آؤ مر جائیں

گلزار حسین

آۓ روز مسلمانوں کے خون کی بڑھتی ہوئ ارزانی سے دل یا تو دو دو دن تین تین دن ڈوب جاتا ہے ایسے لگتا ہے جیسے میں مر گیا ہوں .بس میرا جسم لوگوں کے ہجوم میں ایک تنکے کی طرح معلوم ہوتا ہے کبھی کبھی ایسے لگتا ہے  کہ یہ جو سارا لہو بہہ رہا ہے یہ مسلمانوں کا نہیں بلکہ یہ لہو ہی نہیں ۔ لہو کیا یہ کچھ بھی نہیں, مجھے لگتا ہے یہ خواب ہے ،یہ دنیا بھی کچھ نہیں,  اگر اس دنیا میں کسی کو جینے کا حق ہے تو بس ظالم کو ہے ۔

مولوی اور زاہدان دین بھی مجھے مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ یہ سب تیری وجہ سے ہے لیکن افسوس وہ یہ کیوں نہیں جانتے کہ میں تو مرا ہوا ہوں ،میں تو ایک لاش کی مانند اس دھرتی پہ پڑا ہوں کوئ مجھے اس دھرتی میں مدفن کردے تو میں احسان مند رہوں گا, میری روح بس ہوا میں اڑتی رہتی ہے اور اسی کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچتی ہے ۔

میں ایک لکھاری ہوں ،بکا ہوا یا مرا ہوا یا جو مرضی سمجھیں آپ کو حق حاصل ہے,

لوگو میں بھی خوش رہنا چاہتا ہوں ،میں اپنے حکمرانوں کی طرح بے حس رہنا چاہتا ہوں کتنی سکون والی زندگی ہوگی حکمرانی والی زندگی. جس میں اپنے سوا,  اپنے خاندان کے سوا کچھ دکھائ اور سنائ نہیں دیتا.

مگر میں تنگ ہوں آپ کی وجہ سے نہیں ،مجھے اپنی روح سے پریشانی ہے. کاش کہ میری روح کو کویئ قتل کردے.

آپ کو معلوم ہوگا کہ انسان کبھی کبھی مرنے سے پہلے مرجاتا ہے اسی طرح جب ایک فرد مرتا ہے تو اسی کی وجہ سے پورا سماج مرنے لگتا ہے اور یوں ایک بے حس معاشرہ بن جاتا ہے ۔اور کبھی کبھی میں خود کو مضبوط کر لیتا ہوں اور ایک سنگدل سا انسان بن جاتا ہوں تب مجھے لگتا ہے میں زندہ ہوں ۔لیکن پھر میرے زندہ ہونے سے مجھے لگتا ہے معاشرہ مرا ہوا ہے۔

یعنی میرا دل نرم ہوجاۓ یا پتھر بن جاۓ دونوں صورتوں میں معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے. آپ ہی دیکھ لیں

ہم بطور مسلمان  کیا مسلمان ہیں, کتنی حقیر سوچ ہے میری کہ میں آج کے مسلمان کے ایمان کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا ہوں اس وجہ سے بھی معاشرے کو یعنی مسلم معاشرہ کو تکلیف ہوگی. ہم نے ٹوپی , تسبیح کے منکوں,  مسجد کے میناروں, عید کی مٹھائ,  قربانی کے گوشت لمبے لمبے جبوں میں اسلام کو چھپانے کی کوشش کی ہے

اور مزید دفنانے کی کوشش میں ہم سب عالم,  استاد,  ڈاکٹرز,  مفتی,  امام, سکالرز سب غیروں کی مدد کررہے ہیں,  اتنا کچھ ہورہا ہے مسلمان کی عزت کی ہر روزخدا کی قسم طرح طرح سے تزلیل جاری ہے اور مسلمان کی غیرت کو سلایا اور سہلایا جا رہا ہے,  آج ہے ہمت کسی کے پاس کہ جہاد کا نام لے کر دکھاۓ۔نہیں بلکہ اپنے ہی مسلمان افواج کے ہاتھوں مرنے کا شرف عطا ہوگا اسے دہشت گردی اور انتہا پسندی کہا جاۓ گا

یعنی ہمارا دشمن کامیاب ہوگیا وہ جہاد کو دہشت گردی کہلوانے میں کامیاب ہوچکا،مسلمان کو امن کا سبق دے کر

محبت کے جال میں پھنسا کر نت ان گنت نعشیں گرائ جارہی ہیں,کون ہے دہشت گرد ؟

کیا یہ جو ڈراموں اور چینلز پہ داڑھی والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے وہ ہیں دہشت گرد ؟ اوۓ مت ماری گئ اے تیری

خدا کی قسم تیری سوچ ہی یہی بنائ جارہی ہے کہ یہ داڑھیوں والے ہیں دہشت گرد. زرا اپنے کلین شیو, کالا کولا لگاۓ ہوۓ حکمرانوں میں بھی دیکھ اگر وقت ملے تو اپنے لکھاریوں میں بھی دیکھ,  اگر وقت ملے تو صحافیوں اور ڈاکٹرز میں بھی دیکھ ......   دہشت گردی. ,,,برما میں یا فلسطین میں کی جاۓ تو وہ کیا ہے ؟شام میں یا کشمیر میں مسلمان حوا کی بیٹی لوٹی جاۓ تو کیا ہے ؟

مسلمان کے بچوں کو مشینوں میں کاٹ کر چارہ بنا دیا جاۓ تو کیا ہے ؟اور اگر یورپ میں ایک پٹاخہ بھی پھٹ جاۓ تو مورد الزام مجھے ٹھہرایا جاتا ہے کیوں ؟

ہمارے خون کی کوئ قدرومنزلت نہیں ،ان کے روڈز کی ہمارے جسموں سے بھی زیادہ قدر.

مسلمان کہاں ہیں ؟کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں ،جیسے میں اور ہم ہیں  ,

مسئلہ کہاں ہے ،مسئلہ ختم کیوں نہیں کیا جاتا

ہمارے تمام اسلامی ممالک کی افواج اسلام کی کارکردگی اورایمان پہ خدا کی قسم ایک سوالیہ نشان ہے ؟ ؟؟؟

مجھے تو لگتا ہے میں لاش ہوں کھاتی پیتی,  چلتی پھرتی لاش  !کیونکہ اگر زندگی تو وہ ہے جس میں زندہ رہا جاۓ اور زندہ ہونے کا ثبوت دیا جاۓ. مجھے اس لیے لگتا ہے کہ میں ایک بے حس لاش ہوں ،جس کے ساتھ جو مرضی چاہے رویہ رکھے

سوال ایک آپ سے بھی ہے کہ کیا میں تنہا لاش ہوں یا آپ پر بھی یہی گزر رہی ہے مجھے تو خوف آتا ہے ایسی زندگی سے.

اگر  آپ پہ یہی گزر رہی ہے تو آؤ مر جائیں.


افکار و نظریات: آؤ مر جائیں