ایپک پالیسی کانفرنس 2018ء

تحریر: صابر ابو مریم

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

ایپک سے مراد امریکا میں قائم ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ ہے جسے انگریزی میں AIPACکہتے ہیں۔ سیاسیات وبین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اس کمیٹی کو دنیا کی سب سے طاقتور ترین کمیٹی مانا جاتا ہے جو نہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مابین تعلقات بنائے رکھنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ دیگر کئی ایک اہم امور سمیت سب سے اہم ترین کام یعنی امریکی صدر کے چناؤ میں بھی یہی کمیٹی لابنگ کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس کو اس کمیٹی کی حمایت حاصل ہو جائے وہ یقینی طور پر صدر بن جاتا ہے۔یعنی سادہ الفاظ میں امریکہ میں مقیم صیہونیوں کا گروہ کہ جو امریکی سیاست کو مکمل طور پر غاصب صیہونی ریاست کے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔حتیٰ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ہر امید وار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی صدارتی انتخابی مہم میں صیہونیوں کی ہمدردی و حمایت حاصل کر سکے۔ دور حاضر کے گذشتہ نصف درجن سے زائد صدور بھی اسی کمیٹی یا اس کے قیام سے قبل بھی صیہونیوں کی حمایت کے نتیجہ میں امریکی صدر کے عہدے تک پہنچے ہیں اور جو تھوڑی بہت بھی مخالفت کرتا ہے تو اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے جیسا کہ امریکی صدور کا قتل بھی ہوا ہے۔

ایپک کے قیام کے مقاصد کے بارے میں صیہونیوں کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی امریکا و اسرائیل کے مابین اچھے تعلقات اور مشترکات کو اچھے اسلوب کے ساتھ انجام دینے کے لئے بنائی گئی ہے اور ان معاملات میں یہ کمیٹی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔سادہ الفاظ میں یہ کہا جائے کہ یہ ایک ایسی کمیٹی ہے کہ جس کا مقصد امریکی شہریوں کو اسرائیل کا حامی بنانا ہے تا کہ امریکی شہریوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ ہو ۔ کیونکہ امریکہ ہی ہے کہ جو غاصب صیہونی اور جعلی ریاست اسرائیل کا مکمل طور پر سرپرست ہے اور نہ صرف اربوں ڈالرز کا اسلحہ اسرائیل کو فراہم کرتا ہے بلکہ فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام پر جاری صیہونی مظالم پر عالمی اداروں میں صیہونی جعلی ریاست کی مذمت کرنے بجائے اس پر چشم پوشی بھی کرتا ہے ۔بہر حال امریکی شہریوں کے ساتھ یہ بہت بڑی نا انصافی ہے کہ ان کے ٹیکس کو اسرائیل کے لئے سرف کیا جاتا ہے اور اس ٹیکس کی رقم سے بننے والا اسلحہ اسرائیل کو فقط امداد کے نام پر دیا جاتا ہے جس کے بعد مظلوم انسانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، جو پہلے پہل فلسطین تک محدود تھا، بعد میں عرب ممالک کے ساتھ مختلف جنگوں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوا ور اب دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کو مدد فراہم کرنے کی صورت میں بھی سامنے آرہاہے ، جس کی تازہ مثالیں القاعدہ، طالبان، داعش، النصرۃ فرنٹ، جیش الاسلام، احرار الشام، فلیق الرحمان، فری سیرین آرمی اور کرد تنظیمیں سر فہرست ہیں۔

صیہونیوں کی اس کمیٹی یعنی ایپک کے بارے میں امریکی سیاست کا ایک مایہ ناز نام پال فنڈلے اپنی کتاب میں چشم کشاء حقائق بیان کر چکا ہے جس میں ایپک کی امریکی صدارتی انتخابات سمیت سینیٹرز اور کانگریس پر کس حد تک دسترس قائم ہے اور کس طرح یہ صیہونی کمیٹی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو کر صیہونی حمایت یافتہ امید وار وکو کامیاب کرواتی ہے ، یہ تمام حقائق انہوں نے اپنی کتاب ’’شکنجۂ یہود‘‘ میں لکھے ہیں۔

صیہونیوں کی قائم کردہ ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ سالانہ ایک کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے جس میں امریکی و اسرائیلی اہم ترین عہدیداران خطاب کرتے ہیں جس میں جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بھی خطاب کے لئے امریکہ آتے ہیں اور سال نو کی پالیسی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔اس کمیٹی کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں قائم ہے جبکہ اس کمیٹی میں ایسے امریکی افراد موجود ہیں کہ جو غاصب اور جعلی صیہونی ریاست اسرائیل کے حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔اسی طرح امریکن کانگریس کی دو تہائی اکثریت بھی اس کانفرنس کا حصہ بنتی ہے۔امریکی یونیورسٹیز کے مختلف 630کیمپسوں میں سے 3600طلباء و طالبات بھی اس کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں،امریکہ کی تمام پچاس ریاستوں سے 283ایسے طلباء جن کو صدارتی ایوارڈ دئیے گئے ہوں وہ بھی اس کانفرنس کا حصہ ہوتے ہیں۔امریکہ میں مختلف عبادت گاہوں سے 275خصوصی مذہبی پیشواؤں (مختلف مذاہب ) کو مدعو کیا جاتا ہے اور اس کانفرنس کا حصہ ہوتے ہیں۔اورا س کے ساتھ ساتھ وہ تمام آفیشل ممبرز جو اس کمیٹی کے رکن ہیں وہ سب کے سب شریک ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ ایپک کانفرنس 4مارچ کو

شرو ع ہو کر 6مارچ تک جاری رہی ہے، اور درج بالا شخصیات و ادارے سب نے اس کانفرنس میں شرکت کی ہے۔

ایک امریکی جریدے دی ہل کے مطابق ایپک کمیٹی اور ا س کی سالانہ پالیسی کانفرنس امریکہ اور اسرائیل تعلقات کی محافظ ہے۔واشنگٹن میں ایپک سالانہ پالیسی کانفرنس امریکہ کے ذہین ترین افراد اور سیاست دانوں حتیٰ موجودہ صدر اور مستقبل میں آنے والے امریکی صدور کے لئے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔

Tablet Magazine, Stephanie Butnick کے مطابق ایپک پالیسی کانفرنس اور کمیٹی اوسکر ایوارڈ کی طرح ہی صیہونیوں کا سب سے بڑا اور اہم ترین اجلاس ہے جو مستقبل کے لئے اہم ترین فیصلوں کو کرنے اور ان پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی وضع کرتا ہے۔

The Huffington Post, Joshua Hersh کے مطابق ایپک کانفرنس امریکی دونوں جماعتوں اور امریکی قانون سازوں کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی حمایت حاصل کرلینا کسی بھی امیدوار کی کامیابی کی کنجی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکی سیاست اور امریکہ کے معاشی و دیگر معاملات کو امریکہ ہی میں قائم ایک ایسا ادارہ کنٹرول کر رہاہے جس کے بنانے والے صیہونزم سے تعلق رکھتے ہیں جن کے مقاصد نہ صرف فلسطین پر قابض ہونا ہے بلکہ پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں، اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ در اصل امریکی سینیٹ اور کانگریس جیسے ایوانوں سے بھی بلکہ وائٹ ہاؤس سے بھی زیادہ طاقت رکھتی ہے اور کسی بھی امریکی سیاستدان میں اس کمیٹی کے خلاف جانے کی ہمت کرنا نا ممکن سی بات ہے، کیونکہ معروف امریکی سیاست دان پال فنڈلے نے اپنی کتاب شکنجۂ یہود میں نہ صرف اپنے ساتھ بیتنے والی ایپک کی داستان بیان کی ہے بلکہ بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ امریکی سیاست پر ایپک یعنی صیہونیوں کا کنٹرول ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست دانوں کی خرید و فروخت کرنے جیسے متعدد گھناؤنے افعال یہی کمیٹی انجام دیتی ہے۔ حال ہی میں اس کمیٹی کی سالانہ کانفرنس بعنوان ’’ایپک پالیسی کانفرنس2018ء ‘‘ واشنگٹن میں منعقد ہوئی ہے جس کا احوال کالم کے دوسرے حصہ میں بیان کیا گیا ہے۔

