شفق کی جھیل میں جب سنگِ آفتاب گرے

ہمارے گھر پہ سیہ رات کا عذاب گرے

کہیں تو گردشِ ایام تھک کے سانس بھی لے!

کبھی تو خیمہء افلاک کی طناب گرے

کواڑ بند رکھو-- برق ڈھونڈتی ہے تمیں

کسے خبر کہ کہاں خانماں خراب گرے؟

سر شک درد کھلا اس کے پیرہن پہ بہت

زمیں کی گود میں جیسے گلاب گرے

کھلی ہیں جھیل سی آنکھیں نہ جوۓ درد چلی

افق سے کٹ کے کہاں عکسِ ماہتاب گرے؟

کہیں تو سلسلہء انتظار ختم بھی ہو!

کسی طرح تو یہ دیوارِ اضطراب گرے

کسی کے رایگاں اشکوں کا کچھ حساب تو کر

فلک سے یوں تو ستارے بھی بے حساب گرے

غزل کے روپ میں وہ روبرو جو ہو محسن

لبوں سے لفظ اڑیں -- ہاتھ سے کتاب گرے.....

 

 

 

……………….

چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میں

دیے تھے کم اور بہت اندھیرا

بہت شجر تھے تھوڑے گھر تھے

جن کو تھا دوری نے گھیرا

اتنی بڑی تنہائی تھی جس میں

جاگتا رھتا تھا ، دل میرا

بہت قدیم فراق تھا جس میں

ایک مقرر حد سے آگے

سوچ نہ سکتا تھا دل میرا

ایسی صُورت میں پھر دل کو

دھیان آتا کس خواب میں تیرا ؟؟

راز جو حد سے باھر میں تھا

اپنا آپ دکھاتا کیسے

سپنے کی بھی حد تھی آخر

سپنا آگے جاتا کیسے ؟؟


افکار و نظریات: شفق کی جھیل میں جب سنگِ آفتاب گرے