تحریر: محمد صرفی

تقریباً ستر برس پہلے دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک شخص جس کی شکل صورت جنوبی ایران کے باشندوں سے زیادہ نہیں ملتی تھی، بصرہ کے راستے ایران میں داخل ہوا اور بختیاری قبائل کے ایک قبیلے "موری" میں جا کر چرواہے کا کام شروع کر دیا۔ موری قبیلہ خوزستان اور چار محال کے درمیان خانہ بدوشی کرتا تھا۔ یہ شخص جو خود کو گونگا اور بہرہ ظاہر کرتا تھا، جس طرح چپ چاپ آیا اسی طرح خاموشی سے چل دیا۔ "مسٹر جیکاک" درحقیقت برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کا ایجنٹ تھا، جو سات برس خاموشی اور چرواہے کی مشقت برداشت کرنے کے بعد اب ایک عابد اور زاہد شخص میں تبدیل ہوچکا تھا اور البتہ بختیاریوں سے بھی زیادہ بختیاری ہوگیا تھا۔

اس کے جوتے عصا کے اشارے سے اکٹھے ہو جاتے تھے اور آگ اس کی داڑھی کو نہیں جلاتی تھی۔ سادہ لوح افراد کو کیا معلوم تھا کہ "مقناطیس" نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور فائر پروف مادہ بھی کچھ ہوتا ہے۔

لوگوں نے اس برطانوی انٹیلی جنس ایجنٹ سے اس قدر کرامات کا مشاہدہ کیا کہ اس کے گرویدہ ہوگئے اور وہ سید جیکاک کے نام سے معروف ہوگیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عملی طور پر ایران کے تیل کے ذخائر سے مالا مال جنوبی علاقے اس کے کنٹرول میں تھے۔ سید جیکاک پوری طرح چوکنا تھا کہ ان علاقوں سے خام تیل کی برطانیہ ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اس نے اپنا یہ مشن انجام دینے کیلئے ایک نیا مذہبی فرقہ بھی تشکیل دے دیا، جس کا نام "طلوعی" تھا۔

اس فرقے کے عقائد میں دنیا کی مذمت، دنیا کو مکمل طور پر ترک کرنے اور مٹی اور خام تیل کو حقیر اور پست سمجھنا شامل تھا۔ جب ایران میں خام تیل کی صنعت کو قومیانے کی مہم شروع ہوئی تو سید جیکاک نے بھی اپنی مہم کا آغاز کر دیا۔ طلوعی فرقے سے وابستہ افراد کی زبان پر صبح شام یہ ورد جاری تھا:

"تو کہ مہر علی مین دلتہ، نفت ملی سی چنتہ؟" یعنی "تو جس کے دل میں حضرت علی علیہ السلام کی محبت ہے، قومی تیل سے کیا لینا دینا ہے؟"

15 فروری 2017ء کے دن امریکی کانگریس نے ایران سے متعلق بعض سیاسی و سکیورٹی ماہرین کو دعوت دی، تاکہ وہ “Iran under supervision” کے عنوان سے منعقد ہونے والی میٹنگ میں شریک ہو کر اسلامی جمہوریہ سے مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کو مفید مشورے فراہم کریں۔

یہ میٹنگ اس وقت منعقد کی گئی جب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برسراقتدار آئے کچھ ہی دن گزرے تھے اور وائٹ ہاوس ایران کے خلاف حکمت عملی تشکیل دینے میں مصروف تھا۔ اس میٹنگ میں جن افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا، ان میں سے ایک "اسکاٹ موڈل" بھی تھا۔ موڈل تیرہ برس تک امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے میں کام کرتا رہا ہے۔

وہ کئی سالوں تک سی آئی اے کے اسپشل آپریشن سیکشن میں بھی سرگرم رہا ہے جبکہ مشرق وسطٰی خاص طور پر افغانستان اس کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ وہ تین زبانوں پرتگالی، فارسی اور اسپینش پر عبور رکھتا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مغربی انٹیلی جنس ایجنٹس کی خام تیل سے دلچسپی وراثتی ہے۔ موڈل اس وقت "ریپیڈن گروپ" نامی کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر ہے۔ یہ کمپنی انرجی خاص طور پر خام تیل کے شعبے میں جنوب مغربی ایشیا میں کام کر رہی ہے۔

اسکاٹ موڈل نے ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک سات نکات پر مبنی روڈ میپ بیان کیا۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ایران کے اندر بہت کم ہی ایسے بدامنی کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جو موڈل کے اس روڈ میپ سے مطابقت نہیں رکھتے۔

موڈل اپنے روڈ میپ کے نکتہ نمبر 6 میں لکھتا ہے:"ایران میں نافذ سیاسی نظام درحقیقت ایک مذہبی نظام حکومت ہے، جس میں سیاسی طاقت ایک عالم دین کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جبکہ عراق میں روایتی طرز فکر کے حامل علماء کا خیال ہے کہ ایک عالم دین کو سیاست سے دور رہنا چاہئے۔ ہمیں اپنے عرب اتحادیوں کو اس کام کی ترغیب دلانی ہے کہ وہ ایک روایتی اور زیادہ معتدل طرز فکر ہونے کے ناطے نجف کی حمایت کریں۔ یہ مسئلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت ولایت فقیہہ کے مقابلے میں معروف ترین اور محترم ترین مذہبی شخصیات جیسے آیت اللہ صادق شیرازی وغیرہ کی ترویج کی جائے۔

عراق میں ایسی مذہبی شخصیات کو اٹھایا جائے، جو زیادہ نرمی دکھانے والے اور سیاسی امور سے دور رہنے والے ہوں۔"

چند دن پہلے لندن میں شیرازی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے ایرانی سفارتخانے پر حملہ اسی تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ایسا شخص انتہائی سادہ لوح ہے، جو یہ خیال کرے کہ یہ حملہ برطانوی حکومت خاص طور پر برطانوی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مداخلت کے بغیر انجام پایا ہے۔ حملہ آور افراد کم ترین رکاوٹ کے بغیر ایرانی سفارتخانے میں داخل ہوئے اور برطانوی پولیس کی آنکھوں کے سامنے تین گھنٹے تک سفارتخانے کے احاطے میں بدمعاشی کرتے رہے۔

اسی طرح برطانوی حکومت کے حمایت یافتہ ذرائع ابلاغ ان تمام واقعات کو براہ راست طور پر براڈ کاسٹ کرتے رہے۔ جب یہ افراد پورے سکون سے اپنی پوری کارروائی مکمل کرکے ایرانی سفارتخانے سے باہر نکلتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے!

شیرازی فرقہ یا وہی "برطانوی تشیع" مذہب برحق تشیع کے غیر حقیقی اور شدت پسندانہ چہرے کا پرچار کرنے میں مصروف ہے۔ یہ فرقہ شیعہ مذہب میں طرح طرح کی خرافات ڈال کر اس مذہب کے اصلی اہداف جو انقلابی پن اور ظلم کے خلاف جدوجہد پر مبنی ہیں، پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس فرقے نے شیعہ مذہب کو محض زنجیر زنی، تلوار کا ماتم، آگ پر چلنا وغیرہ جیسے اقدامات تک محدود کر رکھا ہے، جبکہ شیعہ سنی تفرقہ اور مذہبی منافرت کے فروغ کے ایجنڈے پر بھی کاربند نظر آتا ہے۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران اتحاد بین المسلمین کی پالیسی پر گامزن ہے۔

ایران تمام مسلمانان عالم کو اپنے حقیقی دشمنوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہو جانے کی دعوت دیتا ہے۔ شیرازی فرقہ درحقیقت عالمی استعماری قوتوں کی پالیسیوں پر گامزن ہو کر خود مذہب تشیع میں بھی انحرافات اور خرافات پھیلا رہا ہے، جبکہ عالم اسلام میں شیعہ سنی تفرقہ اور دشمنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

