اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ڈوبتا انقلاب تحریر۔۔۔نورالہدیٰ شاہ بہت بہت پرانے دنوں کی بات ہے ابھی ضیاء دور کے سیاہ سائے سندھ کی زمین پر اترے نہ تھے. بھٹو حکومت کا ابتدائی دور تھا اور میں نے بھی شعور کی نئی نئی آنکھ کھولی تھی ابھی. گو کہ بھٹو کی جدوجہد کے زمانے کی شعور کی آنکھ سے عینی گواہ نہ تھی میں، مگر بھٹو کے معروف نعرے اور وعدے، روٹی کپڑا اور مکان کے وفا نہ ہونے پر شور مچایا کرتی تھی اور بابا سے لڑا کرتی تھی کہ آپ اپنی زمین ہاریوں میں بانٹ دیں. ساتھ ہی اپنا کمیونزم اور مارکسزم ان کے سامنے بگھارا کرتی تھی اور وہ قہقہے لگا کر میری باتوں پر ہنسا کرتے تھے. یہ وہ زمانہ تھا جب روس کا طوطی بولتا تھا. وہ ترقی پسند ادیب ہی کیا جو روسی ادب سے متاثر نہ ہو! وہ بندہ بشر کیا جو مارکس اور لینن کا مداح نہ ہو! مجھ پر بھی انقلاب کا خواب سوار تھا ان دنوں. سندھی سماج میں انقلاب کا خواب. سندھ کے جاگیردارنہ نظام میں انقلاب کا خواب. ہاری جو زمین کاشت کرتا ہے، زمین اس کی ہے، کا خواب. اسی ابتدائی ذھنی سفر میں کچھ آگے چل کر سنا کہ ایک کامریڈ جام ساقی نام کا بندہِ خدا ہوتا ہے جو یا تو زیرِ زمیں رہتا ہے یا پھر جبر کے قید خانوں میں. کمیونسٹ ورکر ہے. ملحد ہے. ضدی ہے. جھکتا نہیں. بِکتا نہیں. کمیونسٹ روس کا ہم نوا ہے. وغیرہ وغیرہ پتہ نہیں کیوں مجھے یقین تھا کہ اس کی شکل گورکی سے ملتی ہوگی! گرمیوں میں بھی وہ لمبا گرم کوٹ پہنتا ہوگا. گلے میں مفلر. سر پر ماؤ کیپ. روسی زبان بولتا ہوگا اور گوڈوں گوڈوں برف میں لانبے لانبے ڈگ بھر کر چلتا ہوگا! ضیاء کا آسیب زمین پر اترا تو انقلاب،احتجاج اور مزاحمت آدمی کا کیسے اضطراب بنتی ہے، سمجھ میں آیا. شہر کی دیواروں پر کبھی زیادہ اور کبھی کم لکھا نظر آتا رہتا کہ کامریڈ جام ساقی کو رہا کرو. تیرا ساتھی میرا ساتھی، جام ساقی جام ساقی. جبر کے قید خانوں میں کامریڈ جام ساقی پر تشدد کی کہانیاں سننے کو ملتی تھیں کہ وہ پھر بھی جھکتا نہیں. ڈٹا ہوا ہے اپنے نظریے پر. اس تمام عرصے سے گزرتے ہوئے میں بھی اپنا احتجاج اور مزاحمت سندھی میں کہانیوں کی صورت رقم کر چکی تھی. پھر ایک دن ضیاء فضا میں ریزہ ریزہ ہوگیا. 90 کی دہائی کے بلکل ہی ابتدائی زمانے میں ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ فون کے اُس طرف سندھی زبان بولتی ایک آواز سنائی دی. بھاری مگر جلدی جلدی بولتی آواز. ہیلو بی بی! میں جام ساقی بول رہا ہوں ..... جواب میں میں دھک سے رہ گئی دوسری طرف انداز میں ایسی بے تکلفی جیسے برسوں سے جان پہچان ہو! کل پاکستان کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ایک پروگرام رکھا ہے تبادلۂ خیال کا. آپ کو آنا ہے. میں بھی پہنچ گئی انقلاب برپا کرنے کے شوق میں. گو کہ میرا کمیونزم اور مارکسزم سے عشق شروع جوانی میں پہلی نظر کے عشق کی طرح جھاگ بن کر بیٹھ چکا تھا مگر سندھی سماج میں انقلاب کی خواہش جوں کی توں موجود تھی. ہال میں ایک شخص سندھی میں