بتاٶ تو مسلمان بھی ہو؟

محبوب اسلم

اپنے پچھلے مضمون میں عرض کیاتھا کہ امت مسلمہ شیعہ اور سنی کی تفریقی دلدل میں پہلے ھی پھنسی ھوئی تھی اس پر مزید ظلم عالمی طاقتوں کے اس خطے میں مفادات نے ڈھا دیا۔ ایرانیوں کوروس اور سعودیہ کو امریکہ کی شہ مل گئی اور ھمارے حصے میں آیا تو یمن اور غوطہ میں ھمارے بچوں کے لاشے۔ اورھم شیعہ اور سنی اس خوش فہمی میں مبتلا  ھیں کہ ابھی کچھ روز میں ھم دوسرے پر برتری حاصل کر لیں گے۔

 ھم کچھ شیعہ صاحبان کی طرف سے صاحبہ اکرام کیطرف شدت پسندانہ رویوں کے بارے میں سنتے آۓ ھیں۔ دوری طرف میں چونکہ امریکہ میں درس وتدریس کے شعبہ سے بھی منسلک ھوں تو روزانہ کی بنیاد پر میں سعودی اور دیگر  عرب طالبعلموں سے ملتا ھوں اور انکی شیعہ مخالف سوچ سے بھی بخوبی واقف ھوں۔

یوں اسلام میں یہ بنیادی تفرقہ بندی ایک حقیقت ھے اور اس کے حل ھونے کے امید کم ھے۔ لیکن آج دنیا کی بڑی طاقتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ھماری اس تفرقہ بندی کو اپنے مقاصد اور فائدے کیلئے بے دریغ استعمال کیا ھے۔ اب چاھے وہ یمن میں سعودی عرب کی امریکہ سے ملکر شیعہ آبادی پر حوثی شدت پسندوں کے نام بمباری ھو یا شام میں ایران اور روس سے ملکر شامی حکومت کی سنی آبادی پر داعش کا نام پر بمباری ھو۔ اسکا حل ھم دونوں فرقوں کو ھی تلاش کرنا ھے۔  لیکن امریکہ اور روس ان علاقوں میں اپنے اپنے مفادات کی خاطر ھم دونوں فرقوں کو باھمی طور پر یہ حل ڈھونڈھنے ھی نہیں دینا چاھتے۔ نتیجتاً ھم  یمن اور شام میں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا رھے ھیں۔

ان حالات میں میں سمجھتا ھوں کہ ھمیں آپس کے اختلافات  کو بھلانا ھوگا اور آپس میں جنگ بندی کیلئے پائیدار ڈائیلاگ کو شروع کرنا ھوگا۔ اس سلسلہ میں عالمی اور ملکی سطح پر کوشش ھی وقت کا تقاضہ ھے۔

 ھمارے لیئے شیعہ اور سنی دوستوں، علما، شہریوں اور ھمسائیوں کو ساتھ بیٹھا کر بات کرنا اشد ضروری ھے۔ امیدھے آپ سب حضرات اپنی بساط بھر اسطرف توجہ دینگے اور اپنی توانائیاں اس ضمن میں صرف کرینگے۔

دوسری طرف پاکستان کی جغرافیائی اھمیت اور فوجی طاقت کو سامنے رکھتے ھوۓ، آنے والے دنوں میں پاکستان پر بہت زیادہ دباٶ پڑسکتا ھے۔ میری تحریر کا اصل مقصد آپ جیسے محب وطن اوراسلام دوست صاحبان کی توجہ اس نقطہ پر مبذول کروانا تھی کی ایک مضبوط پاکستان ھی آنے والے وقت میں ان عالمی ریشہ دانیوں کا مقابلہ کر سکے گا۔ تو ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم سب سنجیدگی سے پاکستان کی سیاست میں عمل دخل دیں اور نہ صرف سیاسی طاقت حاصل کریں بلکہ موجودہ ملکی پالیسوں پر بھی اثر انداز ھونے کی پوزیشن حاصل کریں جو شیعہ سنی تفریق کے منفی مضمرات کو بھی کم کرسکیں۔

ھماری یہ کوششیں پاکستان میں  جاری ھیں۔ لیکن آپ جیسے صاحبان کی شمولیت اور سر پرستی ھماری جدوجہد کو ایک نئی توانائی مہیا کرے گی اور ملکی سیاست میں ایک مربوط نظام کے تحت ھمارے نظریے اور وژن پر کام ھو سکے گا۔

امید کرتا ھوں کہ آپ نہ صرف میری بات سےاتفاق  کرینگےبلکہ ھمارےساتھ ملکر کام کرنے کو بھی تیار ھونگے اور اپنے حلقہؑ احباب کو بھی راضی کرینگے۔

میں سمجھتاھوں کہ پاکستان میں مثبت تبدیلی ناگزیر ھے۔  بہت جلد پاکستان بھی عالمی حالات کے بھنور میں پھنستا چلا جائیگا۔ اور اگر ھم نے آج اس کام کا بیڑا نہ اٹھایا تو پھر ھم سواۓ کف افسوس ملنے کے اور آنسو بہانے کےسوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔ 


افکار و نظریات: بتاٶ تو مسلمان بھی ہو