برطانوی شیعہ تکفیر کی راہ پر گامزن ہے اور وہ ہاتھ اور آواز جسے اسلام دشمن طاقتوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اٹھنا چاہئے، تشیع کے نام پر اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہی اٹھا رہا ہے۔ یہ خود کو شیعہ کہتے ہیں جبکہ دنیا میں واحد شیعہ حکومت کے خلاف عالمی استعمار برطانیہ کی گود میں بیٹھ کر اس کی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔ اس فرقے کو برطانوی حکومت نے دسیوں سیٹلائٹ چینل دے رکھے ہیں جبکہ برطانیہ کے سرکاری چینل بی بی سی کے دروازے بھی ان پر کھلے ہیں۔

جس دن مرجع عالیقدر آیت اللہ میرزای شیرازی بزرگ نے برطانوی حکومت کے خلاف تمباکو کی فروخت سے متعلق اپنا تاریخی فتویٰ صادر کیا، اسی دن سے برطانیہ کی لومڑی صفت حکومت نے "لندنی مرجع تقلید" پالنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا۔

لندن میں بیٹھے یہ جعلی مرجع تقلید اسلامی سرزمینوں خاص طور پر فلسطین میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی بدمعاشی پر کوئی ردعمل نہیں دکھاتے اور انہیں اس بارے میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، جبکہ دوسری طرف کربلا جیسے عظیم اور تاریخ ساز واقعے سے انہیں صرف زنجیر زنی کا سبق ہی حاصل ہوا ہے۔

عالمی استعمار اور مستبد نظاموں کو نہ صرف اس انحرافی فرقے سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ لندن کے علاوہ خلیجی عرب ریاستوں میں اس فرقے کو باقاعدہ دفاتر کھول کر آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت بھی فراہم کرتے ہیں۔

جب ایک برطانوی انٹیلی جنس ایجنٹ کرامات کا حامل ولی بن سکتا ہے تو اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں کہ برطانوی شیعہ ملکہ برطانیہ کیلئے شجرہ بنا کر اسے سید زادی بھی ثابت کر دکھائے۔ خطے میں برطانیہ کی ناک زمین پر رگڑی جا چکی ہے اور اب وہ اپنی اس شکست کا بدلہ لینے کے درپے ہے۔ لندن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے پر حملہ ایک انتہائی پست اور احمقانہ اقدام تھا، جس کا نتیجہ شیرازی فرقے کے چہرے سے نقاب ہٹنے اور اس کا حقیقی مکروہ چہرہ سامنے آنے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

ایم آئی 6 کو چاہئے کہ وہ لینگلی میں بیٹھے اپنے سربراہوں کے منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں، کیونکہ اب سید جیکاک جیسے افراد کا زمانہ گزر چکا ہے۔

یہ جاسوس ٹولہ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان نفرتیں پھیلانے کا کام انجام دے رہا ہے۔

 

شیرازی فرقہ، یا وہی انگریزی شیعہ، داعش اور النصرہ کا ہی کردار ادا کررہا ہے وہ سنی مذہب کو اپنا دستاویز بناتے ہیں یہ شیعہ مذہب کو، وہ بھی اسلام کو ایک پرتشدد مذہب کے طور پر متعارف کراتے ہیں، یہ بھی؛ انگریزی شیعوں کو جو ٹاسک دیا گیا ہے اس میں کسی مرجع تقلید کو ـ عراق سے لے کر ایران تک اور لبنان تک ـ نہیں بخشا جاتا، یہ فرقہ تشیع کو ایک غیر معقول، متشدد اور تکفیری مذہب کے عنوان سے متعارف کرانا چاہتے ہیں؛ شیعہ انقلابیت اور ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کو ـ جو عاشورا 61 ہجری سے شروع ہوچکی ہے ـ گرا کر خرافات اور غیر دینی اعمال میں بدل دینا چاہتے ہیں، دنیا کے زندہ ترین مذہب کو مردہ مذہب کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں: قمہ زنی، زنجیر زنی، فرقہ وارانہ تکفیری رویوں، آگ پر چلنا، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو ہدف حسینی بنا کر پیش کرنا اور مقصد حسینی کو اذہان اور افکار سے مٹا دینا اور عزاداری کے اہداف کو نابود کرنا، شیعیان اہل بیت کو اہل بیت کے حرم کے دفاع سے دور رکھنے کی کوشش کرنا، عزاداری میں نت نئی روشیں اختراع کرکے شیعہ نوجوانوں کو دفاع حرم جیسے عظیم فریضے سے غافل کرنے کے سلسلے میں اسرائیل اور آل سعود کا ہاتھ بٹانا، مزاحمت تحریک کے خلاف تشہیری مہم میں آل سعود اور یہودی ریاست کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا اور کرانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔

 

امریکہ اور اسرائیل آل سعود کو استعمال کرکے علی الاعلان شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں تو اگر ہمیں اس کے پس پردہ عوامل کا اندازہ لگانا مشکل ہے تو اسی اعلانیہ امریکی اسرائیلی موقف کو دیکھ کر انداز لگانا بڑا آسان ہوجاتا ہے کہ شیعہ اور سنی کی جنگ کا فائدہ صرف اور صرف یہود و نصاری کو مل رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعتقادی اور تزویری حکمت عملی قرآن کریم کے احکامات اور زمینی حقائق پر مبنی اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل جیسے ظالم و خونخوار دشمنوں کے مقابلے میں شیعہ سنی اتحاد اور یکدلی اور یکجہتی پر استوار ہے؛ اور اس کی معاندت میں شیرازی تکفیری فرقہ امریکی ـ برطانوی ـ یہودی ایجنڈے کے عین مطابق اپنی پوری قوت کو میدان میں لا چکا ہے جو شیعہ مکتب کے اصولوں کو پامال کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں شیعہ مکتب کا نمائندہ بن کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ایجنڈے کے عین مطابق ایک طرف سے وہابی فرقہ دوسری طرف سے شیرازي فرقہ، جو مل کر دشمنان اسلام کی تباہ کن گاڑی کو ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

 

انگریزی شیعہ امریکی سنی کی طرح، مسلم برادران کو کافر قرار دے کر وہ ہاتھ اور وہ صدا امریکی اور صہیونی جارحوں کے خلاف بلند ہونے کے بجائے، تشیع اور تسنن کی باہمی پیکار میں اٹھانے کے درپے ہیں۔

 

یہ شیعہ کہلوانے پر مصر ہیں اور دنیا بھر میں واحد شیعہ حکومت کے خلاف لندن کا ساتھ دے رہے ہیں، اس کو انگریزوں نے ـ وہابی فرقے کو امریکہ اور برطانیہ کے فراہم کردہ چینلوں کی طرح ـ متعدد سیٹلائٹ چینلز فراہم کردیئے ہیں، یہ فرقہ اپنی نفرت انگیز صدا بی بی سی نامی سینگے سے بھی بآسانی نشر کرتا ہے۔

 

جس وقت آیت اللہ العظمی میرزا سید محمد حسن شیرازی نے انگریزوں کی ٹوبیکو کمپنی کے قضیئے میں تنباکو کا استعمال حرام کرکے انگریزوں کی ناک خاک پر رگڑ لی؛ اور امام روح اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے بقول “میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ کی اسی آدھی سطر نے ہمارے ملک کو اجنبیوں کے حَلقُوم سے خارج کردیا”۔

 

بہرحال آیت اللہ العظمی شیرازی کے فتوے کے نتیجے میں انگریزوں کی شکست فاش کے بعد سے وزارت نو آبادیات [موجودہ MI6] نے “لندنی مولوی” پالنے کے منصوبے پر کام شروع کیا اور آج یہ سلسلہ چلتے چلتے “لندنی مرجع” کے نقطے تک پہنچ چکا ہے۔

 

شیعہ مکتب عاشورا، مرجعیت، ولایت فقیہ اور انتظار امام مہدی کی برکت سے زندہ اور پائندہ ہے اور ہمیں ان سب کی ضرورت ہے اور یہ سب ہمارے پاس ہیں، لیکن یہ سب بوڑھے سامراج اور نئے سامراج یعنی امریکہ اور برطانیہ کے پاس نہیں ہیں چنانچہ وہ جعل سازی کے راستے پر گامزن ہوکر جعلی مبلغ، جعلی مولوی اور جعلی مرجع بنانے پر اتر آتے ہیں، انہیں ایسا مرجع چاہئے جو خارجی پالیسی میں اس کا ہاتھ بٹائے، امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں مسلم ممالک پر قبضے کی مخالفت نہ کرے، دہشت گردی کے مقابلے میں مظلوم مسلم اقوام کی حمایت نہ کرے بلکہ خرافات کو دفاع اور جہاد کے متبادل کے طور پر پیش کرے، “عَلَم کو زمین پر گرا رہنے دو اور امریکی ساختہ تلواریں اپنے سر پر دے مارو”، فلسطین پر جعلی یہودی ریاست کے قبضے کو نظرانداز کرے۔ انسانیت ساز مکتب عاشورا سے قمہ زنی اور زنجیر زنی سے متعلق تمام امور کو چھوڑ کر اس سے خودزنی اور اپنا خون گرانے کا مطلب لیا کرے، بجائے اس کے کہ علمی انداز سے مکتب کا دفاع کرے اور مکتب کے لئے نظریں فراہم کرے، گالی گلوچ اور توہین و بےحرمتی کے ذریعے دوسروں کی دل آزاری کو مقصد تبلیغ گردانے، ایسا مرجع نہ تو استکبار اور آمریت و استبدادیت کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانوی ان کے لئے لندن، واشنگٹن اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ان کے دفاتر کھلوا دیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرواتے ہیں، جبکہ ان ممالک میں تشیع کی دشمنی ایک اعلانیہ رجحان ہے۔

 

جب انٹیلجنس سروس کا مسٹر جیکاک سید جیکاک بن کر صاحب کشف و کرامات بن سکتا ہے اور علاقے کے بعض ممالک میں انگریز جاسوس مولوی اور مفتی بن کر وقت کی حکومت کو کافر قرار دے کر عوامی بغاوت کے اسباب فراہم کرتے ہیں، تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ انگریزی مکتب کے شیعہ بیٹھ کر ملکہ برطانیہ کے لئے شجرہ نسب تیار کریں اور اس کو سیدہ اور بنی ہاشم کی پوتی ثابت کرنے کی کوشش کریں!!!

 

خطے میں برطانیہ کی ناک خاک پر رگڑی گئی ہے چنانچہ وہ تلافی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، لندن میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ ایک احمقانہ اور رذیلانہ منظرنامے کا حصہ تھا جس نے شیرازی فرقے کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ اس کے چہرے سے نقاب اتارا اور جو اس فرقے کی حقیقت نہیں جانتے تھے، وہ بھی اب پوچھنے لگے ہیں کہ برطانیہ تو تشیع اور اسلام کا دشمن ہے پھر شیرازی فرقے کے ساتھ اس کے تعلقات ایک ہی خاندان کے افراد کی مانند کیوں ہیں؟

 

ایم آئی6 کے کرتے دھرتے شاید ابھی تک دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ایام میں جی رہے ہیں جبکہ سید جیکاک اور اس جیسے دوسرے مکار جاسوسوں کا دور گذرچکا ہے، شیعہ نوجوان واقعی ہوشیار ہیں وہ استکباری طاقتوں کے ہتھکنڈوں کو جانتے ہیں اور ان کے دھوکے میں نہیں آتے۔

 


افکار و نظریات: انگریزی شیعہ