ووٹ کی عزت کا بیانیہ

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

مخصوص طبقوں کے مخصؤص چینلز پہ ایک ہی گردان سنائی دیتی ھے کے نواز شریف نے پہلے یہ کیا اور پہلے وہ کیا ،یقینن کیا ھو گا اور اس وقت کی ایسٹبلینٹ کے ساتھ مل کر ہی کیا ھو گا ،تنہا تو کرنے سے رہا ۔سب سے دلچسپ بات یہ ھے کے ضیالحق کے بیٹے کو تو بار بار یاد کیا جاتا ھے لیکن باپ کے کرتوتوں کا کوئی ذکر نہیں کرتا ۔

سب سے اھم سوال یہ ھے کے برائی کی طرف سے اچھائی کی جانب کا سفر بہتر ھوتا ھے یا اچھائی کی جانب سے برائی کی جانب سفر بہتر ھوتا ھے ۔اگر ماضی کے اسی فارمولے کو لے کر بہیٹھ جایں کے ماضی میں کیا کیا تو پھر اسلام کی تاریخ سے لے کر آج تک کسی کو شرف مسلمانی ھی نہیں بخشنا چائیے ۔

جمھوریت کا سب سے بڑا حسن یہ ھی ھوا کرتا ھے کے یہ اپنے ارتقائی جزئیات کے ساتھ پنپتا ھے اور ارتقا ھمیشہ مثبت ھوا کرتا ھے ۔

نواز شریف کی کبھی بھی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ نہیں بنی بلکل ویسے ھی جیسے بے نظیر کی نہیں بنی لیکن آصف زرداری کی بنی ،اب عقلمندوں کو آصف زرداری اور بے نظیر میں فرق بھی سمجھانا  ھو گا تو بہتر ھے اس موضوع پہ لکھا ھی نہ جاۓ ،

کیا نواز شریف اور بے نظیر ،آصف زرداری سے بھی زیادہ بے عقل واقع ھوے ہیں کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گزارا کرنا نہ جانتے ھوں ۔

کیا یہ حقیقت نہیں کے ریاست پاکستان میں ووٹ کی عزت نہیں اور اگر فرض محال ایک برے شخص کے منہ سے اچھی اور سچی بات نکلے تو کیا وہ بات سچی نہیں رہے گی یا بری بن جاۓ گی ۔ووٹ کی عزت ،کے بیانیے کو کس سیاست دان کے منہ سے آنا چایے تھا اور کیوں نہیں آیا ۔

کیا یہ حقیقت نہیں کے تین تین بار مارشل لا لگے اور کیا دو دو بار صرف بیس بیس ماہ کی حکومتوں کے بعد نواز شریف اور بے نظیر کو فارغ نہیں کیا گیا اور کیا جونیجو کی چھٹی نہیں کی گئی ،تو کیا یہ ووٹ کی بے توقیری نہیں تو پھر کیا ھے ۔اور سب سے اھم سوال وہ کون ھے جو اس ووٹ کی بے عزتی کرتا ھے اور کیوں کرتا ھے اور اس کو یہ حق کس نے دیا ھے ۔

نوازشریف ہزار برا سہی لیکن ووٹ کی عزت کا بیانیہ پتھر پے لکیر کی طرح ایک حقیقت ھے ۔


افکار و نظریات: ووٹ کی عزت کا بیانیہ