اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات عرب امارات کی بالادستی تحریر: آئی اے خان یمن جنگ کے مقاصد کبھی بھی ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ تاہم طویل عرصے سے جاری اس بے نتیجہ جنگ میں سعودی عرب کا حاصل محض اتنا ہے کہ یمن سرحد سے ملحقہ اس کے علاقے غیر محفوظ ہوچکے ہیں اور ان علاقوں کی یمنی قبائل سے حفاظت کیلئے اسے بیرونی فوجی دستوں کی مدد درکار ہے۔ انہی علاقوں میں اس جنگ کے خلاف اب آوازیں اٹھ رہی ہیں، جو کہ عوامی مظاہروں کی صورت اختیار کررہی ہیں اور ان آوازوں کو دبانے کیلئے سکیورٹی کے نام پہ داخلی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ یمن جنگ میں ہونے والے تمام تر جانی و مالی نقصان کا الزام تو سعودی عرب کے سر ہے تاہم اس جنگ کے ذریعے سعودی عرب تاحال اپنا ایک بھی مقصد حاصل نہیں کرپایا۔ نہ ہی منصور ہادی حکومت کا دوبارہ قیام عمل میں آسکا ہے اور نہ ہی حوثی قبائل کو زیر کرکے انتظامی امور سے انہیں بیدخل کرسکا ہے۔ دوسری جانب اگر یمن، یمن کے عوام کے ہولناک جانی و مالی نقصان سے ہٹ کر اس جنگ میں سعودی نقصانات کا اندازہ کریں تو سب سے پہلے آل سعود خود تقسیم کا شکار ہو چکے ہیں اور خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔ یہ یمن جنگ کا ہی ثمر ہے کہ آل سعود کے وہ شہزادے جو پہلے ایک دوسرے پہ سبقت لینے کی لئے کوشاں تھے، آج ایک دوسرے کو زیر و زبر کرنے پہ اس طرح تلے ہیں کہ کئی شہزادوں کو اپنی ہی سرزمین پہ قید و بند و تشدد کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے یمن میں ہونے والے جانی بالخصوص معصوم بچوں کے قتل عام کو لیکر موجودہ سعودی رجیم کو پوری دنیا کیلئے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ یہ اسی تنقید کا ہی اثر ہے کہ سعودی حکومت سخت گیر مذہبی نظریات اور اپنے شدت پسندانہ چہرے پہ لبرل کا نقاب اوڑھنے پہ اس حد تک مجبور ہوچکی ہے کہ سعودی مفتی آج عبایا نہ لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کا اہم حلیف متحدہ عرب امارات جس نے ایک طرف اس جنگ کے اثرات اور ردعمل سے خود کو محفوظ رکھا ہوا ہے اور دوسری جانب یمن کے سٹریٹجک وسائل سے خوب استفادہ کرکے خطے پہ اپنی بالادستی کے خواب کو پروان چڑھانے کی تگ و دوکررہا ہے۔ عرب امارات نے یمن کے جنوبی ساحلوں اور جزیروں پہ نہ صرف اپنی عسکری سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے بلکہ یمن کے کئی اہم ترین جزیروں کو اپنے فوجی اڈوں میں بھی تبدیل کرلیا ہے۔ گزشتہ دنوں عرب میڈیا نے یمنی عہدیدار کے انکشاف کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا۔ جس میں اس عہدیدار نے انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات دنیا کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے باب المندب کے وسط میں واقع جزیرے میون کو ایک فوجی ہوائی اڈے میں تبدیل کر رہا ہے۔ یمنی عہدے دار نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ امریکا نے اس جزیرے پر ابوظہبی کے اس اقدام سے یمنی صدر منصور ہادی کو مطلع کیا ہے۔ ساتھ ہی امریکا نے ہادی حکومت کو جزیرہ میون کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر بھی دی ہیں، جن میں رن وے سمیت کئی تعمیراتی سرگرمیاں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یمنی عہدے دارکا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی یہ خواہشات جزیرہ میون تک محدود نہیں، بلکہ وہ یمنی ساحلوں پر کئی اہم تزویراتی اہمیت کے مقامات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جن میں جزیرہ سقطری اور عدن، مکلا اور مخا کی بندرگاہیں شامل ہیں۔ جزیرہ میون بحیرہ قلزم اور خلیج عدن کے سنگم پر آبنائے باب المندب میں 13 مربع کلومیٹر کا چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اکتوبر 2015ء میں سعودی اتحاد نے شدید جنگ کے بعد اس جزیرے پر قبضہ کیا تھا۔ اس جزیرے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے ایک طرف براعظم ایشیاء اور دوسری طرف افریقہ ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان نہر سوئس اور بحیرہ قلزم سے گزرنے والے تمام جنگی اور تجارتی بحری جہاز اس جزیرے کے قریب سے گزرتے ہیں۔ اس سے قبل منصور ہادی کے پریس سیکرٹری مختار رحبی نے انکشاف کیا تھا کہ بحر ہند کا اہم جزیرہ سقطری اس وقت انتظامی طور پر متحدہ عرب امارات کے قبضے میں جا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں مختار رحبی کا کہنا تھا کہ ملک کے ایک اہم عہدے دار نے انہیں بتایا ہے کہ وہ حال ہی میں جزیرہ سقطری گئے اور وہاں جا کر جیسے ہی انہوں نے اپنا موبائل آن کیا، تو انہیں کمپنی کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا: متحدہ عرب امارات میں خوش آمدید۔ رحبی نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سقطری کب سے امارات میں شامل ہوگیا۔ رحبی نے اپنی پوسٹ میں جزیرہ میون میں فوجی ہوائی اڈے کے قیام کا بھی ذکر کیا اور لکھا کہ اس حوالے سے یمنی حکومت کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ جزیرہ سقطری سے متعلق ’’فوکس آن مڈل ایسٹ‘‘ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سقطری جزیرہ در حقیقت چھ چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مجموعے پر مشتمل بحر ہند کے قریب بحیرہ عرب میں واقعہ ایک ایسا یمنی جزیرہ ہے کہ جو مشرق سے ہار آف افریقہ کے ساحلوں سے 240 کلو میٹر تو جزیرہ نمائے عرب کے جنوب سے کوئی 300 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ 2008ء میں اس جزیرے کو یونسکو نے دنیا کے منفرد اور غیر معمولی خاصیتوں کے حامل جزیروں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ جزیرہ ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے جزیر العرب کے اہم ترین جزیروں میں سے ایک شمار ہوتا ہے کہ جس کا رقبہ تقریبا 3796 کلو میٹر ہے۔ اس جزیرے کی جغرافیائی انتہائی اہم پوزیشن نے اسے ایک خاص مقام دیا ہے۔ ماضی سے لیکر اب تک اس جزیرے کو لیکر علاقائی و عالمی طاقتوں کے درمیان اس پر قبضے یا اثر ورسوخ کے لئے کشمکش رہی ہے جو اسے اپنی عسکری و اقتصادی اسٹرٹیجک گیرائی کے طور پر دیکھتے ہیں رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ خلیج عدن کے آخر میں واقع ہے تو دوسری جانب ہار آف افریقہ کے گذرگاہ تو تیسری جانب مغرب کی سمت سے بحرہند کی عالمی تجارتی گذرگاہ پر واقع ہے۔ اس جزیرے سے متعلق تاریخی کتابوں اور ویکیپیڈیا کے مطابق ماضی میں اس جزیرے پر یونانیوں، فرعونوں کے ساتھ ساتھ فارس کی بادشاہتوں،رومیوں اور پرتگالیوں کا بھی مختلف ادوار میں قبضہ رہا ہے جبکہ 1967ء میں برطانیہ نے اس پر قبضہ جمایا ہوا تھا اور سرد جنگ کے دوران جنوبی یمن کے صودیت یونین بلاک میں ہونے کے سبب روس نے بھی اس جزیرے میں اپنا فوجی اڈہ قائم کیا تھا۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے بھی بحری قزاقوں سے مقابلے کے بہانے اس جزیرے میں ایک عرصے تک اپنا فوجی اڈہ قائم کررکھا تھا۔ 2010ء میں امریکی جرنیل جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اس وقت کے یمنی صدر علی عبداللہ صالح سے اس جزیرے پر امریکی واپسی کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ متحدہ عرب امارات نے اس جزیرے پر قبضے کے لئے خیراتی، فلاحی اور کاروباری راستہ اپنایا کہ جس نے 2015ء میں یہاں آنے والے ایک طوفان کے بعد امدادی و فلاحی کاموں کے بہانے اس جزیرے پر اپنی رفت و آمد شروع کی جبکہ اس کے طیارے پورے یمن میں مسلسل آگ اور خون کا بازار گرم کئے ہوئے تھے۔ امارات نے یمن کے اس جزیرے پر اپنی آمد و رفت اور بظاہر شروع کئے ہوئے فلاحی اور خیراتی کاموں کے لئے اس حکومت سے بھی اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ 2016ء میں بعض میڈیا ہاوسز نے انکشاف کیا کہ یمن کے خود ساختہ وزیراعظم خالد بحاح اور امارات کے درمیان انجام پانے والے ایک معاہدے میں اس اہم ترین جزیرے کو 99 سال کے لئے امارات کو کرایے پر دیا گیا ہے کہ جس کی خود ساختہ صدر منصور ہادی کی جانب سے نفی کی گئی۔ اب حالت یہ ہے کہ اس وقت یمن کے اس جزیرے میں مکمل طور پر امارات کا کنٹرول ہے، جہاں خود اہل یمن بھی ان کی جازت کے بغیر رفت و آمد نہیں کرسکتے۔ جزیرے کا ائرپورٹ سے لیکر پورٹ تک متحدہ امارات سے لائے گئے افراد کنٹرول کرتے ہیں جبکہ مقامی سطح پر جوانوں کی بھرتیوں سے ایک نئی فورس بنائی جارہی ہے۔ انٹیلی جنس آن لائن اور میڈل ایسٹ آئی کے مطابق امارات یہاں پراہم عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایک فوجی اڈہ قائم کررہا ہے۔ یمن کی عوام اور ذمہ دار افراد اماراتی ان اقدامات کو قبضے سے تعبیر کرتے ہوئے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ سقطری سمیت دیگر جزیروں امارات اور سعودی عرب کو چلے جانا چاہیے یہاں تک یمن پر سعودی جارحیت کے حامی یمنیوں کا کہنا ہے کہ ہماری مدد کے بہانے سے آنے والے ہمیں لوٹ رہے ہیں اور ہم پر قبضہ کررہے ہیں۔ گذشتہ ماہ فروری 2018ء یمن کی سعودی حمایت یافتہ خودساختہ پارلیمان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کی اور اس میں صدر منصور ہادی کی جانب سے انجام دیے گئے تمام معاہدوں کو کالعدم قرار دیا گیا اور متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فورا سقطری جزیرے پر اپنا قبضہ ختم کردے۔ یمن کے جنوبی حصے پہ عرب امارات کے بڑھتے عسکری اثرورسوخ نے خطے کے دیگر ممالک کی تشویش میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ ایک جانب عمان اس علاقے میں ابوظہبی حکومت کی عسکری سرگرمیوں پہ اپنی شدید تشویش کا اظہار کررہا ہے تو دوسری جانب یمن کی خودساختہ حکومت کے عہدیداروں نے بھی یواے ای کے اس عمل پہ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ حوثی قبائل جو کہ اس وقت یمن کا سب سے بااثر دھڑا ہے وہ اعلانیہ یو اے ای اور سعودی عرب سے حالت جنگ میں ہے۔ عمان کا موقف ہے کہ ان جزائر پہ عمان کے قبائل طویل مدت سے آباد ہیں جو کہ طویل تاریخ کے حامل ہیں جبکہ حالت یہ ہے کہ اس جزیرے پہ عمان کے امدادی سامان سے لدے طیاروں کو بھی اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یمن جنگ پہ نظر رکھنے والے عرب ادارے نے اپنی رپورٹ کے اختتامیہ میں لکھا ہے کہ یمن پہ حملہ آور اتحاد کی سرخیل سعودی حکومت اس لحاظ سے غفلت کا شکار ہے کہ اسے یمن جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ مسلسل خسارے کا سامنا ہے کہ جب کہ یواے ای نے ایک ایسے وقت میں جب اس جنگ نتائج سمیٹنے تھے، سعودی حکومت کی تمام تر توجہ قطر کی جانب مبذول کرادی ہے اور خود جنوبی یمن کا بلاشرکت غیرے حکمران بن بیٹھا ہے۔ مصر جو سعودی اتحاد کا اہم حصہ ہے وہ بھی داخلی بحرانوں کی زد میں ہے۔ سعودی نوجوان ولی عہد سلمان کو اندازہ ہی نہیں کہ کیسے سعودی عرب کے وسائل پہ لڑی گئی جنگ کے نتائج کسی اور نے سمیٹ لیے ہیں حالانکہ اس جنگ میں سعودی عرب نے شدید نقصان اٹھایا ہے جبکہ یوا ے ای نے صرف فائدہ وصول کیا ہے۔ عرب تجزیاتی اداروں کے یمن پہ حملہ آور اتحاد بارے یہ تجزیے آنے والے وقت میں اس اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ کے اشارے دے رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ ظلم و غصب کی بنیاد پہ قائم الحاق کا انجام ہمیشہ نفاق و شکست پہ ہی منہتج ہوا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: عرب امارات کی بالادستی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں