اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات طنز آخر ہے کیا بلا! عدنان خان کاکڑ ادب و صحافت میں طنز کا مقصد عام طور پر چبھن پیدا کر کے کسی معاملے کے احمقانہ پہلو یا پھر برائی کو اجاگر کر کے معاشرے میں اس موضوع پر مکالمے کی سوچ پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ اس کا کوئی مناسب حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ایک طنز نگار کسی ایسے موضوع یا شخص کو اپنا نشانہ بناتا ہے جس میں اسے کوئی خامی دکھائی دے اور وہ طنز یا پھر مزاح کے ذریعے ان غلطیوں کو سامنے لاتا ہے۔ لازمی نہیں کہ طنز میں مزاح کا پہلو بھی پایا جاتا ہو۔ طنز کا مقصد عوام کی توجہ معاشرے یا افراد کی ان برائیوں کی طرف دلانا ہوتا ہے جو کہ معاشرے کے لئے ضرر رساں ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے نظریہ ارتقا پر ہمارا مضمون کامیاب رہا ہے اور نظریہ ارتقا پر ایک بحث نے جنم لے لیا ہے۔ صحافت کی ایک مشہور تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس کا مقصد رنجیدہ کو سکون دینا اور آسودہ کو غمگین کرنا ہوتا ہے۔ طنز کی بھی یہی تعریف مناسب ہے۔ ڈاکٹر سیموئل جانسن اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایسی شاعری قرار دیتے ہیں جس میں شرارت اور حماقت کو ملفوف کر دیا گیا ہو۔ جوناتھن سوئفٹ کی رائے میں طنز ایک ایسا آئینہ ہے جسے دیکھنے والے کو اپنے سوا باقی سب کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ طنز طاقت ور عوامی انداز فکر یا افراد کو چیلنج کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں ایک متبادل سوچ پیدا کرتا ہے۔ اس کی تین مشہور اقسام ہیں۔ رومی طنز نگار ہوریس مزاح کا سہارا لے کر مذاق کے سے انداز میں بات کرتا ہے۔ اس انداز کو ہوریشن طنز کا نام دیا گیا ہے۔ وہ مسکراہٹوں سے زخم مندمل کرنے کا قائل ہے۔ طنز کی دوسری اہم قسم رومی طنز نگار جووینل کے نام سے منسوب ہے۔ اس طرز میں شخصیات یا نظریات پر حملہ کیا جاتا ہے۔ جووینل مختلف پوائنٹس کو بڑھا چڑھا بیان کرنے سے یا ان کی پیروڈی کر کے طنز پیدا کرتا ہے اور تمسخر انگیز انداز اختیار کرتا ہے۔ تیسری اہم قسم یونانی طنز نگار مینیپس کے نام پر ہے جو کہ مکالمے میں سنجیدگی اور تمسخر کے امتزاج سے طنز تخلیق کرتا ہے۔ طنز ایک مشکل لیکن پرکار ادبی صنف ہے۔ یہ محض کسی کا مذاق اڑا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں طعن و تشنیع، خلاف توقع نتائج نکالنے اور مضحکہ خیز خاکہ بنا کر عام زندگی کے کسی معاملے کو اجاگر کیا جاتا ہے جبکہ ساتھ ساتھ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں روشنی بھی ڈالی جاتی ہے۔ انگریزی میں طنز کی صنف کا نمائندہ مضمون جوناتھن سوئفٹ کا ”آ موڈیسٹ پروپوزل“ گردانا جاتا ہے جو کہ ایک جعلی منصوبہ ہے جس میں بے حد غلو سے کام لے کر ملک کے غریبوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر معاشرے کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ طنز نگاری کرتے ہوئے مختلف ادبی حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسخ کرنا، کسی معاملے کو نہایت گھٹا یا بڑھا کر بیان کرنا، الفاظ کا کھیل کھیلنا، ابہام، تشبیہ، استعارہ، اپنی ہی تردید کرتے ہوئے لفظ یا جملے، تمثیل اور ذومعنی کنایہ وہ عام طریقے ہیں جن کے استعمال سے طنزیہ تحریر لکھی جاتی ہے۔ ان میں سے ذومعنی کنایہ سب سے دلچسپ طریقہ ہے اور بہت سے افراد کے لئے اسے پانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کی مدد سے کسی بھِی معاملے یا فرد پر بالواسطہ تبصرہ کیا جاتا ہے۔ ڈکٹیٹروں اور ظالم حکمرانوں کے خلاف یہ خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے پنجابی کی ایک مشہور ضرب المثل بخوبی بیان کرتی ہے کہ ”کہندی دھیاں نوں، سناندی نوہاں نوں“ یعنی ساس اپنی بیٹیوں پر بول بول کر دراصل اپنی بہو کو سنا رہی ہوتی ہے۔ اس تکنیک میں عام طور پر ابہام کا پہلو بھی رکھا جاتا ہے اور ایک ہی تحریر بالکل متضاد معنی دے سکتی ہے۔ ان میں سے ایک تو سامنے ہی دکھائی دے رہا ہوتا ہے مگر تحریر کی پیچیدگی کے مطابق کچھ غور کرنے پر ایک ذہین پڑھنے والے پر دوسرا مطلب واضح ہو جاتا ہے۔ سطحی ذہانت کا حامل ایک ایسا شخص جو کہ یہ دوہرے معنی نہ پا سکے، حیران ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے پڑھ کر ہنس کیوں رہے ہیں۔ اس تکنیک کو عموماً ڈیڈ پین ہیومر کی سٹائل میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں مصنف نہایت سنجیدگی سے کوئی تاثر دیے بغیر ایک تحریر لکھتا ہے جس کا ایک مطلب اس کے الفاظ سامنے ہی دکھا رہے ہوتے ہیں اور دوسرے مطلب تک پہنچنے کے لئے ذہن کو استعمال کرنا پڑتا ہے جس کے لئے تحریر میں کچھ سراغ یا کمزوریاں دانستہ طور پر پیدا کی جاتی ہیں تاکہ پڑھنے والا تحریر میں موجود تضادات کو دیکھ کر اس پر غور کرے۔ انگریزی، خاص طور پر برطانوی سٹ کام ڈراموں میں یہ تکنیک بہت عام ہے جس میں کسی بھی قسم کے تاثر کے بغیر ایک اداکار بظاہر سنجیدہ ہو کر ایک مزاحیہ ڈائیلاگ بولتا ہے۔ اس تکنیک میں غور نہ کرنے والے افراد تحریر کے لغوی معنی کو ہی سچ سمجھ سکتے ہیں اور اپنے ذہن کے مطابق اسے اچھا یا برا جان سکتے ہیں۔ غور کرنے والے لوگ اس تحریر کی حقیقت کو جان کر اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اس تکنیک کی تحریروں میں یہ عام بات ہے کہ لوگ ظاہری مطلب لے کر اور اسے اپنے موقف کی حمایت میں جان کر اسے اپنے موقف کے ثبوت کے طور پر پیش کریں جبکہ درحقیقت یہ تحریر ان کے موقف کا ابطال کر رہی ہوتی ہے۔ اس تکنیک کا نظریہ ارتقا پر استعمال اتنا دلچسپ ہے کہ اس کی بنا پر کلچر میں ایک اصطلاح معروف ہو گئی ہے جس کا نام ”پو کا قانون“ ہے۔ ناتھن پو نامی شخص کے اس قانون کے الفاظ یہ ہیں کہ ”ایک سمائلی یا مزاح کا واشگاف مظاہرہ نہ کیا جائے تو کری ایشنسٹ کی ایسی پیروڈی کرنا ناممکن ہے جسے کوئی ایک حقیقی موقف نہ سمجھ بیٹھے“۔ مفہوم اس قانون کا یہ ہے کہ کسی انتہائی جذباتی وابستگی والے نظریے پر لکھی گئی پیروڈی پر مصنف اگر ایسا واضح ترین اشارہ نہ دے جو کہ اندھوں کو بھی دکھائی دے جائے، تو اسے پڑھنے والے بہت سے لوگ اسے پیروڈی کی بجائے اس نظریے کی حمایت ہی سمجھیں گے۔ حالیہ پاکستانی کلچر میں ذو معنی کنایہ اور ڈیڈ پین ہیومر پر نمائندہ تحریر کی ایک بہت عمدہ مثال ندیم فاروق پراچہ کا ملالہ پر کالم ”Malala: The real story (with evidence)“ ہے جسے ڈان نے اردو میں ترجمہ کر کے ”ملالۓ: ”اصل کہانی“ بمعہ ثبوت“ کے نام سے شائع کیا تھا۔ یہ مضمون وائرل ہو کر ملالہ کے حامیوں کی بجائے اس کے مخالفین میں بے تحاشا پڑھا گیا تھا جنہوں نے اسے طنز کی بجائے حقیقت سمجھ کر پڑھا اور شیئر کیا تھا۔ یہ مضمون شائع ہونے کے دو دن بعد ڈان کو مجبور ہو کر اس پر ایک اعلان چسپاں کرنا پڑا تھا کہ ”نوٹ: یہ ایک طنزیہ اور فرضی مضمون ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں“۔ اردو میں ڈیڈ پین تکنیک کا استعمال عام نہیں ہے۔ ندیم پراچہ بھی اسے اپنے انگریزی مضامین میں استعمال کرتے ہیں جو کہ بعد میں ترجمہ ہو کر ڈان اردو کی زینت بنتے ہیں۔ ملالہ والے مضمون کے بعد سے ندیم پراچہ کے بعض طنزیہ مضامین پر اب ڈان یہ نوٹس لگانے لگا ہے کہ ”یہ ایک طنزیہ مضمون ہے“، مگر ان کے بہت سے طنزیہ مضمون ابھی بھی اس نوٹس کے بغیر شائع ہو ہوتے رہتے ہیں۔ انگریزی میں نہایت سنجیدہ ہو کر طنز کرنے والی اہم ترین ویب سائٹ ”The Onion“ ہے۔ اس پر سیاست، کھیل، کاروبار، شو بزنس، اور سائنس و ٹیکنالوجی کے بارے میں ایسے ہی ڈیڈ پین طنز پر مشتمل مضمون شائع ہوتے ہیں۔ پاکستان میں غالباً اسی سے متاثر ہو کر ”خبرستان ٹائمز“ نامی ویب سائٹ بنائی گئی ہے جس پر قومی و بین الاقوامی، سیاسی، کاروباری، سپورٹس، شو بزنس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے معاملاقت پر اسی انداز میں خبریں اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے بعض جذباتی قسم کے افراد اگر درسی کتابوں سے ہٹ کر ادب کی دنیا پر بھی توجہ دیں اور خاص طور پر بین الاقوامی ادب پڑھیں، تو ان کی جذباتیت میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن کے دریچے وا ہونے کا بھی امکان ہے۔ بھیا آپ اپنی جہالت پر دوسرے کو مورد الزام کیوں ٹھہراتے ہیں؟ جذبات کو ایک طرف رکھ کر سوچنا سیکھنے پر توجہ مرکوز کریں، اس طرح آپ مذہبی یا ملحدانہ انتہاپسندی سے محفوظ رہ کر معاشرے کا ایک مفید رکن بن سکیں گے۔ نظریہ ارتقا پر ہمارا مضمون کامیاب رہا ہے اور نظریہ ارتقا پر ایک بحث نے جنم لے لیا ہے۔ اس سے پہلے ہمارے ایک اور طنزیہ مضمون ”دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی“ نے اسی انداز میں لڑکیوں کی تعلیم کے ایشو پر بحث کو جنم دیا تھا۔ (یہ مضمون پہلی مرتبہ ہم سب پر 22-10-2016 کو شائع ہوا تھا)
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: طنز آخر ہے کیا بلا
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں