سیاسی جماعتیں۔۔۔سدھر جائیں

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

پاکستان کے ھر قسم کا مسلہ اپنی بنیاد میں سیاسی جماعتوں کے اندرونی نظام سے ھی منسلک ھے ،اگر مقتدر ادارے نظام حکومت میں دخل اندازی کرتے ہیں تو اس کی وجہ بھی سیاسی جماعتیں ھی ہیں اور اگر ووٹ بکتے ہیں یا ملکی خزانے کو لو ٹا جاتا ھے تو اس کی وجہ بھی سیاسی جماعتیں ہیں ۔

پاکستان کی پارلیمان کو دس گیارہ لوگوں نے یر غمال کر رکھا ھے ،بہ الفاظ دیگر ان دس گیارہ لوگوں نے از خود سے رہنما تصور کر کے اکیس کروڑ عوام پہ خود کو مسلط کیا ہوا ھے ۔

اس سیاسی گروپ کا ہر اصول اس وقت تو سچائی پہ محیط ھوتا ھے جب بات پارلیمان یا بیرونی جمہوریت کی ھو لیکن جب بات اپنے گریبان یعنی اپنی جماعت پہ آتی ھے تو کسی بھی اخلاقی ،جمھوری اور آئینی اصول کی دھجیاں بکھیردی جاتی ہیں ۔

سینٹ کے انتخاب میں بلوچستان کے احساس محرومی کو تو مقدم رکھا گیا لیکن ان جماعتوں کے اپنے نظام میں چھوٹے صوبوں کو مرکزی سطح پہ کس حدتک  نمائندگی دی جاتی ھے وہ اظہرمن  الشمس ھے ۔

اس وقت پاکستان کی تین اھم جماعتوں پی ٹی آئی ،پی ایم ایل این ،پی پی پی میں ایسا کون سا اصول ھے یا طریقہ کار ھے کے جس کی بنیاد پہ مرکزی سطح پہ بلوچستان یا کے پی کے کی نمائندگی ھو تی ھو ۔

خانہ پُری کی حد تک تو سب چلتا ھے لیکن اھم عہدوں پہ اپنے ھی صوبے کے یار غار قسم کے دوستوں کو ترجیح دی جاتی ھے ،اس کی بنیادی وجہ جماعتوں میں جمھوری قدروں کی پامالی ھے ،جن میں سر فہرست جماعتی سطح پہ انتخابات کا نہ ھو نا ھے ۔

ایک طرف واویلا کیا جاتا ھے کے سینٹ کے انتخابات بیلٹ بکس کے ذریعے نہ ھوں اور اپنی جماعت میں مو بائیل فون  پہ ووٹ پول کرنے کی اجازت ھے ،یعنی اگر دوسری جماعت کا ممبر بھی ووٹ پول کر دے تو کوئی پرواہ نہیں ۔

یہ ملک اپنی تخلیق کے پچیسویں سال میں دو لخت ھوا ،ھم نہ سد ھرے دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ واحد ملک ھے جس کی ایک لاکھ فوج دشمن کی قید میں گئی ،ھم نہ سدھرے،جمہوریت کی تاریخ میں یہ واحد ملک ھے ،جہاں اکثریت نے اقلیت سے کہا کے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ،ھم نہ سد ھرے اور ھم کبھی بھی نہیں سد ھریں گے تا وقت کے ھمارا نشان قوموں کی تاریخ کے گمشدہ اوراق  کا حصہ نہ بن جائے،خاکم بہ دھن ۔


افکار و نظریات: سیاسی جماعتیں۔۔۔سدھر جائیں