ادارتی نوٹ

اگر ہم حق کو پہچانیں تو باطل خود بخود سمجھ میں آ جائے گا۔ جیسے اگر روشنی کی شناخت ہو جائے تو اندھیرے اور تاریکی کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔مسلمانوں کی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ مسلمان اکثر حق کو باطل کے برابر لا کر کھڑا کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب برابر ہیں حالانکہ دِن ، رات کے ، اندھیرا اجالے کے، ہدایت گمراہی کے علم جہالت کے اور حق باطل کے برابر نہیں ہے۔

اب مسلمان یہ نہیں دیکھتے کہ یمن پر سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملے کر رہا ہے یا  ایران  اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب پر حملے کر رہا ہے!

یمنی تو مظلوم ہیں کیا مظلوموں کی مدد کرنے والا اور مظلوموں پر حملہ کرنے والا دونوں برابر ہیں!؟

اسی طرح شام میں داعش اور القاعدہ کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا ہے جبکہ شام کی قومی فوج کی مدد ایران کر رہا ہے۔کیا جارحیت کرنے والے سعودی اور شام کی قانونی حکومت کی مدد کرنے والا ایران برابر ہیں!؟

معزز ممبران نوٹ کر لیں اور یہ جملے لکھ کر رکھ لیں کہ سعودی عرب کی بد دیانتی اور خیانت کے لئے یہی کافی ہے کہ جس طرح سعودی عرب نے افغانستان میں طالبان سے اپنا مطلب نکالنے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دے دیا اسی طرح شام میں بھی سعودی عرب اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد انہی القاعدہ اور داعش والوں کو دہشت گرد کہے گا۔ بلکہ اب بھی جہاں جہاں سعودی عرب کا مطلب پورا ہوجاتا ہے وہاں داعش کو  دہشت گرد کہنا شروع کر دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کی سرے سے کوئی خارجہ و داخلہ پالیسی ہے ہی نہیں وہ تو صرف امریکہ و اسرائیل کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے ، ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو امریکہ اور اس کے چیلوں کو حق سمجھ کر ان کی پیروی کریں اور یا پھر انہیں باطل سمجھ کر ان کا مقابلہ کریں:

باطل دوئی پسند ہے' حق لاشریک ہے

 شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

حق اور باطل کی جنگ میں کوئی درمیانی راستہ نہیں ہوتا ۔جو حق کو حق سمجھ کر اس کا ساتھ نہیں دیتا وہ در اصل باطل کی ہی مدد کرتا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں یا حق و باطل کو مخلوط کر کے پیش کریں۔

اتنا یاد رہے کہ قرآن مجید کا صریح حکم ہے کہ  وَ لا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْباطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ‌. حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاو اور جب تمہیں علم ہو تو حق کونہ چھپاو. 

ان دنوں ایران اور سعودی عرب کے بارے میں متعدد  آرا کا مطالعہ کیا اور خوشی ہوئی کہ ہم سب ملت اسلامیہ میں اتحاد  و اتفاق کے خواہاں ہیں۔ مجھے  اپنے روشن فکر طبقے  کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ ہمیں اس جاری جنگ و جدال کو مسلکی سطح سے بلند ہو کر دیکھنا چاہیے اور یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مسلکی سطح سے بلند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مسلک کا فائدہ یا نقصان نہ دیکھیں بلکہ حق اور باطل کو دیکھ کر حق کا ساتھ دیں۔ جب ہم سب حق کا ساتھ دیں گے تو اسی سے باطل دبے گا اور  اتحاد کی فضا بنے گی۔

 دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایران اس لئے بھی شیعہ فرقے کا نمائندہ ہے چونکہ اہل تشیع کے اکثر مجتھد و مراجع اور فقیہ ایران میں ہیں جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کسی بھی طور اہل سنت کا نمائندہ ملک نہیں ہے بلکہ سعودی عرب میں رائج مسلک کے مطابق اہل سنت کو بھی مسلمان نہیں سمجھا جاتا ۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ اس جنگ کو شیعہ و سنی کی جنگ بھی نہ سمجھیں اہل سنت جن کی پوری دنیا میں اور خصوصا پاکستان میں اکثریت ہے وہ سب سے پر امن اور محبت کرنے والے لوگ ہیں، آج تک انہوں نے نہ ی تو کسی کی مسجد پر قبضہ کیا ہے اور نہ ہی کسی کی عبادت گاہ پر حملہ کیا ہے اور نہ ہی وہ اس جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 

پاکستان میں اولیائے کرام کے مزارات پر حملوں سے لے کر عرب دنیا میں صحابہ کرام  اور بزرگا د دین کے مزارات منہدم کرنے کی وجہ سے اہل سنت بھی سعودی عرب کو سُنی سلطنت نہیں سمجھتے۔

 اس جنگ میں کسی طور بھی اہل سنت سعودی عرب یا آل سعود کے حامی نہیں ہیں لہذا سعودی عرب اہل سنت کے بجائے کسی اور کے مفاد کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ اب سب پر عیاں ہے۔

سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۸ اور ۹ میں ارشاد پروردگار ہے:

 

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو پس اگر ایک ان میں دوسرے پر ظلم کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ الله کے حکم کی طرف رجوع کرے پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان دونوں میں انصاف سے صلح کرادو اورانصاف کرو بے شک الله انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

پس اس سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خداوند عالم نے یہ نہیں فرمایا کہ جب مسلمان لڑیں تو غیر جانبدار بن جاو۔

 

 خداوند عالم ہم سب مسلمانوں کو حق اور سچ بولنے ، سننے اور اس پر متحد ہونے کی توفیق عطاکرے۔

 


افکار و نظریات: جنگ میں غیر جانبداری