عورت اور آزادی 🌹

گلزار حسین

خواتین کے عالمی دن کے موقع پہ ہم اس بات کا برملا اظہار کرنا چاہیں گے کہ وہ یورپ جو عورت کی آزادی کی بات کرتا ہے دراصل اس نے عورت کو گھٹیا ترین مخلوق بنا چھوڑا ہے,  وہ یورپ جو عورت کی آزادی کے لیے اسلام کے نظریات کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر چکا ہے اور کمینگی کی ہر گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ 

عورت لفظ کا مطلب ہے پردہ  ,اگر پردے سے ایک عورت گھٹن محسوس کرے گی تو وہ بد اخلاقی کا شکار ہوجاۓ گی

مولا علی کا فرمان ہے کہ حیا انسان کا حسن ہے,  ایک معیاری اور خاندانی عورت شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہے,  ایک باحیا عورت حضرت بی بی فاطمہ کی کنیز ہوتی ہے یورپین ممالک نے عورت کی آزادی کو غلط رخ دے کر دنیا میں تباہی مچا دی ہے۔

کہا یہ جاتا ہے کہ مسلمان عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھتا ہے حالانکہ بات اس کے برعکس ہے کہ مسلمان اپنی عورت کو ملکہ بنا کے رکھتا ہے اسے ہر سخت کام کرنے سے منع رکھتا ہے, 

عورت جب ماں بنتی ہے تو یہ بچے کا پہلا سکول بن جاتی ہے,  آج اس کے باالکل برعکس ہوتا جارہا ہے ماں سکول جاتی ہے لیکن سکول بننا نہیں چاہتی بلکہ اپنی اولاد کو وقت دینا مشکل ہوجاتا ہے,  میں قسم سے کہتا ہوں کہ اگر ماں بچے کا پہلا سکول بن کر اپنا فرض ادا کرنا شروع کردے تو معاشرے میں کافی حد تک خوشحالی لائ جاسکتی ہے ,اگر ایسا نہ کیا گیا تو معاشرے میں آدم کا بیٹا حوا کی بیٹی یعنی اپنی ہی بہن کی ردا لوٹتا رہے گا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت نے اپنا مقام اور آزادی کا معیار خود متعین کرنا ہے

لیکن یاد رہے جب تک عورت اسلامی و انسانی معیار سے ہٹ کر چلے گی اپنے ہی بناۓ ہوے پیمانوں سے کچلی جاۓ گی

عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اس لیے بطور مرد اگر مرد حضرات عورت کو عزت کا معیار دیں گے تب ہی مرد کہلانے کے حقدار کہلائیں گے, 

کیونکہ یہی عورت جب بیٹی ہو تو ایک باپ کےلیے شفاعت کا اور عذاب سے نجات کا زریعہ ہے ۔ یہی عورت جب ایک ماں ہو تو بڑے بڑے شاہ سکندر,  قلندر,  غوث قطب ابدال,  اولیاء کرام,  امام معصومین حتی کہ انبیا کرام کےلیے جنت بن جاتی ہے

اسی کے قدموں میں آخرت کی آسانیاں رکھ دی جاتی ہیں,  یہ بہن ہوتی ہے تو بھائ کےلیے غیرت کا معیار مقرر کرتی ہے اور دوسری اس جیسی جنس کی عزت کا پتہ دیتی ہے غرض یہ کہ عورت کے اندر ایک کائنات سمودی جاتی ہے ۔تب جب یہ خود کو اسلامی و انسانی اصولوں پہ ڈھال لیتی ہے, 

ورنہ یورپ ہو یا ہمارے اسلامی ممالک جہاں بھی آزادی کا مطلب غلط لیا جاۓ گا زلزلے آیئں گے,  آندھیوں اور طوفان بپھر بپھر کے آئیں گے,  عورت کو ہمارے اسلامی ممالک میں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔

سیٹ چھوڑ دی جاتی ہے,  اس کے گزرنے پہ نظریں جھک جایا کرتی ہیں,  برابر کے حقوق دیے جاتے ہیں, جینے کا, زندگی گزارنے کا بھرپور حق دیا جاتا ہے,  بات وہی ہے عورت نے اپنا مقام خود منوانا ہے اور آزادی کی حدوں میں رہ کر

باپ کے گھر شہزادی بن کر,  خاوند کے گھر ملکہ بن کر اور معاشرے میں شرم و حیا کا پیکر بن کر اپنا اور اپنے ملک و ملت کے ہر شعبہ زندگی میں محنت و لگن سے نام روشن کرنا ہے.

اور اپنے غرور کو خاک میں ملانے سے محفوظ رکھنا ہے ،یورپ تو عورت کو جانور سے بھی بد ترین مخلوق بنانا چاہتا ہے, 

اللہ پاک ہر مسلمان عورت کی عزت جان و مال کی حفاظت فرماۓ. آمین,  ثم آمین


افکار و نظریات: عورت اور آزادی