عفرین پر چند آنسو

عرفان علی

رقہ کی طرح شام کے صوبہ حلب کے شمالی علاقے عفرین کے مظلوم مسلمانوں کا نوحہ بھی کوئی لکھنے کو تیار نہیں۔ اسکا سبب واضح ہے، چونکہ عفرین میں مسلمانوں کا قتل عام نیٹو اتحاد میں شامل ملک ترکی کی سرکاری افواج کر رہی ہیں، اس لئے متعصب جاہلوں پر مشتمل نام نہاد مذہبی طبقے کی نظر میں یہ کوئی جرم ہی نہیں۔

 رہ گئے نام نہاد ترقی پسند و مادر پدر آزاد، تو نیٹو اتحاد ی امریکہ بھی اس خطے میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے، اس لئے نہ رقہ اور نہ ہی عفرین میں مسلمانوں کا قتل عام انکی نظر میں کوئی ایسا اہم انسانی مسئلہ ہے کہ جس پر سوشل میڈیا پر وقت ضائع کیا جائے۔ مذہبی جنونیوں کے لئے بھی عفرین کے مسلمان اس لئے ’’گمراہ‘‘ اور ’’مرتد‘‘ ہیں کہ سعودی عرب بھی نیٹو اتحادیوں کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور اخوانی اتحادی ترکی اور قطر سمیت ان سبھی کے مہرے شمالی شام کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں کے مسلمانوں کو مار رہے ہیں تو ان سب بے ضمیروں کے لئے راوی سکھ اور چین لکھ رہا ہے۔

ان سب کا شور اور واویلا اس وقت شروع ہوتا ہے، جب شام کی منتخب جمہوری حکومت اور اس کے اتحادی جب مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی کارروائی شروع کرتے ہیں۔ پچھلے سال حلب شہر کی آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی تو واویلا مچا ہوا تھا۔ ابھی مشرقی غوطہ کی آزادی کے لئے کارروائی شروع ہوئی تو ہائے ظلم، ہائے ستم کی فریاد و بکا کا نہ رکنے والا ابلاغیاتی طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

البتہ نیٹو اتحادیوں کے اختلافات اور الگ الگ مہروں کے ذریعے شام پر اپنا قبضہ جمانے کی اس روش نے نیٹو اتحادیوں اور انکے مہروں کو تقسیم کر دیا ہے۔ امریکہ کے تربیت یافتہ کرد گروہ ترکی کو قبول نہیں، اس لئے ترکی فری سیرین آرمی اور دیگر ہم خیال گروہوں کے ساتھ مل کر شمالی حلب میں بمباری، مارٹر شینلگ اور فائرنگ کے ذریعے 20 جنوری 2018ء سے اب تک سینکڑوں مسلمانوں کو مار چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کی جانب سے 24 فروری 2018ء کو پورے شام میں جنگ بندی کا حکم صادر ہوا، لیکن نیٹو اتحادی ممالک اور ان کے مہروں کی پروپیگنڈہ جنگ کا ہدف شام کی حکومت قرار پائی، جس سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کی جغرافیائی حدود میں اس کی ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے، اسکے شہریوں کو ہلاک و زخمی و قیدی بنانے والے، رہائشی عمارات، تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز، فوجی تنصیبات کو تباہ و برباد کرنے والے کرائے کے قاتل دہشت گردوں کے خلاف اپنے ملک کے قوانین کے تحت کارروائی سے باز رہے اور یہی نہیں بلکہ اس منتخب جمہوری حکومت کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کرنے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ چونکہ جرمنی میں کردوں اور انکے حامیوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور وہاں کولون اور برلن میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں تو جرمنی، فرانس، سوئیڈن اور امریکہ کی حکومتی شخصیات نے ترکی کو مشورہ دیا ہے کہ اقوم متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کی قرارداد برائے جنگ بندی پر عمل کرے۔ ترک حکومت دھڑلے سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترکی کہتا ہے کہ عفرین میں دو ہزار سے زائد ’’کرد دہشتگردوں‘‘ کو نیوٹرلائز کرچکا ہے۔ اس لفظ نیوٹرلائز کی دو تشریح کی جاسکتی ہیں۔ ماضی میں ایک ترک وزیر نے جب یہ لفظ استعمال کیا تھا تو ترکی کے خبر رساں ادارے اندلو نے اسے ہلاک کرنے کے معنی میں لیا تھا اور اب اس کی تشریح ایک اور ترک اخبار نے یوں کی ہے کہ دو ہزار سے زائد افراد یا مارے جا چکے ہیں یا پھر سرنگوں ہوچکے ہیں۔

