۔ غلط لوگ کسی بھی وردی اور لباس میں ہوں، وہ چاہے علما کے لباس میں ہوں، صحافت کی چھتری کے تلے ہوں، پولیس یا فوج کی وردی میں ہوں یا سیاستدانوں کے روپ میں ہوں ، ہمیں غلط کو غلط کہنے کی عادت ڈالنی ہو گی۔ آئیے روزنامہ نوائے وقت کے معروف کالم نگار قیوم نظامی کا کالم پڑھتے ہیں اور تعصب سے ہٹ کر اچھے اور برے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روزنامہ نوائے وقت کالم نگار قیوم نظامی پاکستان کے یوم سیاہ 5جولائی 1977ء کے بارے میں کالم لکھنے کا ارادہ کیا تو اعجاز الحق کے ساتھ انکے گھر راولپنڈی میں ہونیوالی ملاقات یاد آگئی۔ اعجاز الحق میرے سیاسی پس منظر سے واقف تھے انہوں نے بڑے خلوص اور محبت کا مظاہرہ کیا اور اعتماد میں لیتے ہوئے پاکستانی سیاست اور صحافت کے کچھ چہروں کے بارے میں چشم کشا باتیں بتائیں جو امانت ہیں۔ یہ کالم کسی تعصب کے بغیر پاکستان کے ساتھ لازوال محبت کے جذبے سے لکھا جارہا ہے ہرگز کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ہے۔ حق گو جنرل فیض علی چشتی کی رائے کے مطابق امریکی سی آئی اے نے جنرل ضیاء الحق کی تربیت کی تھی اسی تربیت کی بدولت وہ عالمی معیار کے لیڈر بھٹو صاحب کو رام کرکے پاکستان کے آرمی چیف بن گئے حالانکہ سنیارٹی لسٹ پر ان کا نام ناویں نمبر پر تھا۔ وہ ملتان میں کور کمانڈر تھے بھٹو صاحب جب ملتان جاتے تو جنرل ضیاء الحق بذات خود ان کی سکیورٹی ڈیوٹی دیتے۔ بھٹو صاحب پوچھتے جنرل صاحب آپ یہ تکلیف کیوں کرتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کہتے ’’سر آپ کی جان پاکستان کیلئے بہت قیمتی ہے‘‘۔ بھٹو صاحب خوشامد پسند تھے اور جنرل ضیاء الحق کو اس فن پر عبور حاصل تھا۔ ایک بار قرآن ہاتھ میں لے کر بھٹو صاحب کے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے ’’سر میں آپ کا وفادار رہوں گا‘‘۔ آرمی چیف بننے کے بعد بھی جنرل ضیاء الحق وزیراعظم بھٹو کی خوشامد کرتے رہے ان کو عشائیے کی پرتکلف دعوت دی۔ فوجی افسروں کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیگمات کے ہمراہ عشائیے میں شرکت کریں۔ اس موقع پر جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم بھٹو کی شان میں یادگار قصیدہ پڑھا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ [1] http://www.nawaiwaqt.com.pk/adarate-mazameen/05-Jul-2016/489115
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
جنرل ضیاء الحق ایک دن وزیراعظم ہائوس میں بھٹو صاحب سے ملاقات کیلئے انتظار کررہے تھے کہ بھٹو صاحب اچانک اپنے آفس سے باہر نکلے جنرل ضیاء الحق نے ان کو دیکھ کر سلگتا سگار اپنی یونیفارم کی جیب میں ڈال لیا۔ بھٹو صاحب نے کہا ’’جنرل آپ پاک فوج کو جلارہے ہیں‘‘۔ مؤرخ متفق ہیں کہ پی این اے اور پی پی پی کے درمیان معاہدہ طے پاگیا تھا اور ڈیڈ لاک ختم ہوگیا تھا ۔ نئے انتخابات کا فیصلہ ہوچکا تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے 5جولائی 1977ء کی رات شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ قابل اعتبار شخصیت ایس ایم ظفر نے اپنی ذاتی ملاقاتوں کے حوالے سے بتایا کہ جنرل ضیاء الحق کافی عرصے سے اقتدار کے خواب دیکھ رہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے قوم سے نوے روز کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا جو انہوں نے توڑ دیا۔ جنرل ضیاء الحق نماز پڑھتے تھے اور عجز و انکساری ان کا شیوہ تھا ملاقات کرنیوالوں کو ان کی کار تک آکر رخصت کرتے یہ ان کا ذاتی کردار تھا مگر حکمران کی شخصیت کا تجزیہ اسکے اجتماعی کردار کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کا گیارہ سالہ طویل آمرانہ دور پاکستان کی تباہی اور بربادی کا سبب بنا۔ جنرل ضیاء الحق نے جہادی کلچر کی جو زہریلی فصل کاشت کی تھی اسے جنرل راحیل شریف اپنا سرہتھیلی پر رکھ کر کاٹ رہے ہیں۔ اب تک اسی ہزار سویلین اور فوجی جہادی کلچر سے پیدا ہونیوالی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار کے نشے میں پاکستان کے مستقبل کو ہی دائو پر لگادیا۔ عالمی شہرت یافتہ مؤرخ E-Girabdet لکھتے ہیں ’’ضیاء الحق اگر دوربین ہوتے تو سوچتے کہ روس کی ناکامی کے بعد امریکہ عالم اسلام کو دبانے کی کوشش کریگا اور عالمی نظام کا توازن ہی بگڑ جائیگا۔ آئی ایس آئی نے امریکی ڈالر اور اسلحہ مجاہدین کے گروپوں میں تقسیم کیا۔ فوج کے جرنیل خود بھی امریکی ڈالروں سے فیض یاب ہوئے‘‘۔[افغانستان: سوویٹ وار صفحہ67]
پی این اے کے لیڈروں نے ’’نظام مصطفی‘‘ کے نام پر تحریک چلائی مگر مارشل لاء کے نفاذ کے بعد آمر کی کابینہ میں شامل ہوگئے۔ اس تحریک کے سرگرم کارکن اہلحدیث جماعت کے پاک دل پاک باز سکالر و رہنما میاں محمد جمیل تسلیم کرتے ہیں کہ پی این اے کے کئی لیڈروں نے اسلام کے نام پر سیاسی مفادات حاصل کرلیے۔ جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے آئین اور سیاستدانوں کے بارے میں کہا ’’آئین کیا ہے یہ دس بارہ صفحات کا ایک کتابچہ ہے میں اس کو پھاڑ سکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ کل سے ہم ایک نئے نظام کیمطابق چلیں گے آج میں عوام کو جس جانب بھی لے چلوں وہ میری پیروی کرینگے۔ ماضی کے طاقت ور بھٹو سمیت تمام سیاستدان میرے پیچھے اپنی دُمیں ہلاتے آئینگے‘‘۔[کیہان انٹرنیشنل تہران بتاریخ 18ستمبر 1978] جب بھٹو صاحب نے آمر کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تو اس نے پنجابی ججوں کو ساتھ ملاکر ایٹمی صلاحیت کے بانی مقبول عوامی لیڈر اور اپنے محسن کو تختۂ دار پر چڑھادیا۔ جنرل ضیاء الحق کی باقیات اور ’’مارشلائی ورثے‘‘ کی فہرست طویل ہے مختصر یہ کہ آمر کے جہادی کلچر اور ’’سیاسی اسلام‘‘ کی وجہ سے فرقہ وارانہ تنظیمیں سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، تحریک نفاذ، فقہ جعفریہ وجود میں آئیں۔ فرقہ ورانہ مدارس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے بنیاد پرستی کے جو بیج بوئے ان سے جہادی لشکر انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیمیں القائدہ، طالبان اور داعش وجود میں آئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے ’’سیاسی اسلام‘‘ نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا۔ قائداعظم کی روح خوش ہوگی کہ ان کا وژن اور تصور درست ثابت ہوا کہ مذہب کو سیاست اور ریاستی امور سے الگ رکھا جائے۔