بھلی کرے آیا کہتے ہوئے چھوٹے سے اسٹیج سے اتر کر میری طرف لپک کر آیا. اس نے یوں تعارف نہیں کروایا جیسے یہ طے تھا کہ میں اسے اور وہ مجھے پہچانتا ہی ہے! بھاری بھرکم سا جسم. سادہ سی اور کئی بار کی دھلی ہوئی سفید شلوار قمیص میں ملبوس. اجرک کندھوں کے گرد لپیٹے ہوئے. سندھی ٹوپی سر پر. سیاہ و سفید بالوں سے بھری بے ترتیب مونچھیں جو ہونٹوں کو بھی ڈھکے ہوئے تھیں. میں کھڑی سوچتی رہ گئی کہ یہ تو پورا سندھی ہے! مگر مونچھیں تو روسی ہیں! میں نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دی. ویسے بھی یہ وہ زمانہ تھا جب روس کی اپنی مونچھیں تقریباً جھڑ چکی تھیں اور اب صرف مرقد پر فاتحہ خوانی کا دور چل رہا تھا. کامریڈ جام ساقی مجھے سیدھا اسٹیج کی طرف لے آیا. پہلے زاہدہ حنا سے ملوایا. زاہدہ حنا سے بھی وہ پہلی ملاقات تھی اور زاہدہ نے خود سے یوں لپٹالیا مجھے جیسے گورکی کی ماں! پھر پروفیسر جمال نقوی سے ملوایا. پورے کے پورے روسی! گرم لباس میں ملبوس، جیسے چیخوف! جمال نقوی صاحب نے میرا ہاتھ کتنی دیر تک تھامے رکھا. جیسے روحانیت سے لبریز بزرگ اپنا روحانی علم جوان معتقد کو منتقل کررہا ہو! بولے جو کام کر رہی ہو، اس سے پیچھے مت ہٹنا. اُف پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے وہ تین برگد نما درخت! جو کمیونزم کے زوال کے دنوں کی کڑی دھوپ میں بدستور گھنی چھاؤں کے ساتھ کھڑے تھے. مگر کامریڈ جام ساقی پورا سندھی نکلا! جیسے قلندر کا فقیر! جیسے شاہ لطیف کا مجاور! جیسے سچل کا مست! یہاں سے میری اور کامریڈ جام ساقی کی دوستی کی ابتدا ہوئی. اکثر وہ میرے گھر چلا آتا. فون کرتا اور پوچھتا کہ کافی ملے گی؟ جام ساقی کی وجہ سے مجھے حیدرآباد کے شدید گرم دنوں میں بھی کافی رکھنی پڑتی تھی. آتا بھی اکثر بھری دوپہر. کافی کے ساتھ ساتھ وہ پائپ سلگاتا اور کافی کی بھاپ اور تمباکو سے اٹھتے دھویں کے مرغولوں کے بیچ وہ ایک لمبی " ہوں" کھینچ کر بات کرنے کو موضوع تلاش کرتا. جیسے وہ طے نہ کر پارہا ہو کہ اسے کیا بات کرنی ہے اور کیا نہیں. یہ ایک پائپ ہی تھا جس کے دھویں کی اوٹ میں سے اس پر کسی روسی فلسفی کا سا گمان گزرتا تھا. ورنہ وہ تو سندھی ملنگ کی طرح صوفہ پر پھیل کر ڈھیلا ڈھالا سا ہوکر بیٹھتا. میں اس سے اس کی انقلابی جدوجہد کی کہانی سننا چاہتی تھی. مارکسزم کا فلسفہ اس کے نقطہِ نظر سے سننا چاہتی تھی. اس کی ملحدانہ سوچ کو پرکھنا چاہتی تھی. انقلابِ روس اور روسی ادب پر بات کرنا چاہتی تھی مگر پھر دھیرے دھیرے مجھ پر کامریڈ جام ساقی کی صورت یہ منظر کھلنا شروع ہوگیا کہ ایک انقلابی اپنی شدید جدوجہد سے گزر کر کس طرح دم توڑتی تحریک کے کنارے آ بیٹھتا ہے اور اپنے نظریے کے ڈوبتے سورج کو تھکی تھکی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ آہ میرے اُس پابجولاں سفر کا یہ تھا اختتام! اس موضوع پر میں اگر بات شروع بھی کرتی تو وہ ایک اداس ہنسی کے ساتھ کہتا کہ ہم تو فقیر لوگ ہیں. جو گزر گیا سو گزر گیا. ہم نے اپنے حصّے کا کام کردیا. اب دوسروں کی باری ہے. ایک دن بھی اس نے اپنی جدوجہد کا، نظریے کا زکر نہیں کیا بلکہ میرے سوال پائپ کے تمباکو میں راکھ بن کر رہ جاتے. ایک دن کہنے لگا کہ آپ کو پتہ ہے میں یہاں کیوں آتا ہوں؟ میں نے دل میں پھیل کر سوچا کہ ظاہر ہے کہ مجھ جیسی نامور کہانیکار سے ملنے! مگر بظاہر انکار میں میں نے گردن ہلا دی. اس نے کافی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا. پائپ کا ایک لمبا کش لیا. ایک اداس مسکراہٹ مسکرایا اور بولا.... کافی پینے آتا ہوں مجھے اس کی یہ بات بہت ہی بری لگی. کافی شاپ تو نہیں کھولا تھا نا میں نے! لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد اس نے اپنی بات اسی اداس مسکراہٹ کے ساتھ یوں مکمل کی کہ ..... بات دراصل یہ ہے کہ میں ہر روز کافی افورڈ نہیں کر سکتا. آپ کے گھر میں مجھے مفت کی کافی اور کچھ دیر کے لیے ایک اچھا پرسکون گوشہ مل جاتا ہے بیٹھنے کے لیے، اس لیے آتا ہوں. میں کامریڈ جام ساقی کو دیکھتی رہ گئی. یہ تو میں نے سوچا ہی نہ تھا کہ کامریڈ جام ساقی مفلس بھی ہوسکتا ہے! اتنا بڑا کامریڈ جام ساقی جو فوجیوں کے سامنے تن کر کھڑا ہوجاتا ہے. جو کمیونسٹ پارٹی جیسے بھاری پتھر کو پاکستان کی زمین پر کھڑے ہوکر کندھوں پر اٹھا سکتا ہے، جو قید و تشدد کو سہہ جاتا ہے، وہ کامریڈ جام ساقی کافی افورڈ نہیں کرسکتا! چند لمحے سکون سے بیٹھنے کے لیے اسے کوئی گوشہِ عافیت میسر نہیں! میں اب بہت ہی دل سے اس کے کافی کا انتظام کرنے لگی. اسی دوران کا ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ ہوا. ایک دن وہ آیا تو میں گھر پر نہ تھی. میری کام والی لڑکی کو کہہ گیا کہ بی بی آئے تو اسے بتانا کہ وہ جو سُلفی پیتا ہے وہ آیا تھا. سندھی میں سموکنگ پائپ کو سُلفی کہتے ہیں. میں آئی تو لڑکی نے بتایا کہ آپ سے ملنے قلفی والا آیا تھا. اب جب بھی وہ فون کرتا تو کہتا .... ہیلو .... بی بی ... میں قلفی والا بول رہا ہوں .... کافی پینے آجاؤں؟ گھر پر آتا تو کہتا ..... قلفی والا حاضر ہے .... اس تمام عرصے میں اگر وہ کھل کر بات کرتا تو اس کا موضوع فنا اور خدا ہوتا تھا. فنا پر وہ یوں بات کرتا جیسے بس اگلا قدم فنا ہی تو ہے! خدا پر وہ یوں بات کرتا جیسے وہ کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہو! گزرتے وقت کے ساتھ میں دیکھتی رہی کہ کامریڈ جام ساقی کی گفتگو سے ربط ختم ہو رہا ہے. کھوکھلی ہنسی اور بجھی مسکراہٹ زیادہ جگہ گھیر رہی ہے. جیسے جیسے اس کی گفتگو بے ربط ہوتی گئی، اس نے کافی پینا کم کردیا اور آنا بھی کم کر دیا. لینن کا مجسمہ توڑ کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا تو میں نے پتہ نہیں کیوں اس کی تعزیت کامریڈ کے ساتھ کرنا ضروری سمجھا! شاید ایک کمینی سی خواہش کے تحت کہ دیکھوں کہ ایک کامریڈ کا ردعمل کیا ہوتا ہے! مگر وہ ہنس دیا. سب کو فنا ہے بی بی! یہ تو لینن کا مجسمہ ہے! بہت دنوں بعد ایک دن پریشان پریشان سا آیا. اس کے گھر اس کی والدہ کی تعزیت کے لیے بےنظیر بھٹو آ رہی تھیں. پریشانی یہ تھی کہ کامریڈ جام ساقی کے گھر میں کوئی صوفہ نہ تھا جس پر وہ بینظیربھٹو کو بٹھائے. میں نے پوچھا، کرسی تو ہوگی؟ اس نے انکار میں سر ہلادیا اور کہا بس ایک پرانا پلنگ ہے میری بیٹھک میں. میں نے کہا، میرا صوفہ لے جاؤ ایکدم سے اس نے میری بات کاٹ دی .... نہیں نہیں ... میں جو ہوں سو ہوں ..... بس آپ ضرور آئیے تاکہ بی بی سے بات کرنے کے لیے کوئی بڑے نام والی خاتون موجود ہو. لمبی ٹوٹی پھوٹی گلی سے گزر کر بینظیربھٹو اپنے جیالوں اور جیالیوں کے لشکر کے ساتھ کامریڈ کی بیٹھک میں داخل ہوئیں. ایک پلنگ اور ایک بوسیدہ دری. چھوٹا سا کمرہ جو بینظیربھٹو کے لشکر سے یوں بھر گیا کہ تل دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی. بینظیر سیدھی آکر پلنگ پر بیٹھ گئیں. ایک طرف میں اور دوسری طرف کامریڈ کی سادہ مزاج بیوی اور دو قدم کے فاصلے پر بینظیر کے عین مقابل کامریڈ. گھر میں پہلے سے موجود محلّے کے کچھ بچے ہمارے عقب سے پلنگ پر چڑھ آئے اور ہماری گردنوں کے بیچ سے سر گھسائے بینظیر کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتے رہے. ایک بچی بینظیر کی پشت پر تقریباﹰ سوار ہونے کو تھی کہ بینظیر بری طرح گھبرا کر چونک پڑیں. بچی کو پہلے ہلکا سا ڈانٹا. پھر دس بار سوری کہا. پھر سامنے چپ کھڑے کامریڈ کو تعزیتی انداز میں مخاطب کیا کامریڈ! آپ کی والدہ کا بہت افسوس ہوا. کامریڈ ایک اداس مسکراہٹ مسکرایا .... مجھے آپ کے آنے کی بہت خوشی ہوئی ہے بی بی! آپ کا بہت بہت شکریہ. آپ کی کیا خدمت کروں؟ میں دل ہی دل میں گھبرا گئی کہ کامریڈ اس پورے لشکر کی کیا خدمت کرے گا! جواب میں بینظیربھٹو نے ایک چھوٹی سی بات ایسی کہی جس نے مجھے ایک چھوٹا سا ہُنر سکھا دیا انسانی معاملات کا. ان دنوں ابھی منرل واٹر بمشکل کراچی تک پہنچا تھا. حیدرآباد میں ابھی دستیاب نہ تھا. عام لوگ نلکے کا پانی پیتے تھے جس کا رنگ میلا میلا سا ہوتا تھا. جو لوگ ان معاملات میں حساس تھے وہ پانی بوائل کرتے تھے. بینظیربھٹو کے پینے کے لیے منرل واٹر کی بوتل قریب کھڑی کسی ورکر (شاید ناھید خان!) کے ہاتھ میں تھی. بینظیربھٹو نے بڑے سکون سے کامریڈ کو مخاطب کرکے کہا ...... میں صرف آپ کے گھر کا پانی پیوں گی کامریڈ! جب تک کامریڈ پانی لاتا، اس سے پہلے ہی بینظیربھٹو کو ان کا اپنا منرل واٹر پیش کیا گیا. بینظیر نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور کامریڈ جو مٹیالا سا زرد رنگ پانی بےحد سادہ سے گلاس میں لایا وہ بڑے سکون کے ساتھ پی کر کامریڈ کا شکریہ ادا کیا. پھر پوچھا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے! کامریڈ ایک پرسکون سی مسکراہٹ مسکرایا اور کہا آپ آئیں یهی بہت ہے ..... بینظیر کے جانے کے بعد میں نے اسے مشورہ دیا کہ بینظیربھٹو سے اپنے لیے کچھ فائدے بھی لو. حق پہنچتا ہے تمہیں. جواب میں وہ انکار میں سر ہلا کر ہنس دیا. پھر گزرتے وقت کے ساتھ کامریڈ جام ساقی اپنے اندر گویا