 برطانیہ میں مقیم ایک شامی نے حقوق انسانی کے زمرے میں ایک ادارہ بنایا ہے، اس کے مطابق عفرین کارروائی میں ترکی کی بمباری اور شینلگ کی وجہ سے 200 عام شہری شہید ہوئے ہیں۔ امریکہ کی ہیومن رائٹس واچ اور برطانیہ کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بیانات جاری کئے ہیں۔ یعنی کسی حد تک زبانی جمع خرچ تو ہو رہا ہے، لیکن ترکی کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو ایک گروہ نے بشار الاسد کے سر کی قیمت کا اعلان کر دیا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر کی خطیر رقم اس ٹولے کے پاس آئی کہاں سے۔؟ یہ ٹولہ ترکی کی جانب سے شامی مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے خلاف چپ سادھے ہوئے ہے اور وجہ سبھی کو معلوم ہے کہ ترکی نیٹو کا رکن ملک ہی نہیں بلکہ اخوانیوں کا اتحادی بھی ہے، اس لئے عفرین کے مقتول مسلمان، مظلوم مسلمان، بچے، خواتین، بوڑھے یا جوان کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔

امریکہ کی زیر قیادت نام نہاد داعش مخالف اتحادکے پلیٹ فارم سے امریکہ، سعودی عرب، بحرین اور دیگر نے جو چھے ہزار عام شہریوں کا قتل عام کیا، اس پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں اور ان نام نہاد مذہبی و ترقی پسندوں نے آج تک کیا کارروائی کی ہے؟ ترکی کے خلاف کوئی جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کرنے کی بات نہیں کرتا! ایک آزاد مملکت شام کی جغرافیائی حدود میں ترک افواج، امریکی افواج، سی آئی اے، دیگر حکام، سعودی حکام، قطری حکام، صہیونی افواج اور جاسوسوں کا گھس آنا، کیا یہ بھی کوئی جرم ہے یا نہیں؟ شام کے اندر گروہوں کو مسلح حملوں کی تربیت دینا، انہیں ٹینک، ڈرون طیارے، دیگر طیارے، میزائل، راکٹ، ہر قسم کا اسلحہ فراہم کرنا، آیا یہ جرم ہے یا نہیں؟

اقوام متحدہ کے قوانین کی رو سے یہ سبھی کچھ غیر قانونی ہے تو ایسا کرنے والوں کو سزا کون دے گا؟ اور اگر اقوام متحدہ ان ملکوں کو سزا دینے سے قاصر ہے تو ان دشمن ملکوں اور ان کی نیابتی جنگ لڑنے والے دہشت گردوں سے شام کا دفاع اگر شام کی افواج، حکومت اور شام کے شہری نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ عفرین سمیت پورے شام میں جہاں کہیں بھی غیر ملکی آلہ کار دہشت گردوں کا قبضہ ہے یا شام کے دشمن ممالک کی افواج یا کسی بھی نوعیت کی موجودگی کے خلاف شام کی حکومت کو کارروائی کا حق اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت بھی حاصل ہے۔

 

ترکی نے چالیس ہزار سے زائد کردوں کو مارا ہے، کیونکہ وہ ترکی کی نظر میں کردستان پارٹی پی کے کے سے تعلق رکھتے تھے۔ ترکی نے دنیا کو بتا دیا کہ ریاست کا باغی اور حملہ آور واجب القتل ہے اور اس حد تک کہ اگر اس کو مدد کرنے والا کسی دوسرے ملک کا شہری ہو تو اس غیر ملکی کو اسی کے ملک میں گھس کر مارنا بھی جائز ہے، یہ ترکی کا نظریہ ہے، جس پر وہ عمل کر رہا ہے۔ شام کی ریاست تو اپنی جغرافیائی حدود میں ہی کارروائی کر رہی ہے، اس پر واویلا مچانا خود ترکی کے اپنے وضع کردہ اصولوں سے متصادم ہے۔ یہ الگ بات کہ ترکی سمیت کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ شام و عراق کی حکومتوں کی اجازت کے بغیر انکے ملک میں کسی بھی بہانے سے موجود ہوں یا مداخلت کریں۔

عفرین کے نہتے شہریوں کا قتل عام قابل مذمت کارروائی ہے۔ ترکی کو پی کے کے اور اس کے اتحادیوں کا بہانہ بناکر عفرین کے عام اور نہتے مسلمان شہریوں کو مارنا، ایک ناقابل منعافی جرم ہے۔ کوئی بولے یا نہ بولے، عفرین کے مقتول و مظلوم مسلمانوں، بچوں، خواتین، بوڑھوں اور جوانوں کی مظلومیت کو آشکار کرنا ہر مسلمان اور ہر باضمیر انسان پر واجب ہے۔ اس دہرے معیار کو بھی ختم کرنا ہوگا کہ یمن میں نہتے شہریوں کے قتل عام میں ملوث امریکی اتحادی سعودی بادشاہت کے خلاف خاموشی اختیار کی جائے، ایک بھی مظاہرہ نہ کیا جائے، جبکہ جنگ سعودی عرب نے مسلط کی ہے، لیکن شام کے اندر غیر ملکیوں کی مسلط کردہ جنگ کی حمایت کی جائے۔ یہ بے ضمیری و بے حسی کی انتہاء ہے!


افکار و نظریات: عفرین پر چند آنسو