عالمی طاقتیں اور ہمارے بچے

محبوب اسلم

 اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی طاقتیں چاھے وہ امریکہ ھو، روس ھو، برطانیہ ھو، یا چین ھو۔۔۔یہ سب اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مسلمان ممالک کی باھمی چپقلش میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنے اپنے حواریوں کا ساتھ دے رھے ھیں۔

 دوسری طرف میڈیا اور سوشل میڈیا پر جعلی پراپگنڈا ویڈیوز بھی موجود ھیں جو شیعہ اور سنی آبادیوں پر ایکدوسرے کے ھاتھوں ھونے والی تباہ کاریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش بھی کرتیں ھیں۔  لیکن کیا یہ تباہ شدہ عمارتیں بھی جعلی ھیں اور کیا امریک اور روس ان مسلمان ممالک پر جعلی بم برسا رھے ھیں؟؟؟

 یہ ھم کس طرح یمن پر سعودی عرب کی بمباری کی اور شام پر روس کی بمباری میں تفریق کے چکر میں پڑ چکے ھیں؟کیا ھم سنی اور شیعہ بچوں کی موت میں فرق کر رھے ھیں؟

جی بالکل یہی قبیح حرکت کی جارھی ھے کہ اسطرح کی تحریریں سامنے آرھی ھیں کہ یمن پر بمباری پر تو آپ چپ رھے۔آج غوطہ پر بمباری پر کیوں تکلیف ھے؟؟؟ بجاۓ ھر طرح کے ظلم اور تباہ کاری کی مذمت کی جاۓ۔ بجاۓ شیعہ اور سنی اتحاد اور امت کی بات کی جاۓ اور بجاۓ باھمی طور پر اختلافات کو حل کرنے کی بات کی جاۓ۔ اسطرح کی تحریریں صرف اور صرف باھمی دراڑوں کو مزید وسیع کرنے اور جلتی ھوئی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رھی ھیں۔

یہ رویہ پہلے ھی امت مسلمہ کو عذاب میں مبتلا کر چکا ھے۔ ھر حکومت چاھے وہ سنی ھو یا شیعہ اس زعم میں ھے کہ وہ زور زبردستی سے دوسرے کو دبا لے گی اور اس خوش فہمی میں ھے کہ اپنے طاقتور دوستوں کے ھوتے ھوۓ وہ اپنی بالا دستی قائم کر سکتی ھے۔ اب چاھے وہ سعودیہ عرب ھو جو امریکہ اور حتی کہ اسرائیل سے بھی آرمی امداد لیکر یمن میں اپنے امتی بہن بھائیوں پر بم برسا رھا ھے اور دوسری طرف حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ھے۔ لیکن یہ دونوں مسلمان ممالک بیٹھ کر مذاکرات پر تیار نہیں ھے۔

دوسری طرف شام کی شیعہ حکومت اپنے ھی سنی عوام کو بالکل ایسے ھی بنیادی حقوق دینے کو تیار نہیں جیسے بحرین اور سعودیہ اپنے ھی شیعہ عوام کو غلام بنا کر رکھنا چاھتی ھے۔ اور کم و بیش یہی حال ایران میں سنی شہریوں کیساتھ ھے۔

وقت کا تقاضہ ھے کہ ھم اپنے اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کریں اور اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور اگر ھم شیعہ اور سنی اس زعم میں ھی رھنا چاھتے ھیں کہ ھم اپنے غیر مسلم ساتھیوں کیساتھ ملکر ایکدوسرے کو سبق سکھا سکتے ھیں تو پھر شیعہ اور سنی اپنے اپنے بچوں کے لاشے ھی اٹھاتے رھینگے۔اور یہ امریکی اور روسی ھماری زمین پر ھمارے ھی خاندانوں پر بم برساتے رھینگے!!!

امت مسلمہ پر یہ عذاب الہی مسلط ھو چکا ھے۔ صرف ھم ھی اسکا تدارک کر سکتے ھیں لیکن شرط ھے کہ ھم شیعہ اور سنی بن کر نہیں بلکہ صرف امتی بن کر سوچیں اور اپنے اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ اپنے اپنے شیعہ اور سنی عوام کو انکے بنیادی حقوق مہیا کریں نہ کہ سنی شیعہ آبادی پر بمباری پر بغلیں بجائیں اور نہ شیعہ ھی سنی آبادیوں پر بمباری کا خیر مقدم کریں۔ یاد رکھیں یہ روس اور امریک امت اسلامیہ کے ازلی دشمن ھیں اور صرف اور صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر رھے ھیں اور بچے ھمارے مار رھے ھیں!!!


افکار و نظریات: عالمی طاقتیں اور ہمارے بچے