مزید بے ربط ہوتا چلا گیا. اب وہ بہت ہی کم آتا. مہینوں میں ایک آدھ بار. کافی تو بلکل بھی نہ پیتا تھا. بینظیربھٹو کی طرح کہتا کہ بس آپ کے گھر کا پانی پیوں گا. صحت بھی اس کی زنگ آلود ہونا شروع ہوگئی تھی. پھر میں نے حیدرآباد چھوڑ دیا اور کراچی کے کارپوریٹ کلچر میں پھنس گئی اور عین کارپوریٹ کلچر کی فطرت کے مطابق قیمتی لوگوں کو کھوتی چلی گئی. کبھی بھولے بھٹکے حیدرآباد جاتی اور کراچی لوٹتے ہوئے ہائی وے کی طرف جانے کے لیے گاڑی نسیم نگر کے شارٹ کٹ سے گزرتی تو یاد آتا کہ یہاں کامریڈ جام ساقی کا گھر ہے.صرف ایک پلنگ والی بیٹھک والا چھوٹا سا گھر. وہ گھر اب مزید بوسیدہ ہوچکا ہوگا! پلنگ مزید پرانا ہوچکا ہوگا اور بوڑھا اور بیمار کامریڈ جام ساقی اس پر لیٹا ہوا کھانس رہا ہوگا اور فنا کے سمندر میں لینن، مارکس، انقلابِ روس کے ساتھ ساتھ خود کو اوجھل ہوتا ہوا دیکھتا ہوگا. دل چاہتا کہ گاڑی کا رُخ اس کے گھر کی طرف موڑ دوں. دماغ میں بھرے بھُس میں سے خودغرض اور لالچی کارپوریٹ کلچر گردن نکال کر کہتا کہ چلو کراچی. میڈیا کے فلاں سیٹھ کے ساتھ میٹنگ کا وقت طے ہے. اگلی بار سہی. وہ اگلی بار کبھی نہ آئی. یہاں تک کہ کامریڈ جام ساقی نسیم نگر ہی کیا، دنیا چھوڑ کر چلا گیا! یہ دنیا کامریڈ جام ساقی اور بینظیربھٹو جیسے لوگوں کے لیے اب رہی بھی نہیں. اب نہ کوئی زمین سے نکلتا ہوا میلا پانی پینے والا رہا ہے اور نہ ہی زمین کا مٹیالا پانی پلانے والا. نہ وہ جام رہا اب جس میں دھرتی کا پانی پیا جائے. نہ وہ ساقی رہے اب جو دھرتی کا پانی پلاتے تھے. نوٹ:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معروف دانشور اور سیاسی رہنما جام ساقی ۵ مارچ ۲۱۰۸ کو۷۳ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کی نماز جنازہ نسیم نگر میں ادا کی گئی۔وہ 31اکتوبر1944کو تھرپارکر میں پیدا ہوئے اور 60 کی دہائی میں سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بنے۔ وہ4 مارچ کی اینٹی ون یونٹ موومنٹ کے ہیروزمیں سےتھے۔70 کی دہائی میں جام ساقی کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری کمیٹی میں شامل ہوئے۔سترکی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی میں جوائنٹ سیکریٹری رہے جس کے بعد جام ساقی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے۔جام ساقی ضیاالحق کے آمریت کے دور میں پابند سلاسل رہے۔ انہوں نے سیاسی جدوجہد کے دوران 15برس جیل کاٹی۔ جام ساقی 1986 میں آزاد ہوئے اورکمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔انہوں نے 1991 میں کمیونسٹ گروپ کوخیرباد کہااور پھر 1993 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ جام ساقی نے 7کتابیں تحریرکیں جن میں ضمیر کے قیدی بےحد مقبول ہوئی ۔جام ساقی نے 2شادیاں کی تھیں ۔ انہوں نے سوگواروں میں 6 افراد کو چھوڑا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: ڈوبتا انقلاب
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں