سیاسی ورکر

ڈاکٹر حفیظ ارحمان

سیاسی ورکر بنیادی طور پہ ایک عام شہری ھوا کرتا ھے جو ریاست کی حکومت میں اپنا کردار ادا کرتا ھے اور اس کردار کے عملی قدم کے لیے جمھوریت بہترین نظام حکومت ھے ۔جمھوریت اپنے ابتدائی نظام حکومت کے تصور سے ارتقا کرتے ھوے اب ایک فلسفے کی صورت اختیار کر گئی ھے ،یا بہ الفاظ دیگر یہ مزاج ،طرز زندگی ،رویے اور ثقافت کا حصہ بن گئی ھے ۔

آئیے ھم جمھوریت میں سیاسی ورکر کے کردار کا تعین کرتے ہیں ۔

۱:پارٹی نظریے و منشور  کی ترویج و تبلیغ کرنا ۔

۲:پارٹی کا احتساب کرنا ۔

۳:معاشرے میں جمھوری اقدار کو پروان چڑھانا ۔

مندجہ بالا تین اھم نکات کو زیر بحث لاتے ہیں ۔

سیاسی ورکر کے لیے بے حد ضروری ھے کے سب سے پہلے خود کو پارٹی نظریے اور منشور سے با خبر رکھے ۔

چونکے ایک مخلص پارٹی ورکر کے لیے یہ انتہائی اھم ھے کے وہ مسلسل پارٹی کی تبلیغ اور ترویج میں مصروف رہے اور پارٹی کو اپنی زات تک محدود نہ رکھے ،جبکے منفی سوچ و فکر کی صورت میں دیکھنے میں آتا ھے کے جا بجا اس خوف و ڈر کی وجہ سے پارٹی کو اپنی زات تک محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ھے کے قابل لوگوں کے آنے سے دیگر سیاسی ورکروں کو پسے پشت نہ کر دیا جاۓ اور سیاسی ورکر میں یہ اندیشہ اس لیے جنم لیتا ھے ،جب پارٹی جمھوری اقدار سے خود کو دور کر دیتی ھے تو پارٹی میں دربار حاضری اور خوشامدی ثقافت کو متعارف کرایا جاتا ھے ۔

بہر حال سیاسی ورکر کو اپنے کردار کو سامنے رکھتے ھوے آگے بڑھتے رہنا چائیے ،اس تبلیغ میں پارٹی ورکر کو کئی ایک سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ھے اور اسے ان سوالات کے جو ابات کے حوالے سے بھی خود کو تیار کرنا ھو گا ۔

سیاست دلیل سے قائل کرنے کا نام ھے ،سیاست گالم گلوچ کا نام نہیں ،ورنہ تو پھر یہ شدت پسندی ھے ،ایک خود کش بمبار کے پاس بھی معصوم لوگوں کو بم سے اڑانے کا جواز ھوا کرتا ھے اور اسے اپنی لیڈر شپ پہ پورا یقین بھی ھوتا ھے لیکن سوال جواز کا نہیں ،سوال انصاف کا ھے ۔

دوسرا اھم نقطہ پارٹی احتساب کا ھے ،اس زمرے میں احتساب کی نوعیت دو طرح کی ھوا کرتی ھے ۔

اندرونی احتساب ،

بیرونی احتساب ۔

اندرونی احتساب سے مراد کے پارٹی لیڈر شپ اپنے بنیادی فلسفے ،نظریے ،آئین اور منشور سے در گز ر سے کامُتو نہیں لے رہی ۔

بیرونی احتساب سے مراد پارٹی کی اپنی حکومت پہ نظر رکھنا اور یہ دیکھنا کے پارٹی اپنے منشوری  وعدوں کے مطابق کام کر رہی ھے یا نہیں ۔

تیسرااھم  نقطۂ معاشرے میں جمھوری اقدار کو فروغ دینا ،یہ انتہائی اھم کام ھے اور پھر پاکستانی معاشرے میں جہاں شدت پسندی اور انتہا پسندی بڑی تیزی سے جڑیں گاڑ رہی ھے وہاں سیاسی کارکن کی زمے داری اور بھی بڑھ جاتی ھے ۔

جمھوری اقدار میں دوسرے کے نقطہ نظر کو تحمل و برداشت سے سننا ،اتفاق پانے کی صورت میں کھلے دل سے تسلیم کرنا اور اختلاف کی حالت  میں بہتر دلیل سے قائل کرنا ۔

سیاسی ورکر کے لیے از حد ضروری ھے کے سیاسی علم و تعلیم  سے خود کو با خبر رکھے ،اندروں ملک تمام سیاسی جماعتوں کے منشور اور انکی حکومتی کارکردگی کو جانچے ،انکے رہنماؤں کو سنے ،بیرون ملک بھارت ،امریکہ اور انگلستان کی سیاسی جماعتوں کو آن لائن پڑھے ۔آج کا اچھا سیاسی ورکر کل کا بہترین سیاسی لیڈر ھو گا ۔


افکار و نظریات: سیاسی ورکر