سیاہی اورسیاہ رویہ

فرحان منہاج

خواجہ آصف پر سیاسی پھینکنے کے عمل کی کسی بھی طرح حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی ـ بلکہ سیاسی کارکن ہونے کے ناطے حوصلہ شکنی ہی کرنی چاہیے اور اس عمل کو قابل نفرت سمجھنا چاہیے.

ناروال میں جب احسن اقبال پر جوتا پھینکا گیا تب بھی میری رائے یہ ہی تھی کہ اس عمل کی تعریف نہیں کی جاسکتی نہ ہی اسکی حمایت کی جاسکتی بلکہ اسکی مذمت ہی کی جانی چاہیے.سیاسی مخالفت نظریاتی مخالفت میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ اخلاقیات کا دامن ہی چھوڑ دیا جائے.

دراصل یہ خواجہ آصف پر سیاہی نہیں پھینکی گئی بلکہ ہمارےہمارے معاشرے میں پلپنے والے رویے کو پھینکا گیا جو کہ سیاہ ہے جس کی ہم پرورش کرتے آئے ہیں جن میں خواجہ آصف کا بھی اہم کردار ہے.

اس واقعے کا ایک اور پہلو ہے خواجہ آصف وزیر خارجہ ہیں بین الاقوامی حلقوں میں اس واقعے کو بہت اہمیت دی جائے گی سیاہی پھینکنے والے کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ایک مذہبی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اس نے اس عمل کو ختم نبوت کے حلف نامے میں ردوبدل کے ردعمل سے جوڑا ہے.اس بات کی ہمارے مخالف ممالک اور لابی تشہیر کر سکتی ہے.

اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں بڑھتی انتہاپسندی پر ویسے ہی تشویش ظاہر کہ جاتی ہے اور جون میں ہمیں گرے لسٹ میں بھی ڈالا جارہا ہے اس عمل سے ہمیں گرے لسٹ میں ڈالنے کے عمل کو مزید تقویت ملے گی ..

سیاست کریں مجرم کو عدالت میں ثابت کریں عوام میں اپنا بیانیہ دیں نہ کہ مخالف کو گالی دیں جس سے اختلاف ہے اسکو اگنور کریں نہ کہ.اسکے منہ پر جوتا دے ماریں یا سیاہی پھینک دے.اختلاف کا معیار رکھیں اسے گٹھیا نہ بنائیں

#ضرب_تحریر


افکار و نظریات: سیاہی اورسیاہ رویہ