جنرل ضیاء الحق نے لسانی بنیاد پر ایم کیو ایم کھڑی کی شریف برادران کی سیاسی سرپرستی کی اور اپنی عمر بھی میاں نواز شریف کی نذر کردی جنہوں نے سیاست کو تجارت بنا دیا۔ کوڑے، قیدیں، نظربندیاں، جلاوطنیاں، عقوبت خانوں میں تشدد، کلاشنکوف و ہیروئین کلچر، سیاچین پر بھارتی قبضہ، جعلی ریفرنڈم، برادری کی بنیاد پر تقسیم، افغان وار، سیاسی بنیاد پر قرضے اور پرمٹ ، آئی جے آئی کی تشکیل، آدھی عورت کا تصور، انتہا پسندی، نفرت اور عدم برداشت پر مبنی نصاب تعلیم ضیاء دور کے ’’تحفے‘‘ ہیں۔ ایک اور جاہ پرست آمر جنرل پرویز مشرف نے امریکی جنگ کیلئے پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا کر پرائی جنگ کو اپنی جنگ میں تبدیل کردیا۔ آمر جرنیلوں کے اقدامات کی ذمے داری عسکری ادارے پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے نیم دلی کیساتھ یہ جنگ لڑی اور معصوم شہری دہشت گردی کا شکار ہوتے رہے۔ دہشت گرد اس قدر مضبوط اور منظم ہوگئے کہ جی ایچ کیو تک پہنچ گئے۔ پھر قدرت کو پاکستان اور عوام پر رحم آگیا۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمان سنبھالی جس کی مادر وطن سے محبت لازوال ہے جسکے جسم کے اندر حلال خون ہے جو زندہ ضمیر ہے اور مال و دولت کا اسیر نہیں ہے۔ ایمان، تنظیم اور یقین محکم اسکے عسکری اُصول ہیں۔ وہ خوشامد پسند اور اقتدار پرست نہیں ہیں۔
جنرل راحیل شریف نے بے مثال جرأت، محنت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ جنگ جیتی ہے جو برطانیہ، روس، امریکہ اور نیٹو افواج ہارچکے تھے۔ جنرل راحیل شریف نے مایوس قوم کو حوصلہ دیا اور اُمید کے چراغ روشن کیے۔ پاک فوج کے وقار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ قومی اتفاق رائے ہے کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کے عظیم، مقبول اور بے مثال سپہ سالار ثابت ہوئے ہیں۔ جنرل راحیل شریف چونکہ کرپشن کیخلاف ہیں، شفاف احتساب کے علمبردار ہیں اور گڈ گورنینس کے حامی ہیں اس لیے کرپٹ حکمران اشرافیہ کیلئے قابل قبول نہیں ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ آج کرپٹ حکمران اشرافیہ سے جڑے دانشور اور صحافی جنرل راحیل شریف کی ’’آئینی توسیع‘‘ کی مخالفت کررہے ہیں اور مختلف تاویلات پیش کرتے ہیں انکی آرزو سے کرپٹ حکمران اقتدار پر براجمان رہیں اور محب الوطن دیانتدار جرنیل گھر چلا جائے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جب جنگ منطقی انجام کی جانب بڑھ رہی ہو سپہ سالار تبدیل نہیں کیا کرتے۔ بقول میجر(ر) خالد نصر:۔
منزل تک وہ کیسے پہنچ پائے گا حضور
جو قافلہ ہے قافلہ سالار کے بغیر
چڑھتے سورج کی طرح ثابت ہوچکاکہ جنرل راحیل شریف ’’خدائی عطیہ‘‘ ہیں ۔ پاکستان قحط الرجال اور قیادت کے بحران کا شکار ہے۔ اگر تاریخ کے اس نازک اور حساس موقع پر جنرل راحیل شریف چلے گئے تو ریاست کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا اور سپہ سالار کا اپنا ضمیر بھی ملامت کریگا کہ وہ ذاتی شہرت کیلئے پاکستان کو فیصلہ کن مرحلے پر چھوڑ کرچلے گئے۔ باضمیر عوامی شاعر حبیب جالب نے جنرل ضیاء الحق کے بارے میں ایک نظم میں لکھا تھا۔’’ظلمت کو ضیاء صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا‘‘ آج اگر حبیب جالب زندہ ہوتے تو جنرل راحیل شریف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یادگار نظم ضرور لکھتے۔[1]
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں