اپنی دنیا آپ پیدا کر

محبوب اسلم

نپولین کی اس کہاوت کو کہ ایک شیر کو اگرسو کتوں کا لیڈر بنا دوتو وہ کتے شیر کیطرح لڑینگے جتناھمارے پی ٹی آئی کے بہو لے بادشاہو ں نے رگڑا شاید ھی کسی دوسرے گروہ نے نپولین سے اتنی عقیدت کا اظہار کیاہو ۔ اور کیوں نہ کرتے یہ محاورہ ھر آنے والے لوٹے کیلئے اور عمران خان کی عزت بچانے کئے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اور واۓ شرمندگی بار بار کیا گیا

لیکن اب سینٹ کے الیکشن پر یہ بیچارے شیر تو نہ بن سکے۔ اب سوال اٹھتا ھے کہ یہ مسئلہ ٹیکنیکلی کیا تھا؟ میراذاتی خیال ھے کہ کتا کتا ھی ہو تاھے مسئلہ ضرور شیر کیساتھ رھا ہو گا کیونکہ نپولین کا فوکس لیڈر تھا نا کہ نیچے والا ہجوم۔  تو اب مانئے کہ  جسے ہم  شیر سمجھتے رہے وہی شیر نہ نکلا ۔

لیکن وہ کہتے ھیں نا کہ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔۔تو یہ شیر نما  کون مسلط ہے ہم پر!؟

اب ملکر سارے اَندھے چیتے شروع ہو  جائینگے کہ ایڈمن صاب تسی نواز شریف دی کرپشن تے کدی نئ لکھدے؟؟ او بھائی اگر مجھے زرداری اور نواز شریف کی کرپشن پر ھی لکھناتھا تو میں نے پی ٹی آئی کیوں بنائی اور عمران خان کے ہاتھ کیوں مضبوط کیئے؟؟؟ سامنے کی بات ھے کہ زرداری اور نواز شریف کی کرپشن دیکھ کر ھی تو ھم جیسے پاکستانیوں نے عمران خان کے ہاتھ مظبوط کرنے کی ٹھانی تھی۔ لیکن بیس سال بعد آج جب عمران خان نے زرداری کیساتھ ہاتھ ملایا تو سچ پوچھیں تو بہت سکون ملا کیوں کہ عمران خان کا دوغلا چہرہ جو میں چار سال پہلےدیکھ چکا تھا آج وہ سب کے سامنے بے نقاب ہو  گیا ھے۔

یہ زرداری، یہ نواز، یہ عمران۔۔۔یہ سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ  انکا مسئلہ صرف پیسہ بنانا اور اقتدار حاصل کرنا ھے چاھے اس کیلئے بڑے سے بڑے چور کو باپ بنانا پڑے یا اپنے مرشد کی بیوی سے ہی نکاح کرنا پڑے۔۔۔ضعیف الاعتقادی کی بھی یار کوئی حد ہو تی ھے۔۔۔لیکن اقتدار شاید وہ نشہ ھے جو انسان کو پہیم ٹٌن کئے  رکھتا ھے۔

چلو عمران خان کے ٹرک کی بتی کہیں تو رکی۔۔۔اب خیرسے وہ زرداری کی چوکھٹ ھی کیوں نہ ہو ۔ اب ٹرک رکا تو سہی۔۔۔قوم کو پتہ تو چلا کہ یہ دوڑ بھاگ آخر کس مقصد کیلئے تھی۔ لیکن وہ عمران خان ھی کیا جو باز آجائے۔

موصوف نے ابھی کچھ دنوں پہلے پرانےورکروں کو آنے والے الیکشن میں استعمال کرنے کیلئے آواز لگائی کہ آٶ اور پارٹی کو سنبھالو۔۔۔لیکن اپنے لوٹوں اور کرپٹ عہدے داروں کو اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رکھا۔ یعنی چوروں اور کرپٹ  لوگوں کو کوپارٹی کے ٹکٹ اوپر ہی اوپر بکتے رہیں اور نیچے پارٹی کا نظریاتی ورکر آپ کیلئے کمی کمین بن کر چپ چاپ کام کرتا رھے۔۔۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ جو سچ بولے اسے پھینٹی لگاٶ۔۔۔پارٹی سے باھر پھینکو ۔۔۔اور وقت آنےپر خود زرداری کو جھپی بھی ڈال دی جائے!

لیکن اس سارے کھیل میں ہم پاکستانیوں کیساتھ ہو ئی بڑی ستھری گیم  ھے۔ ایکطرف زرداری جیسا چور تو دوسری طرف نواز شریف جیسا چوراور تیسری طاقت نکلی وانا بی زرداری۔۔۔wanna be Zardari تو ھن کرلو گل؟؟؟

قوم کا اب وہ حال ھے کہ۔۔۔برے نصیب میرے۔۔۔مل نہ سکا پیار میرا۔۔۔ھت تیرے کی دور ہو  موۓ نصیب تو کہاں آ کر پھو ٹا؟؟

جناب  اب ہماری اپنی قوم سے  عرض  یہ ھے کہ اب یہ قوم  وڈے وڈیروں، سرمایہ داروں اور سیلیبریٹیز کا پیچھا چھو ڑے اور علامہ اقبال کی بات پر کان دھرے۔۔۔اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ھے۔۔۔اپنے لیڈر اپنے جیسے عوام سے ھی ڈھو نڈیں۔۔۔اپنے ارگرد، اپنے محلوں اور آفس میں نظر دوڑائیں اور اچھے مخلص پاکستانیوں کو آگے لائیں۔ امید ھے کان دھرینگے۔

 


افکار و نظریات: اپنی دنیا آپ پیدا کر