ایپک کمیٹی کے تحت ہر سال منعقد ہونے والی پالیسی کانفرنس سے نیتن یاہو کا خطاب دو حصوں پر مشتمل ہے خطاب کے آغاز میں امریکی حکومت اور صدر کے شکریہ اور اسرائیل کی جعلی ریاست کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت، ایٹمی طاقت اور دیگر امور میں نام نہاد حاصل ہونے والی ترقی کا ذکر اور دنیا کے لئے اسرائیل کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اسی خطاب کے دوسرے حصے میں اسی نام نہاد طاقتور اسرائیل کی طاقت کا پول کھلا ہوا ہے، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کی جانب سے فلسطین کے عوام کے لئے جاری مدد و نصرت کا اعتراف کیا او ر اسے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی شکست تسلیم کیا ہے۔

مقالہ کے اس حصہ میں ایپک کا تعارف پیش کیا گیا ہے جبکہ مقالہ کے دوسرے اور آخری حصہ میں ایپک پالیسی کانفرنس 2018ء سے نیتن یاہو کے خطاب سے متعلق تبصرہ پیش کیا جائے گا۔

’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ ایپک کی سالانہ کانفرنس بعنوان ’’ایپک پالیسی کانفرنس2018ء ‘‘ واشنگٹن میں 4تا 6مارچ جاری رہی ، جس میں امریکی و اسرائیلی اعلی سطحی عہدیداروں سمیت امریک جامعات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ایسے افراد نے شرکت کی جو امریکی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ پرو اسرائیلی ہیں۔اس سالانہ اجلاس میں امریکی و اسرائیلی سیاست دانوں نے خطابات کئے اور امریکہ و اسرائیل کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے باتیں بھی کیں تا کہ مستقبل میں امریکہ کی طرف سے اربوں ڈالرز کے اسلحہ کی کھیپ اسرائیل کو صرف امداد کے نام پر دی جاتی رہے اور اس اسلحہ سے اسرائیل نہ صرف فلسطین کے مظلوموں کا قتل عام کرے بلکہ خطے بھر میں دہشت گرد گروہوں کو بھی امداد کرے اور دہشت گردی کو فروغ دے۔ یہاں پر امریکہ کی دنیا کے لئے امن امن اور امن کے قیام کے دعوے سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں کیونکہ امریکہ اسرائیل کی سرپرستی کرتے ہوئے دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں کو وجود بخشنے میں براہ راست اور بالواسطہ ملوث ہو جا تا ہے اور پھر یہ دہشت گردی دنیا بھر میں کسی بھی مقام پر معصوم انسانوں کو نشانہ بناتی ہے اور حکومتوں کو کمزور و غیر مستحکم کرنے کے امریکی واسرائیلی منصوبوں پر عملدرآمد کرتی ہے۔

حالیہ ایپک کانفرنس میں جہاں متعدد امریکی و اسرائیلی سیاستدانوں ، قانون سازوں، امریکی سینیٹرز، امریکن کانگریس اراکین وغیرہ نے خطابات کئے وہاں اس کانفرنس کا خصوصی خطاب ہمیشہ کی طرح جعلی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیا ہے۔ایسے حالات میں کہ جب ایک طرف خود غاصب صیہونی ریاست کے اندرون خانہ نیتن یاہو کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں دوسری طرف امریکہ میں موجود صیہونیوں نے کرپشن کے الزامات میں گھرے نیتن یاہو کا گرمجوشی سے استقبال کیا ہے۔واضح رہے کہ نیتن یاہو نے اس خطاب سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے تین گھنٹے سے زائد دورانیہ کی ملاقات کی تھی اور خطے کے مسائل جس میں بالخصوص ایران سے متعلق ڈیڑھ گھنٹے سے زائد گفتگو کی گئی جس کا مقصد ایران کو نیوکلیئر انرجی حاصل کرنے کے معاہدے سے نکالنا تھا جو کہ ایران اور دیگر پانچ عالی طاقتوں کے مابین ہوا ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔

سرزمین فلسطین پر غاصب جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایپک کانفرنس سے خطاب میں امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آغاز کیا اور کہا کہ ہمارے لئے بہت عظیم بات ہے کہ ٹرمپ نے یروشلم شہر کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور امریکن سفارت خانہ منتقل کیا جائے گا۔درا صل نیتن یاہو کا مقصد واضح ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس وقت موجودہ خطے کی صورتحال میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے کہ جب ایک طرف شام میں دہشت گرد گروہوں نے شامی حکومت کے خلاف مسلح دہشت گردانہ کاروائیاں شروع کر رکھی ہیں تو دوسری طرف لبنان میں صدارتی انتخابات کا وقت ہے، اسی طرح تیسری طرف مصر ہے کہ جہاں حال ہی میں محمد بن سلمان نے دورہ کیا ہے جو کہ خود بھی امریکہ کا ایک بڑا اتحادی ہے، جبکہ اردن کا معاملہ اسرائیل کے لئے زیادہ اہم نہیں کیونکہ وہاں پہلے ہی مظاہروں کا آغاز ہو چکا ہے اور اسرائیل کی بھرپور حمایت حاصل ہے، باقی رہی پاکستان کی بات تو پاکستان کے خلاف امریکی بیان بازی اور پھر اسرائیل کا ہندوستان کا دورہ اور اس سے قبل ہندوستانی وزیر اعظم مودی کی اسرائیل یاترا در اصل پاکستان کے خلاف دونوں صیہونی قوتوں کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔عراق کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے کہ جہاں دہشت گردی کے مسئلہ سے نمٹاجا رہا ہے، دیگر مسلم ممالک کی بات کریں تو عرب ممالک کا اتحاد پہلے ہی یمن میں جنگ مسلط کر چکا ہے ، تو اب لے دے کر ایران ہی رہ گیا ہے کہ جو خطے میں امریکی و صیہونی ناپاک منصوبوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور فلسطین کاز کا سب سے بڑا حمایت گذار بھی ہے کہ جس کا خود فلسطین کے عوام اور فلسطین کی تمام سیاسی و مزاحمتی جماعتیں مختلف اوقات میں اعتراف کر چکی ہیں۔

بہر حال ایسے موقع پر نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کے شیطانی منصوبے یعنی القدس شہر میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی اور القدس شہر کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کی یاد دہانی کروانا یقیناًاسرائیل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ درج بالا خطے کی صورتحال میں فلسطین کے بارے میں حتمی طور پر اسرائیلی تسلط کو جگہ مل

جائے اور اسرائیل سمیت امریکہ کو کسی مزاحمت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر نیتن یاہو نے ایپک کمیٹی کے امریکی اعلی عہدیدار ڈیوڈ فرایئڈ مین کا نام بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم میں منتقل ہونے والے امریکی سفارتخانہ کا پہلا امریکی سفیر ڈیوڈ فرایئڈ مین ہو گا۔نیتن یاہو نے اسرائیل کے خطر ناک ترین ایٹمی پلانٹ ڈائمونا کے قیام میں امریکی حکومت کا بے پناہ شکریہ ادا کیا کہ جس کے باعث اسرائیل کے پوس چار سو کے قریب ایٹم بم ہیں جبکہ یہی امریکہ اور اسرائیل ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک بشمول شمالی کوریا اور ایران سمیت پاکستان جیسے ممالک کے ایٹمی انرجی کے منصوبوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔نیتن یاہو نے اسرائیل کی خفیہ اور دہشت گرد ایجنی موساد کی تعریف کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو بتایا کہ ان کی اس خفیہ ایجنسی کی وجہ سے آج نہ صرف صیہونی محفوظ ہیں بلکہ دنیا کے عام انسانوں کو بھی امن حاصل ہے جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے کہ یہی موساد ماضی میں نہ صرف امریکی جہاز کو نشانہ بنا کر تباہ کر چکی ہے جس میں سیکڑوں امریکی شہری جاں بحق ہوئے تھے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اہم شخصیات کا قتل اور اغوا کرنا اس خفیہ ایجنسی ہی کے کارنامے ہیں جس کی بدولت دنیا کے متعدد ممالک پریشان ہیں۔

نیتن یاہو نے اسرائیل کی بڑھتی ہوئے فوجی تعداد پر بھی فخر کیا ہے اور امریکی شہریوں کو بتایا ہے کہ یہ سب صرف اور صرف امریکی امداد اور تعلقات کے باعث ہو رہاہے جس پر وہ مسلسل امریکہ کا شکریہ ادا کرتے رہے، حتیٰ امریکی صدر کو ایک گریٹ صدر کا لقب بھی دیا۔نیتن یاہو نے مقبوضہ فلسطین میں موجود قدرتی ذخائر سے حاصل شدہ فوائد کو بیان کیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب وسائل و ذخائر جن پر صیہونی جعلی ریاست قابض ہے فلسطین و فلسطینیوں کے ہیں جس کو نیتن یاہو نے ایپک اجلاس میں اپنا اپنا کا راگ الاپ کر اسرائیلی مہر ثبت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

ہمیشہ کی طرح اسرائیلی وزیر اعظم ایران سے متعلق نفسیاتی دباؤ کا شکار رہے جہاں انہوں نے امریکی و اسرائیلی کارکنان ایپک کو مختلف حیلے بہانوں سے خوش کرنے کی کوشش کی وہاں ان پر ہمیشہ کی طرح ایران سے متعلق نفسیاتی دباؤ برقرار رہا، انہوں نے ایران کے نیوکلئیر منصوبوں پر نقطہ چینی کی جبکہ اپنی اسی تقریر میں اسرائیل کے نیوکلئیر پلانٹ ڈائمونا کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کا خوشی سے اعلان کیا اور امریکی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔وہ شدید پریشانی کے عالم میں کہتے رہے کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں نے معاہدہ کر کے شدید غلطی کی ہے اور امریکہ کو چاہئیے کہ اس معاہدے سے نکل جائے کیونکہ اس معاہدے سے ایران آئندہ دس سالوں میں مزید نیوکلئیر انرجی حاصل کرے گا جو ہم نہیں چاہتے۔

نیتن یاہو کی پوری تقریر جس میں انہوں نے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی ترقی کے گن گاتے ہوئے ایپک کے شرکاء کی خوشی کو دوبالا کیا تھا ، تقریر کے اگلے ہی حصے میں مسلسل ایران کی کامیابیوں کا تذکرہ کرنا در اصل خود صیہونی جعلی ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، تقریر کے کچھ لمحات بعد ہی ایران کا موضوع چھیڑ کر مسلسل ایران کی کامیابیوں کی بات کرتے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ صیہونی جعلی ریاست کے تمام دعوے جھوٹے ہیں کیونکہ صیہونی ریاست امن و انصاف کی دشمن ہے اور فلسطین سمیت خطے میں موجود معصوم انسانی جانوں کے قتل عام کی ذمہ دار امریکی وصیہونی حکومتیں ہیں ۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ ہو یا پھر اسرائیل ، اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خطے کے امن کو تباہ کرنے میں یہ خود ملوث ہیں، دہشت گرد ی کو فروغ دے رہے ہیں، دہشت گرد گروہوں کا قیام عمل میں لاتے ہیں، فلسطین میں انسانیت سوز مظالم کے ذمہ دار ہیں، دنیا کے دیگر حصوں میں مداخلت کرتے ہیں، انسانی حقوق کی پائمالی کرتے ہیں، بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں، انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں، نیتن یاہو کی جانب سے امریکی حکومت کا ان تمام جرائم پر شکر گذار ہونا دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم امہ اپنے مشترکہ دشمن امریکہ کی مکمل شناخت حاصل کرے اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرے۔


افکار و نظریات: ایپک پالیسی کانفرنس 2018ء